01
The questionSawaal
اصل سوالسفر معراج میں حضور ﷺ اورموسیٰ علیہماالسلام کامکالمہ
02
The responseAl-Jawab
سفر معراج میں حضور ﷺ اورموسیٰ علیہماالسلام کامکالمہ
دیداراور شرف ہم کلامی کے بعد ہم سب کے آقا جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملے، حضرت ابراہیم نے کچھ نہیںکہا، پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچے،اور بولے: وَنِعْمَ الصَّاحِبُ کَانَ لَکُمْ(ہارون آپ کے کتنے اچھے ساتھی ہیں) پھر پوچھا :مَاصَنَعْتَ یَا مَحَمَّدُ! اے محمد! کیا کیا آپ نے؟ آپ کے رب نے آپ پراور آپ کی اُمت پر کیا فرض کیا؟ حضور نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اور میری اُمت پر رات دن میں پچاس نمازیں فرض فرمائی ہیں۔ حضرت موسیٰ بولے: واپس جائیے اور اپنے رب سے اپنے اور اپنی اُمت پر تخفیف کا سوال کیجیے، اس لیے کہ آپ کی اُمت اس کو نہیںکر سکے گی، آپ سے پہلے میں لوگوں کو آزما چکا ہوں، میں نے بنی اسرائیل کو آزمایا میں نے اس سے کمتر پر انہیں مشق کرایا، ابھارا مگر وہ اس سے بھی عاجز رہے اور چھوڑ بیٹھے۔ آپ کی اُمت تو جسم، بدن، دل، آنکھ اور کان کے اعتبا رسے اور زیادہ کمزور ہے۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت جبرئیل سے مشورے کے لیے متوجہ ہوئے ، حضرت جبرئیل نے کہا ٹھیک ہے اگر آپ چاہیں تو جائیں۔ چنانچہ حضور مقامِ مناجات پر واپس پہنچے اور سجدے میں گِر گئے پھر رب کے حضور عرض کیا کہ اے میرے رب! میری اُمت پر تخفیف فرمادے کہ وہ بہت کمزور اُمت ہے، رب تعالیٰ نے فرمایا: میں نے پانچ نمازیں کم کردیں۔ پھر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام حضرت موسیٰ کے پاس آئے اور کہا کہ رب تعالیٰ نے پانچ نمازیں کم فرمادی ہیں۔ حضرت موسیٰ بولے: واپس جائیے اور کم کرائیے۔ آپ کی اُمت اتنا نہ کرسکے گی، حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت موسیٰ اور اپنے رب کے پاس آتے جاتے رہے، پانچ پانچ نمازیں کم ہوتی رہیں یہاں تک کہ اللہ رب العزت نے فرمایا: یَا مُحَمَّدُ، اے محمد! عرض کیا: لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ۔ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا: وہ دن رات کی پانچ نمازیں ہیں ہر نماز دس نماز کے برابر رہے گی اس طرح پچاس نمازیں ہوں گی۔ میرا فرمان بدلتا نہیں اور میرا حکم منسوخ نہیں ہوتا۔ جس نے نیکی کا ارادہ کیا مگر نیکی نہ کر سکا اس کے لیے ایک نیکی لکھی جائے گی اور وہ نیک کام جس کا ارادہ کیا تھا کرلیا تو دس نیکیاں ملیں گی، اور جس نے کسی برے کام کا ارادہ کیا مگر وہ برا کام کیا نہیں تو اس پر کوئی گناہ نہ لکھا جائے گا اور گناہ کرلیا تو ایک ہی گناہ لکھا جائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر حضرت موسیٰ کے پاس تشریف لائے اور انہیں بتایا، موسیٰ علیہ السلام نے پھر واپس جانے اور کم کرانے کو کہا،حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: میں اتنی بار اپنے رب سے تخفیف کی درخواست کرچکا ہوں کہ اب مجھے شرمندگی ہورہی ہے،اب میں راضی برضااور سرتسلیم خم کرتاہوں۔ تو کسی ندا دینے والے نے ندا دی: میں نے اپنے فرض کو نافذ کردیا اور اپنے بندوں پر تخفیف بھی کردی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضور سے کہا: اللہ کے نام سے اُتریں۔معراج سے واپسی
جب آپ نے آسمانِ دنیا پر نزول فرمایا وہاں سے نیچے کی طرف دیکھا وہاں خوب دھواں اور آوازیں تھیں، حضور نے دریافت فرمایا: جبرئیل! یہ کیا ہے؟ بولے: یہ شیاطین ہیں جو اُن اولادِ آدم کی آنکھوں پر منڈلاتے ہیں جو آسمان وزمین کی بادشاہت میں غوروفکر نہیں کرتے، اگر ایسا نہ ہوتا تو ضرور لوگ عجائب وغرائب کامشاہدہ کرتے۔ پھر آپ بیت المقدس پہنچ کر دوبارہ براق پر سوار ہوئے، آپ کا گزر قریش کے ایک قافلے پر ہوا، قافلے میں ایک اونٹ پر دو تھیلے بندھے تھے، ایک سفید رنگ کا دوسرا سیاہ رنگ کا،جب آپ قافلے کے سامنے گئے،قافلہ منتشر اور متفرق ہوگیا، اور اس کے اعضا ٹوٹ گئے۔ ایک اور قافلے سے گزرے جن کااونٹ گم ہوگیا تھا، کچھ لوگ آپ سے ملے تو آپ نے انہیں سلام کیا، کسی نے کہا کہ آواز محمد کی لگ رہی ہے۔ پھر صبح سے کچھ پہلے آپ مکہ میں اپنے اصحاب کے پاس آگئے۔آخری پڑاؤ
جب صبح ہوئی، آپ خاموش رہے اور معلوم ہوگیا کہ لوگ آپ کی تکذیب کریں گے ، آپ غمگین ونڈھال ہوکر بیٹھ گئے، اتنے میں د شمنِ خدا ابوجہل کا آپ کے پاس سے گزر ہوا، آکر آپ کے پاس بیٹھ گیا، از راہِ مذاق آپ سے کہنے لگا کوئی نئی بات ہے؟ حضور نے فرمایا: ہاں، بولا وہ کیا ہے؟ حضور نے فرمایا: آج مجھے سیر کرائی گئی ہے۔ بولا کہاں کی سیر؟ فرمایا: بیت المقدس تک، ابوجہل بولا پھر بھی آپ نے ہمارے درمیان صبح کی، حضور نے فرمایا ہاں،اور آپ نے لوگوں کی تکذیب کی پروانہ کی، بولا اگر میں آپ کی قوم کو بلالوں تو ان کے سامنے بھی یہ بات کہوگے؟ فرمایا:ہاں کہوں گا۔ اس نے کہابنوکعب بن لؤی آئو، قوم کے لوگوں کو بلایا، محفلیں آپ کی طرف متوجہ ہوئیں، لوگ آکر دونوں کے پاس بیٹھ گئے، ابوجہل بولا: جو بات تم نے مجھ سے کہی ہے اپنی قوم سے کہو۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آج کی شب مجھے سیر کرائی گئی۔ لوگوں نے پوچھا کہاں تک؟ فرمایا بیت المقدس تک کی سیر۔ کفار بولے پھر بھی آپ نے ہمارے درمیان صبح کی۔ حضور نے ارشاد فرمایا: ہاں۔ یہ سن کر از راہ تعجب کوئی تالی بجانے لگا تو کوئی اپنا سرپیٹنے لگا۔ انہوں نے شوروغل کیا اور اسے عقل سے بعید سمجھا۔ مطعم ابن عدی بولا: آج سے پہلے تمہاری ہر بات آسان ،قابل قبول تھی لیکن آج کی بات بالکل جھوٹی ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ جھوٹے ہو۔ ہم بیت المقدس کا سفر کرتے ہیں تو ایک مہینہ جانے اور ایک مہینہ آنے میں لگ جاتا ہے، آپ کا دعویٰ ہے کہ ایک رات میں واپس آگئے۔ لات وعزیٰ کی قسم! میں آپ کی بات نہیں مان سکتا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے مطعم! تونے بہت بری بات کہی، تو نے ان کو برا بھلا کہا اور جھٹلایا، میں اعلان کرتا ہوں کہ وہ سچے ہیں۔ کفار بولے بیت المقدس کا حلیہ بیان کرو، اس کی عمارت کیسی ہے؟ شکل وصورت کیسی ہے؟ پہاڑ سے کتنا قریب ہے؟ قوم کے کن افراد نے اس کا سفر کیا ہے؟ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بیان فرمانے لگے کہ اس کی عمارت ایسی ہے، اس کی شکل ایسی ہے، پہاڑ سے اتنا قریب ہے۔ جس وقت آپ کفار سے بیان کررہے تھے اس وقت آپ پر اس کے اوصاف مشتبہ ہوگئے۔ اس پر آپ کو ایسا غم لاحق ہوا کہ اس سے قبل آپ اس طرح کبھی غمگین نہ ہوئے تھے۔ اتنے میں بیت المقدس کو آپ کے سامنے رکھ دیا گیا۔ کفار نے پوچھا بیت المقدس کے دروازے کتنے ہیں؟ آپ نے شمار نہیں کیا تھا پھر بھی آپ نے ایک ایک دروازے کی نشاندہی فرمائی اور انہیں آگاہ کیا۔ اس دوران حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے جارہے تھے: صَدَقْتَ، صَدَقْتَ، اَشْہَدُ اَنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ آپ نے بالکل سچ فرمایا، میں اعلان کرتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ قوم نے کہا کہ بخدا! اوصاف تو انہوں نے صحیح بتایا ہے، پھرحضرت ابوبکر سے بولے کیا تم اس بات کی تصدیق کروگے کہ رات میں بیت المقدس گئے اور صبح سے پہلے واپس بھی آگئے؟ حضرت صدیق اکبر نے جواب دیا ہاں، میں تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی اُن باتوں میں بھی تصدیق کروں گا جو عقلاً اِس سے بعید تر ہوں۔ میں صبح وشام ان کی آسمانی خبروں کی تصدیق کرتا رہتا ہوں۔ اس تصدیق کی بنا پر آپ کا نام ’’صدیق‘‘ ہوگیا۔ پھر کافروں نے کہا اے محمد! ہمیں ہمارے قافلے کی خبر دیں۔ آپ نے فرمایا: مقام رَوحاء پر فلاں قبیلے کے قافلے کو میں نے دیکھا ان کی اونٹنی گم ہوگئی تھی وہ اسے تلاش کررہے تھے، میں ان کے پڑاؤ پر گیا وہاں ان میں کا کوئی نہیں تھا، وہاں پانی کا ایک پیالہ تھا میں نے اس سے نوش کیا، پھر میں فلاں قبیلے کے قافلے پر فلاں مقام پر آیا اس قافلے میں سرخ رنگ کا ایک اونٹ تھا اس پر سیاہ وسفید رنگ کے تھیلے تھے جب میں قافلے کے سامنے گیاتو ان کا اونٹ بدکا ،زمین پرگرپڑااور اس کے اعضاٹوٹ گئے، پھر مقامِ تنعیم پر ایک قافلے کو دیکھا اس کے آگے آگے خاکستری رنگ کا اونٹ چل رہاتھا اس کے اوپر ایک ٹاٹ اور کالے رنگ کے دو تھیلے تھے اور سنو عنقریب وہ مقام ِثنیہ سے آجائے گا۔ کفار بولے :وہ قافلہ ثنیہ سے کب تک آجائے گا؟ حضور نے ارشاد فرمایا: بدھ تک آجائے گا جب وہ دن آیا قریش قافلے کا انتظار کرنے لگے، دن ڈوبنے کے قریب ہوگیا مگر قافلہ نہ آیا تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی دعا پر دن کا کچھ حصہ بڑھا دیاگیا اور سورج کو غروب ہونے سے روک دیاگیا یہاں تک کہ قافلہ آپہنچا۔ اب کفار طرح طرح کے سوالات کرنے لگے۔ پوچھا کیا تمہاری اونٹنی گم ہوگئی تھی؟ جواب ملا ہاں۔ کیا تمہاری سرخ اونٹنی غائب ہوئی تھی؟ جواب ملا ہاں۔ سوال کیا تمہارے پاس پانی کا پیالہ تھا؟ ایک شخص بولا: بخدا! میں نے اسے رکھا تھا ہم میں سے کسی نے اسے نہیں پیا اور نہ اسے انڈیلا گیا۔ اسے کفار مکہ نے جادو پر محمول کیا اور بولے کہ ولید نے سچ کہا تھا(کہ وہ جادوگرہیں)۔ اس پراللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ’’وَمَا جَعَلْنَا الرُّء ْیَا الَّتِیٓ اَرَیْنٰکَ اِلَّا فِتْنَۃً لِّلنَّاسِ۔( اور ہم نے نہ کیا وہ دکھاواجو تمہیں دکھایا تھا مگر لوگوں کی آزمائش کو۔ (سورۃ الاسراء :۶۰) نازل فرمایا۔ اللہ رب العزت ہم سب کے آقا ومولیٰ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور ان کی آل واصحاب پر خوب خوب درود وسلام نازل فرمائے۔ الحمد للہ! ہم نے اس کتاب میں شامی(صاحب سبل الہدیٰ والرشاد) اورنجم الدین غیطی کی دونوں روایتوں کو ضبط اور تصحیح وتعلیق کے ساتھ جمع کردیا ہے۔ ماخوذ از کتاب : معراج حبیب ﷺ پوری کتاب پڑھنے کے لئے کلک کریں
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.