Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #728
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
9.9K Views
شادی اور منگنی کے لیے ستارہ دیکھنا کیسا ہے
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
شادی اور منگنی کے لیے ستارہ دیکھنا کیسا ہے
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
شادی اور منگنی کے لیے ستارہ دیکھنا کیسا ہے ؟
سوال : بچوں کی شادی اور منگنی کے لیے ستارہ دیکھنا کیسا ہے اور قمر در عقرب آجائے تو کیا شادی اور منگنی ملتوی کردیں؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــ اسلام میں ” قمر در عقرب” کوئی چیز نہیں اور سعد ونحس بھی کوئی چیز نہیں ۔ ہمارے لئے ہر دن اور ہر گھڑی جو سنت کی پیروی میں گزرے مبارک ہے ۔ اس وجہ سے ہر دن شادی ہو سکتی ہے نہ اس میں جنتری کا سعدونحس دیکھنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی ستارہ دیکھنے کی حاجت ہے۔ ہاں یہ لحاظ رہے کی سنت کے مطابق ہو اور شرعی طور پر خرابیوں سے پاک ہو ، اور کام بسم اللہ پڑھ کر شروع کیا جائے، مسلمانوں کو اپنا ہر کام اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی کے مطابق کرنا چاہیے ،اور شادی بیاہ بھی سنت کی ادائیگی کی نیت سے کرنا چاہیے، پھر تو مسلمان کی ہر گھڑی اور ہر دن مبارک ہے اور سعد ہی سعد ہے ۔ ہاں عام دنوں میں بدھ، جمعرات، جمعہ یا دو شنبہ کا دن ہو تو زیادہ بہتر ہے ، لیکن ساتوں دنوں میں جو بھی دن ہو جس ٹائم بھی ہو ، نکاح جائز اور بالکل درست ہے ۔ والله تعالى اعلم بالصواب کتبــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور
Kutubahu & Verified by:
<h2> شادی اور منگنی کے لیے ستارہ دیکھنا کیسا ہے ؟</h2> سوال : بچوں کی شادی اور منگنی کے لیے ستارہ دیکھنا کیسا ہے اور قمر در عقرب آجائے تو کیا شادی اور منگنی ملتوی کردیں؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> اسلام میں " قمر در عقرب" کوئی چیز نہیں اور سعد ونحس بھی کوئی چیز نہیں ۔ ہمارے لئے ہر دن اور ہر گھڑی جو سنت کی پیروی میں گزرے مبارک ہے ۔ اس وجہ سے ہر دن شادی ہو سکتی ہے نہ اس میں جنتری کا سعدونحس دیکھنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی ستارہ دیکھنے کی حاجت ہے۔ ہاں یہ لحاظ رہے کی سنت کے مطابق ہو اور شرعی طور پر خرابیوں سے پاک ہو ، اور کام <span style="color: #ff0000;"><strong>بسم اللہ</strong></span> پڑھ کر شروع کیا جائے، مسلمانوں کو اپنا ہر کام اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی کے مطابق کرنا چاہیے ،اور شادی بیاہ بھی سنت کی ادائیگی کی نیت سے کرنا چاہیے، پھر تو مسلمان کی ہر گھڑی اور ہر دن مبارک ہے اور سعد ہی سعد ہے ۔ ہاں عام دنوں میں بدھ، جمعرات، جمعہ یا دو شنبہ کا دن ہو تو زیادہ بہتر ہے ، لیکن ساتوں دنوں میں جو بھی دن ہو جس ٹائم بھی ہو ، نکاح جائز اور بالکل درست ہے ۔ والله تعالى اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور </strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...