Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #558 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 9K Views

سنیوں کی مسجد نہ ہو تو گھر میں نماز پڑھنے والے کیلئے اذان و اقامت کہنا

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

سنیوں کی مسجد نہ ہو تو گھر میں نماز پڑھنے والے کیلئے اذان و اقامت کہنا

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

سنیوں کی مسجد نہ ہو تو گھر میں نماز پڑھنے والے کیلئے اذان و اقامت کا حکم

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ محلہ میں غیروں کی مسجد ہے جس میں اذان و اقامت ہوتی ہے وہاں گھر میں نماز پڑھنے کیلئے اذان و اقامت دونوں ضروری ہیں یا صرف اقامت یا بغیر اقامت بھی فرض نماز پڑھی جا سکتی ہے اگر گھر میں جماعت سے پڑھیں تو اذان و اقامت کا کیا حکم ہے براے مہربانی مفصل جواب عنایت فرمائیں۔ وعلیکم السلام ورحمۃاللہ و برکاتہ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ دیوبندی وھابی بمطابق فتاوی حسام الحرمین کافر و مرتد ہیں اور کافر کی اذان اصلا اذان نہیں۔ ردالمحتار میں ہے “ﻭﺣﺎﺻﻠﻪ ﺃﻧﻪ ﻳﺼﺢ ﺃﺫاﻥ اﻟﻔﺎﺳﻖ ﻭﺇﻥ ﻟﻢ ﻳﺤﺼﻞ ﺑﻪ اﻹﻋﻼﻡ ﺃﻱ اﻻﻋﺘﻤﺎﺩ ﻋﻠﻰ ﻗﺒﻮﻝ ﻗﻮﻟﻪ ﻓﻲ ﺩﺧﻮﻝ اﻟﻮﻗﺖ ﺑﺨﻼﻑ اﻟﻜﺎﻓﺮ ﻭﻏﻴﺮ اﻟﻌﺎﻗﻞ ﻓﻼ ﻳﺼﺢ ﺃﺻﻼ” (ج٢،ص٧٦) فتاوی رضویہ میں ہے “وہابی کی اذان اذان میں شمار نہیں جواب کی حاجت نہیں اور اہلسنت کو اُس پر اکتفا کی اجازت نہیں بلکہ ضرور دوبارہ اذان کہیں درمختار میں ہے ویعاد اذان کافر وفاسق” (ج٥،ص٤٢٢) لہذا اگر اس محلہ میں صرف انہیں کی مسجد ہے اور وہی اذان دیتے ہیں تو گھر میں نماز پڑھنے والے کو خواہ تنہا پڑھے یا جماعت سے کراہت سے بچنے کیلئے اقامت کہنا ضروری ہے البتہ اذان و اقامت دونوں کہے تو زیادہ بہتر ہے۔ ہندیہ میں ہے “ﻭﻳﻜﺮﻩ ﺃﺩاء اﻟﻤﻜﺘﻮﺑﺔ ﺑﺎﻟﺠﻤﺎﻋﺔ ﻓﻲ اﻟﻤﺴﺠﺪ ﺑﻐﻴﺮ ﺃﺫاﻥ ﻭﺇﻗﺎﻣﺔ ﻛﺬا ﻓﻲ ﻓﺘﺎﻭﻯ ﻗﺎﺿﻲ ﺧﺎﻥ ﻭﻻ ﻳﻜﺮﻩ ﺗﺮﻛﻬﻤﺎ ﻟﻤﻦ ﻳﺼﻠﻲ ﻓﻲ اﻟﻤﺼﺮ ﺇﺫا ﻭﺟﺪ ﻓﻲ اﻟﻤﺤﻠﺔ ﻭﻻ ﻓﺮﻕ ﺑﻴﻦ اﻟﻮاﺣﺪ ﻭاﻟﺠﻤﺎﻋﺔ ﻫﻜﺬا ﻓﻲ اﻟﺘﺒﻴﻴﻦ ﻭاﻷﻓﻀﻞ ﺃﻥ ﻳﺼﻠﻲ ﺑﺎﻷﺫاﻥ ﻭاﻹﻗﺎﻣﺔ ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﺘﻤﺮﺗﺎﺷﻲ ﻭﺇﺫا ﻟﻢ ﻳﺆﺫﻥ ﻓﻲ ﺗﻠﻚ اﻟﻤﺤﻠﺔ ﻳﻜﺮﻩ ﻟﻪ ﺗﺮﻛﻬﻤﺎ ﻭﻟﻮ ﺗﺮﻙ اﻷﺫاﻥ ﻭﺣﺪﻩ ﻻ ﻳﻜﺮﻩ ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﻤﺤﻴﻂ ﻭﻟﻮ ﺗﺮﻙ اﻹﻗﺎﻣﺔ ﻳﻜﺮﻩ ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﺘﻤﺮﺗﺎﺷﻲ” (ج١،ص٥٤)۔ واللہ تعالی اعلم کتبـــــــہ : مفتی شان محمد المصباحی القادری ٢٠ مئی ٢٠١٩

Kutubahu & Verified by:

<h3>سنیوں کی مسجد نہ ہو تو گھر میں نماز پڑھنے والے کیلئے اذان و اقامت کا حکم</h3> السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ محلہ میں غیروں کی مسجد ہے جس میں اذان و اقامت ہوتی ہے وہاں گھر میں نماز پڑھنے کیلئے اذان و اقامت دونوں ضروری ہیں یا صرف اقامت یا بغیر اقامت بھی فرض نماز پڑھی جا سکتی ہے اگر گھر میں جماعت سے پڑھیں تو اذان و اقامت کا کیا حکم ہے براے مہربانی مفصل جواب عنایت فرمائیں۔ وعلیکم السلام ورحمۃاللہ و برکاتہ <strong>الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ</strong> دیوبندی وھابی بمطابق فتاوی حسام الحرمین کافر و مرتد ہیں اور کافر کی اذان اصلا اذان نہیں۔ ردالمحتار میں ہے "<strong>ﻭﺣﺎﺻﻠﻪ ﺃﻧﻪ ﻳﺼﺢ ﺃﺫاﻥ اﻟﻔﺎﺳﻖ ﻭﺇﻥ ﻟﻢ ﻳﺤﺼﻞ ﺑﻪ اﻹﻋﻼﻡ ﺃﻱ اﻻﻋﺘﻤﺎﺩ ﻋﻠﻰ ﻗﺒﻮﻝ ﻗﻮﻟﻪ ﻓﻲ ﺩﺧﻮﻝ اﻟﻮﻗﺖ ﺑﺨﻼﻑ اﻟﻜﺎﻓﺮ ﻭﻏﻴﺮ اﻟﻌﺎﻗﻞ ﻓﻼ ﻳﺼﺢ ﺃﺻﻼ"</strong> <strong>(ج٢،ص٧٦)</strong> فتاوی رضویہ میں ہے "وہابی کی اذان اذان میں شمار نہیں جواب کی حاجت نہیں اور اہلسنت کو اُس پر اکتفا کی اجازت نہیں بلکہ ضرور دوبارہ اذان کہیں درمختار میں ہے ویعاد اذان کافر وفاسق" <strong>(ج٥،ص٤٢٢)</strong> لہذا اگر اس محلہ میں صرف انہیں کی مسجد ہے اور وہی اذان دیتے ہیں تو گھر میں نماز پڑھنے والے کو خواہ تنہا پڑھے یا جماعت سے کراہت سے بچنے کیلئے اقامت کہنا ضروری ہے البتہ اذان و اقامت دونوں کہے تو زیادہ بہتر ہے۔ ہندیہ میں ہے "<strong>ﻭﻳﻜﺮﻩ ﺃﺩاء اﻟﻤﻜﺘﻮﺑﺔ ﺑﺎﻟﺠﻤﺎﻋﺔ ﻓﻲ اﻟﻤﺴﺠﺪ ﺑﻐﻴﺮ ﺃﺫاﻥ ﻭﺇﻗﺎﻣﺔ ﻛﺬا ﻓﻲ ﻓﺘﺎﻭﻯ ﻗﺎﺿﻲ ﺧﺎﻥ ﻭﻻ ﻳﻜﺮﻩ ﺗﺮﻛﻬﻤﺎ ﻟﻤﻦ ﻳﺼﻠﻲ ﻓﻲ اﻟﻤﺼﺮ ﺇﺫا ﻭﺟﺪ ﻓﻲ اﻟﻤﺤﻠﺔ ﻭﻻ ﻓﺮﻕ ﺑﻴﻦ اﻟﻮاﺣﺪ ﻭاﻟﺠﻤﺎﻋﺔ ﻫﻜﺬا ﻓﻲ اﻟﺘﺒﻴﻴﻦ ﻭاﻷﻓﻀﻞ ﺃﻥ ﻳﺼﻠﻲ ﺑﺎﻷﺫاﻥ ﻭاﻹﻗﺎﻣﺔ ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﺘﻤﺮﺗﺎﺷﻲ ﻭﺇﺫا ﻟﻢ ﻳﺆﺫﻥ ﻓﻲ ﺗﻠﻚ اﻟﻤﺤﻠﺔ ﻳﻜﺮﻩ ﻟﻪ ﺗﺮﻛﻬﻤﺎ ﻭﻟﻮ ﺗﺮﻙ اﻷﺫاﻥ ﻭﺣﺪﻩ ﻻ ﻳﻜﺮﻩ ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﻤﺤﻴﻂ ﻭﻟﻮ ﺗﺮﻙ اﻹﻗﺎﻣﺔ ﻳﻜﺮﻩ ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﺘﻤﺮﺗﺎﺷﻲ"</strong> <strong>(ج١،ص٥٤)۔</strong> واللہ تعالی اعلم <strong>کتبـــــــہ : مفتی شان محمد المصباحی القادری</strong> ٢٠ مئی ٢٠١٩

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...