Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1403 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 9.8K Views

سر کا مسح کرنے کا مستحب طریقہ کیا ہے؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

سر کا مسح کرنے کا مستحب طریقہ کیا ہے؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

سر کا مسح کرنے کا مستحب طریقہ کیا ہے؟

الجوابـــــــــــــــــــــ حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ نے فرمایا ہے مسح سر میں مستحب طریقہ یہ ہے کہ انگوٹھے اور کلمہ کی گلیوں کے سوا ایک ہاتھ کی باقی تین انگلیوں کا سرا دوسرے ہاتھ کی تین انگلیوں کے سرے سے ملائے اور پیشانی کے بال یا کھال پر رکھ کر گدی تک اس طرح لے جائے کہ ہتھیلیاں سر سے جدا رہیں. وہاں سے ہتھیلیوں سے مسح کرتا واپس لائے اور کلمہ کی انگلی کے پیٹ سے کان کے اندرونی حصے کا مسح کرتے اور انگوٹھے کے پیٹ سے کان کی بیرونی سطح کا مسح اور انگلیوں کی پشت سے گردن کا مسح کرے. (جلد 2 صفحہ 20) اورمسح سر میں ادائے سنت کو یہ بھی کافی ہے کہ انگلیاں سر کے اگلے حصہ پر رکھے اور ہتھیلی سر کی کروٹوں پر اور ہاتھ جما کر گدی تک کہنچتا لے جائے. ایسا ہی حاشیہ فتاوی رضویہ جلد اول صفحہ 230 میں ہے. اور فتاوی عالمگیری مع خانیہ جلد اول صفحہ 7 پر ہے “والاظہر انہ یضع کفیہ واصابعہ علی مقدم راسہ ویمدھما الی قفاہ علی وجہ یستوعب جمیع الراس ١ھ. واللہ تعالی اعلم کتبہ : مفتی خورشید احمد مصباحی الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی

Kutubahu & Verified by:

<h2>سر کا مسح کرنے کا مستحب طریقہ کیا ہے؟</h2> <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــ</strong></span> حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ نے فرمایا ہے مسح سر میں مستحب طریقہ یہ ہے کہ انگوٹھے اور کلمہ کی گلیوں کے سوا ایک ہاتھ کی باقی تین انگلیوں کا سرا دوسرے ہاتھ کی تین انگلیوں کے سرے سے ملائے اور پیشانی کے بال یا کھال پر رکھ کر گدی تک اس طرح لے جائے کہ ہتھیلیاں سر سے جدا رہیں. وہاں سے ہتھیلیوں سے مسح کرتا واپس لائے اور کلمہ کی انگلی کے پیٹ سے کان کے اندرونی حصے کا مسح کرتے اور انگوٹھے کے پیٹ سے کان کی بیرونی سطح کا مسح اور انگلیوں کی پشت سے گردن کا مسح کرے. (جلد 2 صفحہ 20) اورمسح سر میں ادائے سنت کو یہ بھی کافی ہے کہ انگلیاں سر کے اگلے حصہ پر رکھے اور ہتھیلی سر کی کروٹوں پر اور ہاتھ جما کر گدی تک کہنچتا لے جائے. ایسا ہی حاشیہ فتاوی رضویہ جلد اول صفحہ 230 میں ہے. اور فتاوی عالمگیری مع خانیہ جلد اول صفحہ 7 پر ہے<span style="color: #ff0000;"><strong> "والاظہر انہ یضع کفیہ واصابعہ علی مقدم راسہ ویمدھما الی قفاہ علی وجہ یستوعب جمیع الراس ١ھ.</strong></span> واللہ تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : مفتی خورشید احمد مصباحی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...