01
The questionSawaal
اصل سوالسود کھانے والوں کا قیامت کے دن کیا حال ہوگا؟
02
The responseAl-Jawab
سود کھانے والوں کا قیامت کے دن کیا حال ہوگا؟
السلام علیکم : سود کھانے والوں کا قیا مت کے دن کیا حال ہوگا تفصیلا بتائیں؟ المستفتی:- محمد نصیر قادری خادم دار العلوم اسلامیہ قادریہ جامع مسجد بفلیاز الجواب بعون الملك الوهاب:- سود حرام سخت حرام ہے، سود کا کاروبار کرنے والوں کے بارے میں قرآن وحدیث میں سخت وعیدیں آئی ہیں، قیامت کے دن ان لوگوں کا حال یہ ہوگا کہ سود کھانے کی وجہ سے ان کے پیٹ بہت بھاری اور بوجھل ہوجائیں گے، ان کے بوجھ سے وہ گر پڑیں گے چل نہ سکیں گے، ان کے پیٹ گھروں کی طرح خوب بڑے ہوجائیں گے جن میں سانپ بھر دیے جائیں گے جو انہیں ڈستے رہیں گے۔ خون کی نہر میں ان کو ڈالا جائے گا جس میں یہ تیرتے رہیں گے اس سے باہر نکلنے نہ دیا جائے گا- اللہ رب العزت فرماتا ہے: ” اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّؕ-ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰواۘ-وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰواؕ-فَمَنْ جَآءَهٗ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ فَانْتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَؕ-وَ اَمْرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِؕ-وَ مَنْ عَادَ فَاُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ”(۳/ ۲۷۵/البقرة) ترجمہ کنز الایمان:وہ جو سود کھاتے ہیں قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر جیسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر مخبوط بنادیاہو۔یہ اس لئے کہ انہوں نے کہا بیع بھی تو سود ہی کے مانند ہے اور اللہ نے حلال کیا بیع کو اور حرام کیاسود، تو جسے اس کے رب کے پاس سے نصیحت آئی اور وہ باز رہا تو اسے حلال ہے جو پہلے لے چکا اور اس کا کام خدا کے سپرد ہے اور جو اب ایسی حرکت کرے گا تو وہ دوزخی ہے وہ اس میں مدتوں رہیں گے- حضورصدر الافاضل فخر الاماثل علّامہ نعیم الملة والدین قدس سرہ العزیز اس آیت مقدسہ کے تحت فرماتے ہیں: معنی یہ ہیں کہ جس طرح آسیب زده سیدها کھڑا نہیں ہوسکتا گرتا پڑتا چلتا ہے، قیامت کے روز سود خوار کا ایسا ہی حال ہوگا کہ سود سے اس کا پیٹ بہت بھاری اور بوجھل ہوجائے گا اور وہ اس کے بوجھ سے گر پڑے گا- حدیث شریف میں ہے: عن جابر رضى الله عنه: قال: لعن رسول الله آکل الربا ومؤكله وكاتبه وشاهديه، وقال: هم سواء” (صحیح مسلم جزء: ۳/رقم الحدیث: ۱۵۹۸ /کتاب المساقاة،باب لعن آکل الربا ومؤكله/ دار احیاء التراث العربی) حضرت سیدناجابر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم نے سود لینے والے اور سود دینے والے اور سود کا کاغذ لکھنے والے اور اُس کے گواہوں پر لعنت فرمائی اورفرمایا کہ وہ سب برابرہیں۔ دوسری حدیث میں ہے: عن أبى هريرة رضي عنه قال: قال رسول الله : أتيت ليلة أسري بي على قوم بطونهم كالبيوت فيها الحيات، ترى من خارج بطونهم، فقلت من هؤلاء يا جبريل؟ قال هؤلاء أكلة الربا”(سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/باب التغليظ فى الربا/رقم الحديث ۲۲۷۳/موسوعة القرآن والحدیث) حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم رؤف ورحیم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: شب معراج میرا گزر ایک قوم پر ہوا جس کے پیٹ گھروں کی طرح ہیں،ان پیٹوں میں سانپ ہیں جو باہر سے دکھائی دیتے ہیں۔ میں نے پوچھا: اے جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟۔ کہا:یہ سود خور ہیں۔ تیسری حدیث میں ہے: وعن سمرة بن جندب رضي الله عنه قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: “رأيت الليلة رجلين أتياني، فأخرجاني إلى أرض مقدسة ، فانطلقنا حتى أتينا على نهر من دم فيه رجل قائم، وعلى شط النهر رجل بين يديه حجارة، فأقبل الرجل الذي في النهر، فإذا أراد أن يخرج رمى الرجل بحجر في فيه فردہ حيث كان فجعل كلما جاء ليخرج رمى في فيه بحجر فيرجع كما كان، فقلت: ما هذا الذي رأيته في النهر؟ قال: آكل الربا،رواہ البخاری”(الترغيب والترهيب ج ۳ ص ۳/المکتبة الشاملة الحديثة) حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”رات میں میں نے خواب دیکھا کہ دو آدمی میرے پاس آئے اور مجھے ایک مقدس سر زمین کی طرف لے گئے، پھر دونوں چلتے رہے یہاں تک کہ ہم لوگ خون کی ایک نہر پر پہنچے، اس میں ایک شخص کھڑا ہوا تھا اور نہر کے کنارے ایک شخص تھا جس کےسامنے پتھر تھے، نہر میں کھڑا ہوا شخص جب باہر نکلنے کے لئے کنارے کی طرف بڑھتا تو کنارے پر کھڑا ہوا شخص پتھر پھینک کر اس کے منہ پر مارتا اور اسے اسی پرانی جگہ پر واپس کر دیتا جہاں پر وہ پہلے کھڑا تھا، جب جب وہ کنارے آنے کی کوشش کرتا کنارے پر کھڑا شخص اس کے ساتھ یہی سلوک کرتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ” میں نے اپنے ساتھی(حضرت جبرئیل علیہ السلام) سے پوچھا: یہ شخص کون ہے ؟ انہوں نے عرض کیا: یہ شخص جسے آپ نے خون میں کھڑا دیکھا ہے وہ سود خور ہے جو دنیا میں سود کھایا کرتا تھا، آج اس کو اس کے اسی جرم کی سزا دی جا رہی ہے۔ (رواه البخارى) والله سبحانہ وتعالى أعلم کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ مدرس دار العلوم رضویہ اشرفیہ ایتی راجوری جموں وکشمیر ۱۰/صفر المظفر ۱۴۴۴ھ مطابق ۷/ستمبر ۲۰۲۲ء الجواب صحیح :کمال احمد علیمی نظامی دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.