Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #774 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 5.1K Views

شرعی کام کے لئے غیر مسلموں سے چندہ لینا کیسا ہے ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

شرعی کام کے لئے غیر مسلموں سے چندہ لینا کیسا ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

شرعی کام کے لئے غیر مسلموں سے چندہ لینا کیسا ہے ؟

سوال : شرعی کام کے لئے غیر مسلموں سے پیسہ اکٹھا کیا جائے تو کیا وہ شرعی کاموں میں استعمال کیا جاسکتا ہے جیسے مسجد کی تعمیر؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــ قرآن پاک میں صاف صاف فرما دیا گیا ہے” لکم دینکم ولی دین” تمہارے لئے تمہارا دین میرے لیے میرا دین ۔ دنیاوی کام الگ ہیں اور دینی کام الگ، دین کے معاملے میں حکم یہ ہے کہ ہم ان سے کسی قسم کا چندہ نہ لیں۔ کہ دینی کاموں مثلا تعمیر مسجد اور تعمیر مدرسہ یا تبلیغی کاموں کے لئے ان سے چندہ لینا اور پیسہ مانگنا جائز نہیں ہے ۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ دین میں کوئی جبر و دباؤ نہیں، اب اگر ہم ان سے چند مانگتے ہیں تو گویا ہم اپنے دین کے لئے ان پر زور اور دباؤ ڈال رہے ہیں اور یہ نامناسب بات ہے، لہذا ان کو ان کے دین میں میں آزاد چھوڑ دیا جائے اور ہم اپنے دین میں آزاد ہیں تاکہ وہ نہ ہم سے چندہ مانگیں ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

Kutubahu & Verified by:

<h3>شرعی کام کے لئے غیر مسلموں سے چندہ لینا کیسا ہے ؟</h3> سوال : شرعی کام کے لئے غیر مسلموں سے پیسہ اکٹھا کیا جائے تو کیا وہ شرعی کاموں میں استعمال کیا جاسکتا ہے جیسے مسجد کی تعمیر؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــ</strong></span> قرآن پاک میں صاف صاف فرما دیا گیا ہے<span style="color: #ff0000;"><strong>'' لکم دینکم ولی دین''</strong></span> تمہارے لئے تمہارا دین میرے لیے میرا دین ۔ دنیاوی کام الگ ہیں اور دینی کام الگ، دین کے معاملے میں حکم یہ ہے کہ ہم ان سے کسی قسم کا چندہ نہ لیں۔ کہ دینی کاموں مثلا تعمیر مسجد اور تعمیر مدرسہ یا تبلیغی کاموں کے لئے ان سے چندہ لینا اور پیسہ مانگنا جائز نہیں ہے ۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ دین میں کوئی جبر و دباؤ نہیں، اب اگر ہم ان سے چند مانگتے ہیں تو گویا ہم اپنے دین کے لئے ان پر زور اور دباؤ ڈال رہے ہیں اور یہ نامناسب بات ہے، لہذا ان کو ان کے دین میں میں آزاد چھوڑ دیا جائے اور ہم اپنے دین میں آزاد ہیں تاکہ وہ نہ ہم سے چندہ مانگیں ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...