Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #759 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 13.5K Views

سرکاری بینک سے ملنے والے منافع کا حکم از مفتی نظام الدین رضوی

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

سرکاری بینک سے ملنے والے منافع کا حکم از مفتی نظام الدین رضوی

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

سرکاری بینک سے ملنے والے منافع کا حکم

سوال : ہندوستان کے گورنمنٹی بینکوں اور مسلم ممالک کے گورنمنٹی بینکوں سے جو منافع ملتے ہیں ان کا لینا اور استعمال کرنا کیسا ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ ہندوستان کے گورنمنٹی بینکوں میں روپے جمع کرنے پر جو منافع ملتے ہیں وہ مباح ہیں ۔خواہ سیونگ اکاؤنٹ میں جمع ہو یا کرنٹ اکاؤنٹ میں فکس ڈیپوزٹ یا آر ڈی میں، نفع تھوڑا ہو یا زیادہ کسی صورت میں یہ سود نہیں بلکہ یہ جائز و حلال ہے ۔ اسے لے سکتے ہیں اور اپنے کاروبار میں بھی لگا سکتے ہیں، لیکن بہتر یہ ہے کہ اسے لے کر مسجد، مدارس، تبلیغی کاموں اور غرباء و مساکین میں خرچ کرے ۔ رہ گیا وہ نفع جو مسلم ممالک کے بینکوں میں روپے جمع کرنے پر ملتا ہے وہ سود ہے، اسے لینا ناجائز و حرام ہے مگر یہ کہ وہ نفع عقد شرکت یا عقد مضاربت کا ہو ۔ واللہ تعالی اعلم کتبہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپو ر

Kutubahu & Verified by:

<h2>سرکاری بینک سے ملنے والے منافع کا حکم</h2> سوال : ہندوستان کے گورنمنٹی بینکوں اور مسلم ممالک کے گورنمنٹی بینکوں سے جو منافع ملتے ہیں ان کا لینا اور استعمال کرنا کیسا ہے؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> ہندوستان کے گورنمنٹی بینکوں میں روپے جمع کرنے پر جو منافع ملتے ہیں وہ مباح ہیں ۔خواہ سیونگ اکاؤنٹ میں جمع ہو یا کرنٹ اکاؤنٹ میں فکس ڈیپوزٹ یا آر ڈی میں، نفع تھوڑا ہو یا زیادہ کسی صورت میں یہ سود نہیں بلکہ یہ جائز و حلال ہے ۔ اسے لے سکتے ہیں اور اپنے کاروبار میں بھی لگا سکتے ہیں، لیکن بہتر یہ ہے کہ اسے لے کر مسجد، مدارس، تبلیغی کاموں اور غرباء و مساکین میں خرچ کرے ۔ رہ گیا وہ نفع جو مسلم ممالک کے بینکوں میں روپے جمع کرنے پر ملتا ہے وہ سود ہے، اسے لینا ناجائز و حرام ہے مگر یہ کہ وہ نفع عقد شرکت یا عقد مضاربت کا ہو ۔ واللہ تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپو ر</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...