Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1935 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 7.8K Views

سنی کا نکاح کسی اور فرقہ کا نکاح خواں پڑھا دے تو شرعاً کیا حکم ہے؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

سنی کا نکاح کسی اور فرقہ کا نکاح خواں پڑھا دے تو شرعاً کیا حکم ہے؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

سنی کا نکاح کسی اور فرقہ کا نکاح خواں پڑھا دے تو شرعاً کیا حکم ہے؟

ابورضا محمد عمران عطاری مدنی سوال: اہلسنت کا نکاح کسی اور فرقے کا نکاح خواں پڑھا دے تو شرعاً نکاح ہوجائے گا؟ الجوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں، اگر کوئی ہندو مشرك زوجین کو ایجاب وقبول رو بروئے گواہان کرا دے اور شرائط صحت متحقق ہوں نکاح ہوجائے گا۔ (فتاویٰ رضویہ جلد11صفحہ219- رضا فاؤنڈیشن لاہور) مذکورہ عبارت سے معلوم ہوا کہ نکاح میں شرعی گواہان کی موجودگی میں نکاح خواں ایجاب و قبول کر وادے اور وہ کسی بھی فرقہ سے تعلق رکھنے والا ہو تو اس طرح نکاح منعقد ہو جائے گا کیونکہ نکاح خواں محض وکیل ہوتا ہے اور وکالت کے لئے اسلام شرط نہیں ہے، لیکن اہلسنت صحیح العقیدہ کے سوا کسی اور سے نکاح نہ پڑھوایا جائے کیونکہ اس میں اس کی تعظیم کرنی پڑے گی جبکہ بدمذہب کی تعظیم جائز نہیں ہے-
امام کے نکاحانہ میں سے کچھ متولی وغیرہ کا مسجد میں لگانا کیسا ؟
عیسائی عورت سے نکاح کرنا کیسا؟

Kutubahu & Verified by:

<h3>سنی کا نکاح کسی اور فرقہ کا نکاح خواں پڑھا دے تو شرعاً کیا حکم ہے؟</h3> ابورضا محمد عمران عطاری مدنی سوال: اہلسنت کا نکاح کسی اور فرقے کا نکاح خواں پڑھا دے تو شرعاً نکاح ہوجائے گا؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب</strong></span> سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں، اگر کوئی ہندو مشرك زوجین کو ایجاب وقبول رو بروئے گواہان کرا دے اور شرائط صحت متحقق ہوں نکاح ہوجائے گا۔ (فتاویٰ رضویہ جلد11صفحہ219- رضا فاؤنڈیشن لاہور) مذکورہ عبارت سے معلوم ہوا کہ نکاح میں شرعی گواہان کی موجودگی میں نکاح خواں ایجاب و قبول کر وادے اور وہ کسی بھی فرقہ سے تعلق رکھنے والا ہو تو اس طرح نکاح منعقد ہو جائے گا کیونکہ نکاح خواں محض وکیل ہوتا ہے اور وکالت کے لئے اسلام شرط نہیں ہے، لیکن اہلسنت صحیح العقیدہ کے سوا کسی اور سے نکاح نہ پڑھوایا جائے کیونکہ اس میں اس کی تعظیم کرنی پڑے گی جبکہ بدمذہب کی تعظیم جائز نہیں ہے- <h5 class="entry-title"><a href="https://masailworld.com/nikahana-me-se-masjid-me-lena/" rel="bookmark">امام کے نکاحانہ میں سے کچھ متولی وغیرہ کا مسجد میں لگانا کیسا ؟</a></h5> <h5 class="entry-title"><a href="https://masailworld.com/ahle-kitab-se-nikah-ka-hukm/" rel="bookmark">عیسائی عورت سے نکاح کرنا کیسا؟</a></h5>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...