Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1229 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 10.2K Views

سوشل میڈیا کے ذریعہ کیے گیے سلام کے جواب کا حکم

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

سوشل میڈیا کے ذریعہ کیے گیے سلام کے جواب کا حکم

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

سوشل میڈیا کے ذریعہ کیے گیے سلام کے جواب کا حکم

اگر کوئی سوشل میڈیا کے ذریعہ سلام کیا اور ہم نے پڑھا بھی اور اس کا جواب نہیں دیا، یا نہیں دے پائے تو شریعت کا کیا حکم ہے؟ وحید اللہ خاں: ممبئی۔ الجوابـــــــــــــــــــــــ زبانی سلام کی طرح تحریری سلام کا جواب دینا بھی واجب ہوتا ہے، بشرطے کہ سلام کرنے والا سنی مسلمان ہو اور مسنون سلام کرے۔ علامہ علاو الدین حصکفی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں: “وَيَجِبُ رَدُّ جَوَابِ كِتَابِ التَّحِيَّةِ كَرَدِّ السَّلَامِ.” (در مختار، کتاب الحظر والاباحة) علامہ شامی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “قَوْلُهُ وَيَجِبُ رَدُّ جَوَابِ كِتَابِ التَّحِيَّةِ) لِأَنَّ الْكِتَابَ مِنْ الْغَائِبِ بِمَنْزِلَةِ الْخِطَابِ مِنْ الْحَاضِرِ مُجْتَبًى وَالنَّاسُ عَنْهُ غَافِلُونَ ط. أَقُولُ: الْمُتَبَادَرُ مِنْ هَذَا أَنَّ الْمُرَادَ رَدُّ سَلَامِ الْكِتَابِ لَا رَدُّ الْكِتَابُ. لَكِنْ فِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ لِلسُّيُوطِيِّ رَدُّ جَوَابِ الْكِتَابِ حَقٌّ كَرَدِّ السَّلَامِ قَالَ شَارِحُهُ الْمُنَاوِيُّ: أَيْ إذَا كَتَبَ لَك رَجُلٌ بِالسَّلَامِ فِي كِتَابٍ وَوَصَلَ إلَيْك وَجَبَ عَلَيْك الرَّدُّ بِاللَّفْظِ أَوْ بِالْمُرَاسَلَةِ۔” (رد المحتار،کتاب الحظر والاباحة) امام اہل سنت مجدد دین وملت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “سلام جب مسنون طریقہ سے کیا گیا ہو اور سلام کرنے والا سنی مسلمان صحیح العقیدہ ہو تو جواب دینا واجب ہے اور اس کا ترک گناہ مگر اجنبی جوان عورت اگر سلام کرے تو دل میں جواب دینا چاہئے۔” (فتاوی رضویہ ج٩ نصف آخر ص٩٠) نیز مرغ بازی اور کنکیا بازی (پتنگ بازی) والوں کے سلام کے جواب کا حکم بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: “ان لوگوں سے ابتداء بسلام نہ کی جائے جواب دے سکتے ہیں، واجب نہیں۔” (فتاوی رضویہ ج ٩ نصف اول ص٢٦۴) نیز کافروں کے سلام کے جواب کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں: “کافر کو بے ضرورت ابتداء بسلام ناجائز ہے، نص علیہ فی الحدیث والفقہ۔اور ہندوستان میں وہ طرقِ تحیت جاری ہیں کہ بضرورت بھی انھیں سلام شرعی کرنے کی حاجت نہیں، مثلا یہی کافی کہ لالہ صاحب، بابو صاحب، منشی صاحب۔ یا بے سر جھکائے سر پر ہاتھ رکھ لینا، وغیر ذٰلک۔ کافر اگر بے لفظِ سلام سلام کرے تو ایسے ہی الفاظِ رائجہ جواب میں بس ہیں۔ اور بلفظ سلام ابتداء کرے تو علماء فرماتے ہیں’ جواب میں “وعلیک” کہے، مگر یہ لفظ یہاں مخصوص باہل اسلام ٹھہرا ہوا ہے۔ اور وہ کافر بھی اسے جوابِ سلام نہ سمجھے گا، بلکہ اپنے ساتھ استہزاءخیال کرے گا تو جس لفظ سے مناسب جانے جواب دے لے، اگرچہ سلام کے جواب میں سلام ہی کہہ کر۔فقد نص محمد انہ ینوی فی الجواب السلام ، فافہم۔” (فتاوی رضویہ ج٩ نصف اول ص٦۵، ٦٦) چوں کہ سوشل میڈیا پر سلام کرنے والے کا ارادہ کسی خاص شخص کو سلام کرنا نہیں ہوتا ہے، بلکہ گروپ کو سلام کرنا ہوتا ہے اس لیے ظاہر یہ ہے کہ کسی ایک کا جواب دیدینا کافی ہوگا اور بہتر یہی ہے کہ گروپ سے جڑا ہوا جو بھی پڑھے سب جواب دیں۔ ہاں! اگر خاص کسی شخص کو مخاطب کرکے سلام کیا تو اسی کو جواب دینا واجب ہوگا۔ فتاوی عالم گیری میں ہے: “وَفِي النَّوَازِلِ رَجُلٌ جَالِسٌ مَعَ قَوْمٍ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ رَجُلٌ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ فَرَدَّهُ بَعْضُ الْقَوْمِ يَنُوبُ ذَلِكَ عَنْ الَّذِي سَلَّمَ عَلَيْهِ الْمُسَلِّمُ وَيَسْقُطُ عَنْهُ الْجَوَابُ، يُرِيدُ بِهِ إذَا أَشَارَ إلَيْهِمْ وَلَمْ يُسَمِّ؛ لِأَنَّ قَصْدَهُ التَّسْلِيمُ عَلَى الْكُلِّ، وَيَجُوزُ أَنْ يُشَارَ إلَى الْجَمَاعَةِ بِخِطَابِ الْوَاحِدِ هَذَا إذَا لَمْ يُسَمِّ ذَلِكَ الرَّجُلَ، فَأَمَّا إذَا سَمَّاهُ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا زَيْدُ فَأَجَابَهُ غَيْرُ زَيْدٍ لَا يَسْقُطُ الْفَرْضُ عَنْ زَيْدٍ، وَإِنْ لَمْ يُسَمِّ وَأَشَارَ إلَى زَيْدٍ يَسْقُطُ؛ لِأَنَّ قَصْدَهُ التَّسْلِيمُ عَلَى الْكُلِّ، كَذَا فِي الْمُحِيطِ. (فتاوی عالم گیری،کتاب الکراہیہ، الباب السابع فی السلام وتشمیت العاطس) اور اگر کسی نے ایک گروپ والوں کو سلام کیا اور کسی نے اس کو دوسرے گروپ پر فارورڈ کردیا تو دوسرے گروپ والوں میں سے کسی کے جواب دینے سے پہلا گروپ بری الذمہ نہ ہوگا، جس طرح ایک مجلس والوں کو سلام کرنے پر دوسری مجلس کے کسی فرد کا جواب ناکافی ہے۔ صدر الشریعہ علامہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “جن لوگوں کو اس نے سلام کیا ان میں سے کسی نے جواب نہ دیا، بلکہ کسی اور نے جو اس مجلس سے خارج تھا جواب دیا تو یہ جواب اہلِ مجلس کی طرف سے نہیں ہوا یعنی وہ لوگ بریٔ الذمہ نہ ہوئے۔” (بہار شریعت ح ١٦ ص۴٦٣) اب چوں کہ سوشل میڈیا سے سلام کی صورت میں کسی خاص شخص پر جواب واجب نہیں ہے اس لیے فوراً جوابِ سلام بھی واجب نہ ہوگا۔ ہاں! اگر کسی خاص شخص کو میسیج سے سلام کیا جائے تو اس پر پڑھنے کے وقت فوراً جواب واجب ہوگا، خواہ زبان سے جواب دے یا لکھ کر بشکل میسیج بھیج دے ۔اب اگر فوراً جواب لکھ کر نہ بھیجنا ہو تو زبان سے جواب دے دے، کیوں کہ سلام کا جواب فورا واجب ہے ۔ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “خط میں سلام لکھا ہوتا ہے اس کا بھی جواب دینا واجب ہے۔ اور یہاں جواب دو طرح ہوتا ہے، ایک یہ کہ زبان سے جواب دے، دوسری صورت یہ ہے کہ سلام کا جواب لکھ کر بھیجے۔ مگر چونکہ جواب سلام فوراً دینا واجب ہے جیسا کہ اوپر مذکور ہوا تو اگر فوراً تحریری جواب نہ ہو جیسا کہ عموما ً یہی ہوتا ہے کہ خط کا جواب فوراً ہی نہیں لکھا جاتا ، خواہ مخواہ کچھ دیر ہوتی ہے تو زبان سے جواب فوراً دے دے، تاکہ تاخیر سے گناہ نہ ہو۔ اسی وجہ سے علامہ سید احمد طحطاوی نے اس جگہ فرمایا: ” وَالنَّاسُ عَنْہُ غَافِلُوْنَ” ۔ یعنی لوگ اس سے غافل ہیں ۔ اعلیٰ حضرت قبلہ قدس سرہ جب خط پڑھا کرتے تو خط میں جو السَّلام عَلَیْکُمْ لکھا ہوتا اس کا جواب زبان سے دے کر بعد کا مضمون پڑھتے۔” (بہار شریعت ح١٦ ص۴٦٦) اور اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “ہمارے نزدیک جوابِ سلام علی الفور ہے، تاخیر میں اثم ہوگا، حتی قالوا لو اخر الی آخر الکتاب کرہ۔” (فتاوی رضویہ ج٩ ص١٣٠) ھذا ما ظھر لی واللہ سبحانہ و تعالی اعلم ۔ کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔یوپی۔ ٢٢/جمادی الآخرہ ١۴۴٣ھ/٢٦/جنوری ٢٠٢٢ء

Kutubahu & Verified by:

<h2>سوشل میڈیا کے ذریعہ کیے گیے سلام کے جواب کا حکم</h2> اگر کوئی سوشل میڈیا کے ذریعہ سلام کیا اور ہم نے پڑھا بھی اور اس کا جواب نہیں دیا، یا نہیں دے پائے تو شریعت کا کیا حکم ہے؟ وحید اللہ خاں: ممبئی۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــ</strong></span> زبانی سلام کی طرح تحریری سلام کا جواب دینا بھی واجب ہوتا ہے، بشرطے کہ سلام کرنے والا سنی مسلمان ہو اور مسنون سلام کرے۔ علامہ علاو الدین حصکفی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں: <span style="color: #ff0000;"><strong>"وَيَجِبُ رَدُّ جَوَابِ كِتَابِ التَّحِيَّةِ كَرَدِّ السَّلَامِ."</strong></span> (در مختار، کتاب الحظر والاباحة) علامہ شامی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: <span style="color: #ff0000;"><strong>"قَوْلُهُ وَيَجِبُ رَدُّ جَوَابِ كِتَابِ التَّحِيَّةِ) لِأَنَّ الْكِتَابَ مِنْ الْغَائِبِ بِمَنْزِلَةِ الْخِطَابِ مِنْ الْحَاضِرِ مُجْتَبًى وَالنَّاسُ عَنْهُ غَافِلُونَ ط. أَقُولُ: الْمُتَبَادَرُ مِنْ هَذَا أَنَّ الْمُرَادَ رَدُّ سَلَامِ الْكِتَابِ لَا رَدُّ الْكِتَابُ. لَكِنْ فِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ لِلسُّيُوطِيِّ رَدُّ جَوَابِ الْكِتَابِ حَقٌّ كَرَدِّ السَّلَامِ قَالَ شَارِحُهُ الْمُنَاوِيُّ: أَيْ إذَا كَتَبَ لَك رَجُلٌ بِالسَّلَامِ فِي كِتَابٍ وَوَصَلَ إلَيْك وَجَبَ عَلَيْك الرَّدُّ بِاللَّفْظِ أَوْ بِالْمُرَاسَلَةِ۔"</strong></span> (رد المحتار،کتاب الحظر والاباحة) امام اہل سنت مجدد دین وملت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: "سلام جب مسنون طریقہ سے کیا گیا ہو اور سلام کرنے والا سنی مسلمان صحیح العقیدہ ہو تو جواب دینا واجب ہے اور اس کا ترک گناہ مگر اجنبی جوان عورت اگر سلام کرے تو دل میں جواب دینا چاہئے۔" (فتاوی رضویہ ج٩ نصف آخر ص٩٠) نیز مرغ بازی اور کنکیا بازی (پتنگ بازی) والوں کے سلام کے جواب کا حکم بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: "ان لوگوں سے ابتداء بسلام نہ کی جائے جواب دے سکتے ہیں، واجب نہیں۔" (فتاوی رضویہ ج ٩ نصف اول ص٢٦۴) نیز کافروں کے سلام کے جواب کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں: "کافر کو بے ضرورت ابتداء بسلام ناجائز ہے، نص علیہ فی الحدیث والفقہ۔اور ہندوستان میں وہ طرقِ تحیت جاری ہیں کہ بضرورت بھی انھیں سلام شرعی کرنے کی حاجت نہیں، مثلا یہی کافی کہ لالہ صاحب، بابو صاحب، منشی صاحب۔ یا بے سر جھکائے سر پر ہاتھ رکھ لینا، وغیر ذٰلک۔ کافر اگر بے لفظِ سلام سلام کرے تو ایسے ہی الفاظِ رائجہ جواب میں بس ہیں۔ اور بلفظ سلام ابتداء کرے تو علماء فرماتے ہیں' جواب میں "وعلیک" کہے، مگر یہ لفظ یہاں مخصوص باہل اسلام ٹھہرا ہوا ہے۔ اور وہ کافر بھی اسے جوابِ سلام نہ سمجھے گا، بلکہ اپنے ساتھ استہزاءخیال کرے گا تو جس لفظ سے مناسب جانے جواب دے لے، اگرچہ سلام کے جواب میں سلام ہی کہہ کر۔فقد نص محمد انہ ینوی فی الجواب السلام ، فافہم۔" (فتاوی رضویہ ج٩ نصف اول ص٦۵، ٦٦) چوں کہ سوشل میڈیا پر سلام کرنے والے کا ارادہ کسی خاص شخص کو سلام کرنا نہیں ہوتا ہے، بلکہ گروپ کو سلام کرنا ہوتا ہے اس لیے ظاہر یہ ہے کہ کسی ایک کا جواب دیدینا کافی ہوگا اور بہتر یہی ہے کہ گروپ سے جڑا ہوا جو بھی پڑھے سب جواب دیں۔ ہاں! اگر خاص کسی شخص کو مخاطب کرکے سلام کیا تو اسی کو جواب دینا واجب ہوگا۔ فتاوی عالم گیری میں ہے: <span style="color: #ff0000;"><strong>"وَفِي النَّوَازِلِ رَجُلٌ جَالِسٌ مَعَ قَوْمٍ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ رَجُلٌ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ فَرَدَّهُ بَعْضُ الْقَوْمِ يَنُوبُ ذَلِكَ عَنْ الَّذِي سَلَّمَ عَلَيْهِ الْمُسَلِّمُ وَيَسْقُطُ عَنْهُ الْجَوَابُ، يُرِيدُ بِهِ إذَا أَشَارَ إلَيْهِمْ وَلَمْ يُسَمِّ؛ لِأَنَّ قَصْدَهُ التَّسْلِيمُ عَلَى الْكُلِّ، وَيَجُوزُ أَنْ يُشَارَ إلَى الْجَمَاعَةِ بِخِطَابِ الْوَاحِدِ هَذَا إذَا لَمْ يُسَمِّ ذَلِكَ الرَّجُلَ، فَأَمَّا إذَا سَمَّاهُ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا زَيْدُ فَأَجَابَهُ غَيْرُ زَيْدٍ لَا يَسْقُطُ الْفَرْضُ عَنْ زَيْدٍ، وَإِنْ لَمْ يُسَمِّ وَأَشَارَ إلَى زَيْدٍ يَسْقُطُ؛ لِأَنَّ قَصْدَهُ التَّسْلِيمُ عَلَى الْكُلِّ، كَذَا فِي الْمُحِيطِ.</strong></span> (فتاوی عالم گیری،کتاب الکراہیہ، الباب السابع فی السلام وتشمیت العاطس) اور اگر کسی نے ایک گروپ والوں کو سلام کیا اور کسی نے اس کو دوسرے گروپ پر فارورڈ کردیا تو دوسرے گروپ والوں میں سے کسی کے جواب دینے سے پہلا گروپ بری الذمہ نہ ہوگا، جس طرح ایک مجلس والوں کو سلام کرنے پر دوسری مجلس کے کسی فرد کا جواب ناکافی ہے۔ صدر الشریعہ علامہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: "جن لوگوں کو اس نے سلام کیا ان میں سے کسی نے جواب نہ دیا، بلکہ کسی اور نے جو اس مجلس سے خارج تھا جواب دیا تو یہ جواب اہلِ مجلس کی طرف سے نہیں ہوا یعنی وہ لوگ بریٔ الذمہ نہ ہوئے۔" (بہار شریعت ح ١٦ ص۴٦٣) اب چوں کہ سوشل میڈیا سے سلام کی صورت میں کسی خاص شخص پر جواب واجب نہیں ہے اس لیے فوراً جوابِ سلام بھی واجب نہ ہوگا۔ ہاں! اگر کسی خاص شخص کو میسیج سے سلام کیا جائے تو اس پر پڑھنے کے وقت فوراً جواب واجب ہوگا، خواہ زبان سے جواب دے یا لکھ کر بشکل میسیج بھیج دے ۔اب اگر فوراً جواب لکھ کر نہ بھیجنا ہو تو زبان سے جواب دے دے، کیوں کہ سلام کا جواب فورا واجب ہے ۔ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: "خط میں سلام لکھا ہوتا ہے اس کا بھی جواب دینا واجب ہے۔ اور یہاں جواب دو طرح ہوتا ہے، ایک یہ کہ زبان سے جواب دے، دوسری صورت یہ ہے کہ سلام کا جواب لکھ کر بھیجے۔ مگر چونکہ جواب سلام فوراً دینا واجب ہے جیسا کہ اوپر مذکور ہوا تو اگر فوراً تحریری جواب نہ ہو جیسا کہ عموما ً یہی ہوتا ہے کہ خط کا جواب فوراً ہی نہیں لکھا جاتا ، خواہ مخواہ کچھ دیر ہوتی ہے تو زبان سے جواب فوراً دے دے، تاکہ تاخیر سے گناہ نہ ہو۔ اسی وجہ سے علامہ سید احمد طحطاوی نے اس جگہ فرمایا: " وَالنَّاسُ عَنْہُ غَافِلُوْنَ" ۔ یعنی لوگ اس سے غافل ہیں ۔ اعلیٰ حضرت قبلہ قدس سرہ جب خط پڑھا کرتے تو خط میں جو السَّلام عَلَیْکُمْ لکھا ہوتا اس کا جواب زبان سے دے کر بعد کا مضمون پڑھتے۔" (بہار شریعت ح١٦ ص۴٦٦) اور اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: "ہمارے نزدیک جوابِ سلام علی الفور ہے، تاخیر میں اثم ہوگا، حتی قالوا لو اخر الی آخر الکتاب کرہ۔" (فتاوی رضویہ ج٩ ص١٣٠) ھذا ما ظھر لی واللہ سبحانہ و تعالی اعلم ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔یوپی۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>٢٢/جمادی الآخرہ ١۴۴٣ھ/٢٦/جنوری ٢٠٢٢ء</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...