01
The questionSawaal
اصل سوالسونا چاندی کی بجائے درخت ہو تو کیا اس پر زکوۃ واجب ہے؟
02
The responseAl-Jawab
سونا چاندی کی بجائے درخت ہو تو کیا اس پر زکوۃ واجب ہے؟
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ اگر کسی شخص کے پاس سونا چاندی اور نہ ہی روپیہ ہے لیکن اس کے پاس درخت ہے کیا اس پر زکوۃ واجب ہے. اور اگر واجب ہے تو درختوں کی زکوۃ کس طرح ادا کرے گا؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــ صورت مسؤلہ میں جس شخص کے پاس درختوں کے علاوہ سونا، چاندی نہیں اور نہ ہی مال تجارت ہے اور نہ اتنے روپیے ہیں کہ بازار میں ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونا خرید سکتا ہے تو اس پر زکات واجب نہیں. اس لئے کہ درخت پر اس زکوۃ نہیں البتہ ان کے پھلوں میں عشر واجب ہے چاہے تھوڑے ہو یا زیادہ. حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں جو چیز زمین کے تابع ہو جیسے درخت اس میں عشر نہیں( بہار شریعت حصہ پنجم صفحہ 53) اور حضرت علامہ ابن نجیم علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں ” لا عشر فیما ھو تابع للارض کالنخل والاشجار لانہ بمنزلۃ جزء الارض” (بحر الرائق جلد دوم صفحہ 238) اور جو ہرہ نیرہ جلد اول صفحہ 155 میں ہے ” العشر عندہ یجب فی قلیل الثمار وکثیرھا لانہ لا یعتبر فیھا النصاب” واللہ تعالی اعلم الجواب صحیح :مفتی جلال الدین احمد الامجدی کتبہ : مفتی محمد ابرار احمد امجدی برکاتی
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.