شادی کے موقع پر ایک نا معقول بات کہلوانے کا حکم کیا جملہ کفریہ ہے ؟
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
شادی کے موقع پر ایک نا معقول بات کہلوانے کا حکم از مفتی محمد نظام الدین قادری مصباحی جامعہ علیمیہ
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
استاذ العلماء حضرت مفتی محمد نظام الدین کی بارگاہ میں عرض ہے کہ
ہمیں اپنی شادی کے وقت، نکاح کے بعد کچھ جگہ غلط رسم و رواج عورتیں کرتی ہیں. میرے ساتھ ایسا مسئلہ ہوا کہ ایک عورت نکاح کے بعد ایک عورت ہمیں لڑکی کے پاس لے گئی اور اس عورت نے ہمیں یہ کہنے کو بولا
آپ بولیے آپ اپنے ساس اور سسر کا گھر بھر رہے ہیں یہ جملہ ہم نے کہ دیا
دوسری مرتبہ وہ عورت بولی کہ کہو آپ اللہ تعالیٰ کا گھر بھر رہے ہیں . ہم نے کچھ سمجھا نہیں اور یہ جملہ بول دیا. بعد میں سمجھ آیا کہ یہ جملہ میں نے غلط کہا ہے ۔ یہ کفریہ جملہ ہے۔ اب ایسی صورت میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟
جواب عطا فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔
المستفتی محمد اظہر علیمی ممبئی
الجواب، اللہم ہدایة الحق والصواب
“گھر بھرنا” اردو زبان کا ایک محاورہ ہے، جس کے معانی کے بارے میں لغت کی معروف کتاب “فرہنگِ آصفیہ” میں ہے:
” گھر بھرنا : (ہ) فعل متعدی ١_ مکان کو اسباب یا غلہ وغیرہ سے پُر کرنا۔ ٢_ دوسرے کی دولت چُراکر اپنے یہاں جمع کرنا، مال مارنا، دولت گھسیٹنا، پیسہ سمیٹنا، اپنے گھر کو آسودہ بنانا۔٣_ گھاٹا پورا ہونا، جبرِ نقصان ہونا۔ ۴_ فعل لازم: مہمانوں یا لوگوں کا مکان میں جمع ہونا، مکان اٹنا، سوراخ بند ہونا، چھید بند ہونا۔
(فرہنگِ آصفیہ ج۴ ص١١٨)
اور انہی معنوں کی تلخیص فیروز اللغات میں یوں کی گئی ہے: (ا۔ محاورہ) مکان کو اسباب یا غلے سے پُر کرنا۔٢_ دولت گھسیٹنا۔٣_ گھاٹا پورا کرنا۔۴_ لوگوں کو مکان میں جمع کرنا۔”
(فیروز اللغات)
لیکن ان اقوال کو آپ نے کس طرح “کفریہ جملہ” سمجھا یہ مجھ پر واضح نہ ہوسکا ،اور نہ آپ نے کوئی وجہ تحریر کی ۔
آپ کو کہلوائے گیےجملوں میں بعض معنی(جیسے: دوسرے کی دولت چُرا کر اپنے یہاں جمع کرنا، مال مارنا)کے اعتبار سے معصیت کا قول ضرور ہے،لیکن جب تک کسی قطعی معصیت کو حلال سمجھنا متحقق نہ ہو اس پر حکمِ کفر نہیں ہوتا ہے ۔ اب اگر آپ نے معصیت والے معنی مراد لیتے ہوئے مذکورہ جملے کہے ہوں تو اللہ کریم کی بارگاہ میں توبہ کرلیجیے اللہ تعالی تواب ورحیم ہے، اور اگر بغیر معنی سمجھے ہوئے آپ نے وہ اقوال ادا کیے ہوں تب بھی توبہ بہتر ہے اور آئندہ بغیر سمجھے کسی کی تلقین پر کوئی بات کہنے سے احتراز کیجیے ۔
ھذا ما ظہر لی۔ والعلم بالحق عند اللہ العلیم الخبیر، وھو سبحانہ وتعالی اعلم۔
کتبہ:محمد نظام الدین قادری: خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی۔بستی۔ یوپی۔
١٣/شوال المکرم ١۴۴٢ھ// ٢٦/مئی ٢٠٢١ء