01
The questionSawaal
اصل سوالسُود خور کے پیچھے نماز پڑھنا / سود کھانے والے کے پیچھے نماز ؟
02
The responseAl-Jawab
سُود خور کے پیچھے نماز پڑھنا
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں امام سود کا لین دین کرتا ہے اور اس یہ کام مشہور بھی ہے کیا ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے؟ سائل حافظ سلطان عطاری اَلْـجَــــــــــــــــــوَابُ (سُود کا لین دین ناجائز و حرام ہے اگر اِمَام مسجد اس فعلِ قَبِیح کا مُرتَکِب ہے اور سود کے لین دین میں مشہور بھی ہے تو وہ فاسقِ مُعلِن ہے اور فاسِقِ مُعلِن کے پیچھے نماز مکروہِ تحریمی واجبُ الاِعادہ ہے- (فتاویٰ رضویہ شریف میں ہے، کہ سود خور فاسق ہے اور فاسق کے پیچھے نماز ناقص و مکروہ، اگر پڑھ لی تو پھیری جائے اگر چہ مدت گزر چکی ہو، ولہٰذا اسے ہر گز امام نہ کیا جائے جہاں امامت کرتا ہو بشرط قدرت معزول کرکے امام متقی صَحِیحُ العَقِیدَہ صَحِیحُ القرأۃ مقرر کریں، اگر قدرت نہ پائیں تو جمعہ کے لئے دوسری مسجد میں جائیں یونہی پنجگانہ میں خواہ اپنی دوسری جماعت یہیں کرلیں- صغیری میں-یکرہ تقدیم الفاسق کراھۃ تحریم- (یعنی: فاسق کی تقدیم(یعنی امامت مکروہ تحریمی ہے۔ (صغیری شرح منیۃ المصلی مباحث الامامت-صفحہ262) (بحوالہ فتاویٰ رضویہ جلد6-صفحہ390- رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ کتبـــــــہ :ابورضا محمد عمران عطاری عفی عنہ
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.