Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #113 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 5.9K Views

شادی کے موقع پر ایک نا معقول بات کہلوانے کا حکم کیا جملہ کفریہ ہے ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

شادی کے موقع پر ایک نا معقول بات کہلوانے کا حکم کیا جملہ کفریہ ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

شادی کے موقع پر ایک نا معقول بات کہلوانے کا حکم از مفتی محمد نظام الدین قادری مصباحی جامعہ علیمیہ


السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

استاذ العلماء حضرت مفتی محمد نظام الدین کی بارگاہ میں عرض ہے کہ

ہمیں اپنی شادی کے وقت، نکاح کے بعد کچھ جگہ غلط رسم و رواج عورتیں کرتی ہیں. میرے ساتھ ایسا مسئلہ ہوا کہ ایک عورت نکاح کے بعد ایک عورت ہمیں لڑکی کے پاس لے گئی اور اس عورت نے ہمیں یہ کہنے کو بولا

آپ بولیے آپ اپنے ساس اور سسر کا گھر بھر رہے ہیں یہ جملہ ہم نے کہ دیا

دوسری مرتبہ وہ عورت بولی کہ کہو آپ اللہ تعالیٰ کا گھر بھر رہے ہیں . ہم نے کچھ سمجھا نہیں اور یہ جملہ بول دیا. بعد میں سمجھ آیا کہ یہ جملہ میں نے غلط کہا ہے ۔ یہ کفریہ جملہ ہے۔ اب ایسی صورت میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟

جواب عطا فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔

المستفتی محمد اظہر علیمی ممبئی


الجواب، اللہم ہدایة الحق والصواب

“گھر بھرنا” اردو زبان کا ایک محاورہ ہے، جس کے معانی کے بارے میں لغت کی معروف کتاب “فرہنگِ آصفیہ” میں ہے:

” گھر بھرنا : (ہ) فعل متعدی ١_ مکان کو اسباب یا غلہ وغیرہ سے پُر کرنا۔ ٢_ دوسرے کی دولت چُراکر اپنے یہاں جمع کرنا، مال مارنا، دولت گھسیٹنا، پیسہ سمیٹنا، اپنے گھر کو آسودہ بنانا۔٣_ گھاٹا پورا ہونا، جبرِ نقصان ہونا۔ ۴_ فعل لازم: مہمانوں یا لوگوں کا مکان میں جمع ہونا، مکان اٹنا، سوراخ بند ہونا، چھید بند ہونا۔

(فرہنگِ آصفیہ ج۴ ص١١٨)

اور انہی معنوں کی تلخیص فیروز اللغات میں یوں کی گئی ہے: (ا۔ محاورہ) مکان کو اسباب یا غلے سے پُر کرنا۔٢_ دولت گھسیٹنا۔٣_ گھاٹا پورا کرنا۔۴_ لوگوں کو مکان میں جمع کرنا۔”

(فیروز اللغات)

لیکن ان اقوال کو آپ نے کس طرح “کفریہ جملہ” سمجھا یہ مجھ پر واضح نہ ہوسکا ،اور نہ آپ نے کوئی وجہ تحریر کی ۔

آپ کو کہلوائے گیےجملوں میں بعض معنی(جیسے: دوسرے کی دولت چُرا کر اپنے یہاں جمع کرنا، مال مارنا)کے اعتبار سے معصیت کا قول ضرور ہے،لیکن جب تک کسی قطعی معصیت کو حلال سمجھنا متحقق نہ ہو اس پر حکمِ کفر نہیں ہوتا ہے ۔ اب اگر آپ نے معصیت والے معنی مراد لیتے ہوئے مذکورہ جملے کہے ہوں تو اللہ کریم کی بارگاہ میں توبہ کرلیجیے اللہ تعالی تواب ورحیم ہے، اور اگر بغیر معنی سمجھے ہوئے آپ نے وہ اقوال ادا کیے ہوں تب بھی توبہ بہتر ہے اور آئندہ بغیر سمجھے کسی کی تلقین پر کوئی بات کہنے سے احتراز کیجیے ۔

ھذا ما ظہر لی۔ والعلم بالحق عند اللہ العلیم الخبیر، وھو سبحانہ وتعالی اعلم۔

کتبہ:محمد نظام الدین قادری: خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی۔بستی۔ یوپی۔

١٣/شوال المکرم ١۴۴٢ھ// ٢٦/مئی ٢٠٢١ء

Kutubahu & Verified by:

<h1 style="direction: rtl;"><span style="font-size: 14pt;">شادی کے موقع پر ایک نا معقول بات کہلوانے کا حکم از مفتی محمد نظام الدین قادری مصباحی جامعہ علیمیہ</span></h1> <hr style="direction: rtl;" /> <p style="direction: rtl;"><span style="font-size: 14pt;">السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ</span></p> <p style="direction: rtl;"><span style="font-size: 14pt;">استاذ العلماء حضرت مفتی محمد نظام الدین کی بارگاہ میں عرض ہے کہ</span></p> <p style="direction: rtl;"><span style="font-size: 14pt;">ہمیں اپنی شادی کے وقت، نکاح کے بعد کچھ جگہ غلط رسم و رواج عورتیں کرتی ہیں. میرے ساتھ ایسا مسئلہ ہوا کہ ایک عورت نکاح کے بعد ایک عورت ہمیں لڑکی کے پاس لے گئی اور اس عورت نے ہمیں یہ کہنے کو بولا</span></p> <p style="direction: rtl;"><span style="font-size: 14pt;">آپ بولیے آپ اپنے ساس اور سسر کا گھر بھر رہے ہیں یہ جملہ ہم نے کہ دیا</span></p> <p style="direction: rtl;"><span style="font-size: 14pt;">دوسری مرتبہ وہ عورت بولی کہ کہو آپ اللہ تعالیٰ کا گھر بھر رہے ہیں . ہم نے کچھ سمجھا نہیں اور یہ جملہ بول دیا. بعد میں سمجھ آیا کہ یہ جملہ میں نے غلط کہا ہے ۔ یہ کفریہ جملہ ہے۔ اب ایسی صورت میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟</span></p> <p style="direction: rtl;"><span style="font-size: 14pt;">جواب عطا فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔</span></p> <p style="direction: rtl;"><span style="font-size: 14pt;">المستفتی محمد اظہر علیمی ممبئی</span></p> <hr style="direction: rtl;" /> <p style="direction: rtl;"><span style="font-size: 14pt; font-family: Wingdings;">الجواب، اللہم ہدایة الحق والصواب</span></p> <p style="direction: rtl;"><span style="font-size: 14pt;">"گھر بھرنا" اردو زبان کا ایک محاورہ ہے، جس کے معانی کے بارے میں لغت کی معروف کتاب "فرہنگِ آصفیہ" میں ہے:</span></p> <p style="direction: rtl;"><span style="font-size: 14pt;">" گھر بھرنا : (ہ) فعل متعدی ١_ مکان کو اسباب یا غلہ وغیرہ سے پُر کرنا۔ ٢_ دوسرے کی دولت چُراکر اپنے یہاں جمع کرنا، مال مارنا، دولت گھسیٹنا، پیسہ سمیٹنا، اپنے گھر کو آسودہ بنانا۔٣_ گھاٹا پورا ہونا، جبرِ نقصان ہونا۔ ۴_ فعل لازم: مہمانوں یا لوگوں کا مکان میں جمع ہونا، مکان اٹنا، سوراخ بند ہونا، چھید بند ہونا۔</span></p> <p style="direction: rtl;"><span style="color: #0000ff;"><strong><span style="font-size: 14pt;">(فرہنگِ آصفیہ ج۴ ص١١٨)</span></strong></span></p> <p style="direction: rtl;"><span style="font-size: 14pt;">اور انہی معنوں کی تلخیص فیروز اللغات میں یوں کی گئی ہے: (ا۔ محاورہ) مکان کو اسباب یا غلے سے پُر کرنا۔٢_ دولت گھسیٹنا۔٣_ گھاٹا پورا کرنا۔۴_ لوگوں کو مکان میں جمع کرنا۔" </span></p> <p style="direction: rtl;"><span style="color: #0000ff;"><strong><span style="font-size: 14pt;">(فیروز اللغات)</span></strong></span></p> <p style="direction: rtl;"><span style="font-size: 14pt;">لیکن ان اقوال کو آپ نے کس طرح "کفریہ جملہ" سمجھا یہ مجھ پر واضح نہ ہوسکا ،اور نہ آپ نے کوئی وجہ تحریر کی ۔</span></p> <p style="direction: rtl;"><span style="font-size: 14pt;">آپ کو کہلوائے گیےجملوں میں بعض معنی(جیسے: دوسرے کی دولت چُرا کر اپنے یہاں جمع کرنا، مال مارنا)کے اعتبار سے معصیت کا قول ضرور ہے،لیکن جب تک کسی قطعی معصیت کو حلال سمجھنا متحقق نہ ہو اس پر حکمِ کفر نہیں ہوتا ہے ۔ اب اگر آپ نے معصیت والے معنی مراد لیتے ہوئے مذکورہ جملے کہے ہوں تو اللہ کریم کی بارگاہ میں توبہ کرلیجیے اللہ تعالی تواب ورحیم ہے، اور اگر بغیر معنی سمجھے ہوئے آپ نے وہ اقوال ادا کیے ہوں تب بھی توبہ بہتر ہے اور آئندہ بغیر سمجھے کسی کی تلقین پر کوئی بات کہنے سے احتراز کیجیے ۔</span></p> <p style="direction: rtl;"><span style="font-size: 14pt;">ھذا ما ظہر لی۔ والعلم بالحق عند اللہ العلیم الخبیر، وھو سبحانہ وتعالی اعلم۔</span></p> <p style="direction: rtl;"><strong><span style="font-size: 14pt; color: #0000ff;">کتبہ:محمد نظام الدین قادری: خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی۔بستی۔ یوپی۔</span></strong></p> <p style="direction: rtl;"><strong><span style="font-size: 14pt; color: #0000ff;"> ١٣/شوال المکرم ١۴۴٢ھ// ٢٦/مئی ٢٠٢١ء</span></strong></p> <h2 class="entry-title" style="direction: rtl;"></h2> <p style="direction: rtl;"></p>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...