Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1334
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
12.3K Views
سنت غیر مؤکدہ یا نفل میں قعدہ اولیٰ کے بعد درود پاک پڑھ دیا تو کیا حکم ہے ؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
سنت غیر مؤکدہ یا نفل میں قعدہ اولیٰ کے بعد درود پاک پڑھ دیا تو کیا حکم ہے ؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
سنت غیر مؤکدہ یا نفل میں قعدہ اولیٰ کے بعد درود پاک پڑھ دیا تو کیا حکم ہے ؟
سنت غیر موکدہ اور دعاے قنوت سے متعلق دو اہم مسائل السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل میں اگر کوئی شخص سنت غیر مؤکدہ یا نفل میں قعدہ اولیٰ کے بعد درود پاک پڑھا اللھم صلی علی محمد تک کیا اس پر سجدہ سہو واجب ہوگا ۔ 2 ) وتر میں دعائے قنوت(اللہم انا نستعینک الاخر) ہی پڑھنا واجب ہے یا کوئی اور دعائیں ۔ ان دونوں سوالوں کا جواب عنایت فرماکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں ۔ سائل محمد بلال احمد غازی پور الجواب بعون الملک الوھاب ١) سنت غیر موکدہ اور نفل نماز میں قعدہ اولی میں تشھد کے بعد درود شریف اور دعاے ماثورہ پڑھنا مستحب ہے،اس لئے سنت غیر موکدہ اور نوافل کے قعدہ اولی میں “اللھم صل علی محمد” پڑھنے سے سجدہ سہو واجب نہیں ہوگا، ہاں چار رکعتی فرض یا سنت موکدہ میں قعدہ اولی کے بعد اس قدر درود پڑھا یا اتنی دیر یوں ہی بیٹھا رہا تو سجدہ سہو واجب ہوجائے گا. در مختار مع ردالمحتار میں ہے: (ولا يصلى على النبي صلى الله عليه وسلم في القعدة الأولى في الأربع قبل الظهر والجمعة وبعدها) ولو صلى ناسيا فعليه السهو، وقيل لا شمني (ولا يستفتح إذا قام إلى الثالثة منها) لأنها لتأكدها أشبهت الفريضة (وفي البواقي من ذوات الأربع يصلي على النبي) صلى الله عليه وسلم (ويستفتح) ويتعوذ ولو نذرا لأن كل شفع صلاة.(٢/ ١٦) بہار شریعت میں ہے : نفل نماز شروع کی اگرچہ چار کی نیت باندھی جب بھی دو ہی رکعت شروع کرنے والا قرار دیا جائے گا کہ نفل کا ہر شفع (یعنی دو رکعت) علیحدہ علیحدہ نماز ہے۔ (عالمگیری) بہار شریعت حصہ چہارم ص ٦٧٤) جو سنت مؤکدہ چار رکعتی ہے اس کے قعدہ ٔاولیٰ میں صرف التحیات پڑھے اگر بھول کر درود شریف پڑھ لیا تو سجدۂ سہو کرے اور ان سنتوں میں جب تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہوا تو سُبْحٰنَکَ اور اَعُوْذُ بھی نہ پڑھے اور ان کے علاوہ اور چار رکعت والے نوافل کے قعدۂ اولیٰ میں بھی درود شریف پڑھے اور تیسری رکعت میں سُبْحٰنَکَ اور اَعُوْذُ بھی پڑھے،بشرطے کہ دو رکعت کے بعد قعدہ کیا ہو ورنہ پہلا سُبْحٰنَکَ اور اَعُوْذُ کافی ہے، منت کی نماز کے بھی قعدہ ٔاولیٰ میں درود پڑھے اور تیسری میں ثنا و تعوذ۔(ح چہارم ص ٦٧٢)واللہ تعالی اعلموتر میں دعائے قنوت(اللہم انا نستعینک الاخر) ہی پڑھنا واجب ہے یا کوئی اور دعائیں ۔
٢) وتر میں دعائے قنوت پڑھنا واجب ہے، اس میں کسی خاص دعا کا پڑھنا ضروری نہیں، بہتر وہ دعائیں ہیں جو نبی کریم علیہ السلام سے منقول ہیں، ان کے علاوہ بھی کوئی دعا پڑھے جب بھی حرج نہیں. بہار شریعت میں ہے: تیسری رکعت میں قراءت سے فارغ ہو کر رکوع سے پہلے کانوں تک ہاتھ اُٹھا کر ﷲ اکبر کہے جیسے تکبیر تحریمہ میں کرتے ہیں پھر ہاتھ باندھ لے اور دعائے قنوت پڑھے، دعائے قنوت کا پڑھنا واجب ہے اور اس میں کسی خاص دعا کا پڑھنا ضروری نہیں ، بہتر وہ دعائیں ہیں جو نبی صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے ثابت ہیں اور ان کے علاوہ کوئی اور دعا پڑھے جب بھی حرج نہیں ، سب میں زیادہ مشہوردُعا یہ ہے۔ اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ وَ نَسْتَغْفِرُکَ وَ نُؤْمِنُ بِکَ وَ نَتَوَکَّلُ عَلَیْکَ وَنُثْنِیْ عَلَیْکَ الْخَیْرَ کُلَّہٗ وَنَشْکُرُکَ وَلَا نَکْفُرُکَ وَ نَخْلَعُ وَنَتْرُکُ مَنْ یَّفْجُرُکَ ، اَللّٰھُمَّ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَلَکَ نُصَلِّیْ وَنَسْجُدُ وَاِلَیْکَ نَسْعٰی وَنَحْفِدُ وَنَرْجُوْ رَحْمَتَکَ وَنَخْشٰی عَذَابَکَ اِنَّ عَذَابَکَ بِالْکُفَّارِ مُلْحِقٌ . اور بہتر یہ ہے کہ اس دعا کے ساتھ وہ دعا بھی پڑھے جو حضور اقدس صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے امام حسن رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو تعلیم فرمائی وہ یہ ہے۔ اَللّٰھُمَّ اھْدِنِیْ فِیْ مَنْ ھَدَیْتَ وَعَافِنِیْ فِیْ مَنْ عَافَیْتَ وَ تَوَلَّنِیْ فِیْ مَنْ تَوَلَّیْتَ وَ بَارِکْ لِیْ فِیْ مَا اَعْطَیْتَ وَقِنِیْ شَرَّ مَا قَضَیْتَ فَاِنَّکَ تَقْضِیْ وَلَا یُقْضٰی عَلَیْکَ اِنَّہٗ لَا یَذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَ وَلَا یَعِزُّ مَنْ عَادَیْتَ تَبَارَکْتَ وَ تَعَالَیْتَ سُبْحَانَکَ رَبَّ الْبَیْتِ وَ صَلَّی اللہ عَلَی النَّبِیِّ وَاٰلِہٖ ۔ اور ایک دُعا وہ ہے جو مولیٰ علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، کہ نبی صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم آخر وتر میں پڑھتے۔ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِرَضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ وَمُعَافَاتِکَ مِنْ عُقُوْبَتِکَ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْکَ لَا اُحْصِیْ ثَنَآءً عَلَیْکَ اَنْتَ کَمَا اَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ ۔ اور حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ عَذَابَکَ الْجِدَّ بِالْکُفَّارِ مُلْحِقٌ کے بعد یہ پڑھتے تھے۔ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَاَلِّفْ بَیْنَ قُلُوْبِھِمْ وَاَصْلِحْ ذَاتَ بَیْنِھِمْ وَانْصُرْھُمْ عَلٰی عَدُوِّکَ وَعَدُوِّھِمْ اَللّٰھُمَّ الْعَنْ کَفَرَۃَ اَھْلِ الْکِتَابِ الَّذِیْنَ یُکَذِّبُوْنَ رُسُلَکَ وَیُقَاتِلُوْنَ اَوْلِیَآئَکَ اَللّٰھُمَّ خَالِفْ بَیْنَ کَلِمَتِھِمْ وَزَلْزِلْ اَقْدَامَھُمْ وَاَنْزِلْ عَلَیْھِمْ بَائْسَکَ الَّذِیْ لَمْ یُرَدَّ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ ۔(بہار شریعت ح چہارم ص ٦٦٠) واللہ اعلم بالصواب کتبہ: کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی ٦رجب ١٤٤٣/ ٨ فروری ٢٠٢٢ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
Kutubahu & Verified by:
<h3>سنت غیر مؤکدہ یا نفل میں قعدہ اولیٰ کے بعد درود پاک پڑھ دیا تو کیا حکم ہے ؟</h3> سنت غیر موکدہ اور دعاے قنوت سے متعلق دو اہم مسائل السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل میں اگر کوئی شخص سنت غیر مؤکدہ یا نفل میں قعدہ اولیٰ کے بعد درود پاک پڑھا اللھم صلی علی محمد تک کیا اس پر سجدہ سہو واجب ہوگا ۔ 2 ) وتر میں دعائے قنوت(اللہم انا نستعینک الاخر) ہی پڑھنا واجب ہے یا کوئی اور دعائیں ۔ ان دونوں سوالوں کا جواب عنایت فرماکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں ۔ سائل محمد بلال احمد غازی پور <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong> </span> <strong>١)</strong> سنت غیر موکدہ اور نفل نماز میں قعدہ اولی میں تشھد کے بعد درود شریف اور دعاے ماثورہ پڑھنا مستحب ہے،اس لئے سنت غیر موکدہ اور نوافل کے قعدہ اولی میں "اللھم صل علی محمد" پڑھنے سے سجدہ سہو واجب نہیں ہوگا، ہاں چار رکعتی فرض یا سنت موکدہ میں قعدہ اولی کے بعد اس قدر درود پڑھا یا اتنی دیر یوں ہی بیٹھا رہا تو سجدہ سہو واجب ہوجائے گا. در مختار مع ردالمحتار میں ہے: <span style="color: #ff0000;"><strong>(ولا يصلى على النبي صلى الله عليه وسلم في القعدة الأولى في الأربع قبل الظهر والجمعة وبعدها) ولو صلى ناسيا فعليه السهو، وقيل لا شمني (ولا يستفتح إذا قام إلى الثالثة منها) لأنها لتأكدها أشبهت الفريضة (وفي البواقي من ذوات الأربع يصلي على النبي) صلى الله عليه وسلم (ويستفتح) ويتعوذ ولو نذرا لأن كل شفع صلاة.(٢/ ١٦)</strong></span> بہار شریعت میں ہے : نفل نماز شروع کی اگرچہ چار کی نیت باندھی جب بھی دو ہی رکعت شروع کرنے والا قرار دیا جائے گا کہ نفل کا ہر شفع (یعنی دو رکعت) علیحدہ علیحدہ نماز ہے۔ (عالمگیری) بہار شریعت حصہ چہارم ص ٦٧٤) جو سنت مؤکدہ چار رکعتی ہے اس کے قعدہ ٔاولیٰ میں صرف التحیات پڑھے اگر بھول کر درود شریف پڑھ لیا تو سجدۂ سہو کرے اور ان سنتوں میں جب تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہوا تو سُبْحٰنَکَ اور اَعُوْذُ بھی نہ پڑھے اور ان کے علاوہ اور چار رکعت والے نوافل کے قعدۂ اولیٰ میں بھی درود شریف پڑھے اور تیسری رکعت میں سُبْحٰنَکَ اور اَعُوْذُ بھی پڑھے،بشرطے کہ دو رکعت کے بعد قعدہ کیا ہو ورنہ پہلا سُبْحٰنَکَ اور اَعُوْذُ کافی ہے، منت کی نماز کے بھی قعدہ ٔاولیٰ میں درود پڑھے اور تیسری میں ثنا و تعوذ۔(ح چہارم ص ٦٧٢)واللہ تعالی اعلم <h3><strong>وتر میں دعائے قنوت(اللہم انا نستعینک الاخر) ہی پڑھنا واجب ہے یا کوئی اور دعائیں ۔ </strong></h3> <strong>٢)</strong> وتر میں دعائے قنوت پڑھنا واجب ہے، اس میں کسی خاص دعا کا پڑھنا ضروری نہیں، بہتر وہ دعائیں ہیں جو نبی کریم علیہ السلام سے منقول ہیں، ان کے علاوہ بھی کوئی دعا پڑھے جب بھی حرج نہیں. بہار شریعت میں ہے: تیسری رکعت میں قراءت سے فارغ ہو کر رکوع سے پہلے کانوں تک ہاتھ اُٹھا کر ﷲ اکبر کہے جیسے تکبیر تحریمہ میں کرتے ہیں پھر ہاتھ باندھ لے اور دعائے قنوت پڑھے، دعائے قنوت کا پڑھنا واجب ہے اور اس میں کسی خاص دعا کا پڑھنا ضروری نہیں ، بہتر وہ دعائیں ہیں جو نبی صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے ثابت ہیں اور ان کے علاوہ کوئی اور دعا پڑھے جب بھی حرج نہیں ، سب میں زیادہ مشہوردُعا یہ ہے۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ وَ نَسْتَغْفِرُکَ وَ نُؤْمِنُ بِکَ وَ نَتَوَکَّلُ عَلَیْکَ وَنُثْنِیْ عَلَیْکَ الْخَیْرَ کُلَّہٗ وَنَشْکُرُکَ وَلَا نَکْفُرُکَ وَ نَخْلَعُ وَنَتْرُکُ مَنْ یَّفْجُرُکَ ، اَللّٰھُمَّ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَلَکَ نُصَلِّیْ وَنَسْجُدُ وَاِلَیْکَ نَسْعٰی وَنَحْفِدُ وَنَرْجُوْ رَحْمَتَکَ وَنَخْشٰی عَذَابَکَ اِنَّ عَذَابَکَ بِالْکُفَّارِ مُلْحِقٌ . </strong></span> اور بہتر یہ ہے کہ اس دعا کے ساتھ وہ دعا بھی پڑھے جو حضور اقدس صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے امام حسن رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو تعلیم فرمائی وہ یہ ہے۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>اَللّٰھُمَّ اھْدِنِیْ فِیْ مَنْ ھَدَیْتَ وَعَافِنِیْ فِیْ مَنْ عَافَیْتَ وَ تَوَلَّنِیْ فِیْ مَنْ تَوَلَّیْتَ وَ بَارِکْ لِیْ فِیْ مَا اَعْطَیْتَ وَقِنِیْ شَرَّ مَا قَضَیْتَ فَاِنَّکَ تَقْضِیْ وَلَا یُقْضٰی عَلَیْکَ اِنَّہٗ لَا یَذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَ وَلَا یَعِزُّ مَنْ عَادَیْتَ تَبَارَکْتَ وَ تَعَالَیْتَ سُبْحَانَکَ رَبَّ الْبَیْتِ وَ صَلَّی اللہ عَلَی النَّبِیِّ وَاٰلِہٖ ۔</strong></span> اور ایک دُعا وہ ہے جو مولیٰ علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، کہ نبی صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم آخر وتر میں پڑھتے۔ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِرَضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ وَمُعَافَاتِکَ مِنْ عُقُوْبَتِکَ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْکَ لَا اُحْصِیْ ثَنَآءً عَلَیْکَ اَنْتَ کَمَا اَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ ۔ اور حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ عَذَابَکَ الْجِدَّ بِالْکُفَّارِ مُلْحِقٌ کے بعد یہ پڑھتے تھے۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَاَلِّفْ بَیْنَ قُلُوْبِھِمْ وَاَصْلِحْ ذَاتَ بَیْنِھِمْ وَانْصُرْھُمْ عَلٰی عَدُوِّکَ وَعَدُوِّھِمْ اَللّٰھُمَّ الْعَنْ کَفَرَۃَ اَھْلِ الْکِتَابِ الَّذِیْنَ یُکَذِّبُوْنَ رُسُلَکَ وَیُقَاتِلُوْنَ اَوْلِیَآئَکَ اَللّٰھُمَّ خَالِفْ بَیْنَ کَلِمَتِھِمْ وَزَلْزِلْ اَقْدَامَھُمْ وَاَنْزِلْ عَلَیْھِمْ بَائْسَکَ الَّذِیْ لَمْ یُرَدَّ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ</strong></span> ۔(بہار شریعت ح چہارم ص ٦٦٠) واللہ اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>٦رجب ١٤٤٣/ ٨ فروری ٢٠٢٢</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...