Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1233 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 10.6K Views

شوہرنےطلاق کی جھوٹی خبردی تو طلاق پڑجائے گی ؟ مفتی صدام حسین فیضی

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

شوہرنےطلاق کی جھوٹی خبردی تو طلاق پڑجائے گی ؟ مفتی صدام حسین فیضی

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

شوہرنےطلاق کی جھوٹی خبردی تو طلاق پڑجائے گی ؟

کیا فرماتے ہیں علماءکرام و مفتیان شرع متین ان دو مسائل کے متعلق (١)میاں بیوی کسی رشتے دار کے گھر گئے۔ انہیں ایک بیڈ پر سونے کو کہا گیا بیوی نے شوھر کے ساتھ سونے سے انکار کر دیا شوہر ان گھر والوں سے شوخی میں بولا کہ ہم دونوں کی کئی سالوں سے طلاق ہی ہے ۔ (2)پھرکچھ عرصہ بعد بیوی نے شوہر سے کہا تمہارے منہ سے بدبو آتی ہے ساتھ نہیں سوؤں گی شوہر مزاق میں بولا پھر میں تمہیں طلاق کہوں بیوی نے پوچھا کیا کہا؟ شوہر نے پھر کہا پھر میں تمہیں طلاق کہوں؟ تو کیا ان دونوں صورتوں میں طلاق ہو گئی یا نہیں؟ الجواب بعون الملک الوھاب پہلی صورت میں قضاء طلاق واقع ہوگئی اگرچہ شوہرنے وقوع طلاق کی جھوٹی خبر ہی دی جیسا کہ بیان سائل سے معلوم ہو رہا ہے لہذا ایک طلاق رجعی کاحکم ہوگا اور دوسری صورت میں کوئی طلاق واقع نہ ہوگی کہ شوہر کا یہ کہنا کہ ” میں تمہیں طلاق کہوں ” طلاق دینا نہیں ہے ۔ حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار میں ہے :” الاقرار بالطلاق کاذبا یقع بہ الطلاق قضاء لادیانۃ “ اھ (ج ٤ ص ٣٩٢ کتاب الطلاق) فتاوی رضویہ مترجم میں ہے :” علماء تصریح فرماتے ہیں اگر شوہر نے اقرار طلاق کیا کہ میں اسے طلاق دے چکاہوں اور واقع میں نہ دی تھی تو وہ قضاء طلاق ہوگئی مگر دیانۃ ہر گزنہ ہوگی کہ اس کا یہ قول طلاق دینا نہ تھا بلکہ طلاق غیر واقع کی جھوٹی خبر دینا تھا ” اھ ( ج ١١ ص ١٢٤ کتاب النکاح ) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب ۔ کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی صدر میرانی دار الافتاء وشیخ الحدیث جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔ ١٢ جمادی الاخری ١٤٤٣ھ مطابق ١٦ جنوری ٢٠٢٢ء

Kutubahu & Verified by:

<h2>شوہرنےطلاق کی جھوٹی خبردی تو طلاق پڑجائے گی ؟</h2> کیا فرماتے ہیں علماءکرام و مفتیان شرع متین ان دو مسائل کے متعلق <strong>(١)</strong>میاں بیوی کسی رشتے دار کے گھر گئے۔ انہیں ایک بیڈ پر سونے کو کہا گیا بیوی نے شوھر کے ساتھ سونے سے انکار کر دیا شوہر ان گھر والوں سے شوخی میں بولا کہ ہم دونوں کی کئی سالوں سے طلاق ہی ہے ۔ <strong>(2)</strong>پھرکچھ عرصہ بعد بیوی نے شوہر سے کہا تمہارے منہ سے بدبو آتی ہے ساتھ نہیں سوؤں گی شوہر مزاق میں بولا پھر میں تمہیں طلاق کہوں بیوی نے پوچھا کیا کہا؟ شوہر نے پھر کہا پھر میں تمہیں طلاق کہوں؟ تو کیا ان دونوں صورتوں میں طلاق ہو گئی یا نہیں؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> پہلی صورت میں قضاء طلاق واقع ہوگئی اگرچہ شوہرنے وقوع طلاق کی جھوٹی خبر ہی دی جیسا کہ بیان سائل سے معلوم ہو رہا ہے لہذا ایک طلاق رجعی کاحکم ہوگا اور دوسری صورت میں کوئی طلاق واقع نہ ہوگی کہ شوہر کا یہ کہنا کہ " میں تمہیں طلاق کہوں " طلاق دینا نہیں ہے ۔ حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار میں ہے :<strong><span style="color: #ff0000;">" الاقرار بالطلاق کاذبا یقع بہ الطلاق قضاء لادیانۃ "</span></strong> اھ (ج ٤ ص ٣٩٢ کتاب الطلاق) فتاوی رضویہ مترجم میں ہے :" علماء تصریح فرماتے ہیں اگر شوہر نے اقرار طلاق کیا کہ میں اسے طلاق دے چکاہوں اور واقع میں نہ دی تھی تو وہ قضاء طلاق ہوگئی مگر دیانۃ ہر گزنہ ہوگی کہ اس کا یہ قول طلاق دینا نہ تھا بلکہ طلاق غیر واقع کی جھوٹی خبر دینا تھا " اھ ( ج ١١ ص ١٢٤ کتاب النکاح ) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>صدر میرانی دار الافتاء وشیخ الحدیث جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>١٢ جمادی الاخری ١٤٤٣ھ مطابق ١٦ جنوری ٢٠٢٢ء</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...