Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1482 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 8.7K Views

شراب کے نشہ میں طلاق لکھنے کی اجازت دی تو ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

شراب کے نشہ میں طلاق لکھنے کی اجازت دی تو ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

شراب کے نشہ میں طلاق لکھنے کی اجازت دی تو ؟ مسئلہ:- از :- سید اشفاق احمد القادری، امبیڈکر نگر زید شادی شدہ ہے اس کی بیوی بقید حیات ہے اس کا ہندہ سے ناجائز تعلق ہو گیا یہاں تک کہ شادی کی نوبت آ پہنچی تو ہندہ نے زید سے کہا کہ تم اپنی بیوی کو طلاق لکھ کر بھیج دوں تو زید نے کہا میں لکھنا نہیں جانتا اس پر ہندہ نے کہا کہ میں لکھ کر بھیج دوں تو زید نے کہا کہ لکھ کر دیدو۔ ہندہ نے زید کی اجازت پر طلاق نامہ لکھ کر بھیج دیا تو ایسی صورت میں کونسی طلاق پڑی۔ زید کہتا ہے کہ میں نے شراب کے نشے میں اجازت دی ہے۔ بینوا توجروا الجوابــــــــــــــــــــــــــ صورت مسئولہ میں زید شراب پینے اور ہندہ سے ناجائز تعلق رکھنے کے سبب دونوں سخت گنہگار مستحق عذاب نار لائق قہر قہار ہیں دونوں پر لازم ہے کہ اعلانیہ توبہ و استغفار کریں اور ہندہ عورتوں کے مجمع میں اور زید مردوں کی پنچایت میں کم از کم ایک ایک گھنٹہ اپنے سر پر قرآن مجید لیے کھڑے رہیں اور یہ عہد کریں کہ آئندہ ایسی غلطی نہیں کریں گے اور انہیں قرآن خوانی و میلاد شریف کرنے غرباء کو کھانا کھلانے اور مسجد میں لوٹا چٹائی رکھنے کی تلقین کی جائے کہ نیکیاں قبول توبہ میں معاون ہوتی ہیں۔ خدا تعالی کا ارشاد ہے :” ومن تاب وعمل صالحاً فإنه يتوب الي الله متابا. (پ ۱۹ سورہ فرقان آیت ۷۱) اور جب کہ زید کی اجازت پر ہندہ نے طلاق لکھ کر بھیجا تو طلاق واقع ہوگئی اگرچہ بوقت اجازت زید شراب کے نشے میں تھا رد المختار جلد سوم صفحہ 46 پر ہے:” لو قال للکاتب اکتب طلاق امرأتی کان اقرارا بالطلاق وان لم یکتب۔ اھ ۔ اور فتاویٰ عالمگیری مع خانیہ جلد اول صفحہ 353 پر ہے :” طلاق السکران واقع اذا سکر من الخمر او النبیذ وہو مذہب اصحابنا رحمہم اللہ تعالیٰ کذا فی المحیط۔” اور حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں :” نشہ والے نے طلاق دی تو واقع ہو جائے گی خواہ شراب پینے سے ہو یا بھنگ وغیرہ کسی اور چیز سے اہم ملخصا۔” اور تحریر فرماتے ہیں:” دوسرے سے طلاق لکھوا کر بھیجیں تو طلاق ہو جائے گی لکھنے والے سے کہا کہ میری عورت کو طلاق دے دے تو یہ اقرار طلاق ہے یعنی طلاق ہو جائے گی اگرچہ وہ نہ لکھے۔ ( بہار شریعت حصہ ہشتم صفحہ ۹) اور اگر زید نے طلاق کے متعلق صرف اتنا کہا تھا کہ لکھ کر بھیج دو اور طلاق کی تعداد یا اس کی نوعیت نہیں بتائی تھی تو ایک طلاق رجعی واقع ہوئی اس صورت میں زید عدت کے اندر عورت کی مرضی کے بغیر رجعت کر سکتا ہے۔ نکاح کی ضرورت نہیں یعنی عورت سے کہے کہ میں نے تجھے واپس لیا یا اس کے ساتھ ہمبستری وغیرہ کرلے ۔ لیکن عدت گزر جانے کے بعد عورت کی مرضی سے دوبارہ نکاح کرنا پڑے گا حلالہ کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:” الطلاق مرتن فامساك بمعروف او تسريح باحسان.” (پ ۲ سورہ بقرہ، آیت ۲۲۹) البتہ اگر تین طلاق کی اجازت دی تھی یا تعداد نہیں بتائی تھی مگر لکھنے والے نے تین طلاق لکھ کر اسے سنایا اور اس نے تین سے انکار نہ کیا تو اس صورت میں عورت مغلظہ ہوگئی اب بغیر حلالہ اس کے نکاح میں نہیں آسکتی ۔ خدائے تعالی کا ارشاد ہے:” فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره.” (پ۲ سورہ بقرہ،آیت ۲۳۰) اور حلالہ کی صورت یہ ہے کہ طلاق کی عدت گزرنے کے بعد عورت دوسرے سے نکاح صحیح کرے پھر وہ دوسرے شوہر سے ہمبستری کرنے کے بعد طلاق دے دے دے یا مر جائے پھر طلاق یا موت کی عدت گزر جانے کے بعد شوہر اول سے نکاح جائز ہوگا ۔ فتاویٰ عالمگیری مع خانیہ جلد اول صفحہ 473 پر ہے:” ام كان الطلاق ثلاثا لم تحل له حتي تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها او يموت عنها كذا في الهدايه. ا ه‍ ملخصا” اور شوہر ثانی کی ہمبستری کے بغیر حلالہ صحیح نہیں ہوگا۔ کما فی حدیث العسیلۃ۔۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ الجواب الصحیح:- جلال الدین أحمد الامجدی۔ کتبہ:- اشتیاق احمد الرضوی المصباحی

Kutubahu & Verified by:

شراب کے نشہ میں طلاق لکھنے کی اجازت دی تو ؟ مسئلہ:- از :- سید اشفاق احمد القادری، امبیڈکر نگر زید شادی شدہ ہے اس کی بیوی بقید حیات ہے اس کا ہندہ سے ناجائز تعلق ہو گیا یہاں تک کہ شادی کی نوبت آ پہنچی تو ہندہ نے زید سے کہا کہ تم اپنی بیوی کو طلاق لکھ کر بھیج دوں تو زید نے کہا میں لکھنا نہیں جانتا اس پر ہندہ نے کہا کہ میں لکھ کر بھیج دوں تو زید نے کہا کہ لکھ کر دیدو۔ ہندہ نے زید کی اجازت پر طلاق نامہ لکھ کر بھیج دیا تو ایسی صورت میں کونسی طلاق پڑی۔ زید کہتا ہے کہ میں نے شراب کے نشے میں اجازت دی ہے۔ بینوا توجروا <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> صورت مسئولہ میں زید شراب پینے اور ہندہ سے ناجائز تعلق رکھنے کے سبب دونوں سخت گنہگار مستحق عذاب نار لائق قہر قہار ہیں دونوں پر لازم ہے کہ اعلانیہ توبہ و استغفار کریں اور ہندہ عورتوں کے مجمع میں اور زید مردوں کی پنچایت میں کم از کم ایک ایک گھنٹہ اپنے سر پر قرآن مجید لیے کھڑے رہیں اور یہ عہد کریں کہ آئندہ ایسی غلطی نہیں کریں گے اور انہیں قرآن خوانی و میلاد شریف کرنے غرباء کو کھانا کھلانے اور مسجد میں لوٹا چٹائی رکھنے کی تلقین کی جائے کہ نیکیاں قبول توبہ میں معاون ہوتی ہیں۔ خدا تعالی کا ارشاد ہے :<span style="color: #ff0000;"><strong>" ومن تاب وعمل صالحاً فإنه يتوب الي الله متابا.</strong></span> (پ ۱۹ سورہ فرقان آیت ۷۱) اور جب کہ زید کی اجازت پر ہندہ نے طلاق لکھ کر بھیجا تو طلاق واقع ہوگئی اگرچہ بوقت اجازت زید شراب کے نشے میں تھا رد المختار جلد سوم صفحہ 46 پر ہے:<strong>" لو قال للکاتب اکتب طلاق امرأتی کان اقرارا بالطلاق وان لم یکتب۔ اھ ۔</strong> اور فتاویٰ عالمگیری مع خانیہ جلد اول صفحہ 353 پر ہے :" طلاق السکران واقع اذا سکر من الخمر او النبیذ وہو مذہب اصحابنا رحمہم اللہ تعالیٰ کذا فی المحیط۔" اور حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں :" نشہ والے نے طلاق دی تو واقع ہو جائے گی خواہ شراب پینے سے ہو یا بھنگ وغیرہ کسی اور چیز سے اہم ملخصا۔" اور تحریر فرماتے ہیں:" دوسرے سے طلاق لکھوا کر بھیجیں تو طلاق ہو جائے گی لکھنے والے سے کہا کہ میری عورت کو طلاق دے دے تو یہ اقرار طلاق ہے یعنی طلاق ہو جائے گی اگرچہ وہ نہ لکھے۔ ( بہار شریعت حصہ ہشتم صفحہ ۹) اور اگر زید نے طلاق کے متعلق صرف اتنا کہا تھا کہ لکھ کر بھیج دو اور طلاق کی تعداد یا اس کی نوعیت نہیں بتائی تھی تو ایک طلاق رجعی واقع ہوئی اس صورت میں زید عدت کے اندر عورت کی مرضی کے بغیر رجعت کر سکتا ہے۔ نکاح کی ضرورت نہیں یعنی عورت سے کہے کہ میں نے تجھے واپس لیا یا اس کے ساتھ ہمبستری وغیرہ کرلے ۔ لیکن عدت گزر جانے کے بعد عورت کی مرضی سے دوبارہ نکاح کرنا پڑے گا حلالہ کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:" الطلاق مرتن فامساك بمعروف او تسريح باحسان." (پ ۲ سورہ بقرہ، آیت ۲۲۹) البتہ اگر تین طلاق کی اجازت دی تھی یا تعداد نہیں بتائی تھی مگر لکھنے والے نے تین طلاق لکھ کر اسے سنایا اور اس نے تین سے انکار نہ کیا تو اس صورت میں عورت مغلظہ ہوگئی اب بغیر حلالہ اس کے نکاح میں نہیں آسکتی ۔ خدائے تعالی کا ارشاد ہے:" فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره." (پ۲ سورہ بقرہ،آیت ۲۳۰) اور حلالہ کی صورت یہ ہے کہ طلاق کی عدت گزرنے کے بعد عورت دوسرے سے نکاح صحیح کرے پھر وہ دوسرے شوہر سے ہمبستری کرنے کے بعد طلاق دے دے دے یا مر جائے پھر طلاق یا موت کی عدت گزر جانے کے بعد شوہر اول سے نکاح جائز ہوگا ۔ فتاویٰ عالمگیری مع خانیہ جلد اول صفحہ 473 پر ہے:<strong>" ام كان الطلاق ثلاثا لم تحل له حتي تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها او يموت عنها كذا في الهدايه.</strong> ا ه‍ ملخصا" اور شوہر ثانی کی ہمبستری کے بغیر حلالہ صحیح نہیں ہوگا۔ کما فی حدیث العسیلۃ۔۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ <span style="color: #339966;"><strong>الجواب الصحیح:- جلال الدین أحمد الامجدی۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ:- اشتیاق احمد الرضوی المصباحی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...