Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1700 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 5.3K Views

شوہر اول سے طلاق لیے بغیر دوسرا نکاح نہیں ہوسکتا

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

شوہر اول سے طلاق لیے بغیر دوسرا نکاح نہیں ہوسکتا

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

شوہر اول سے طلاق لیے بغیر دوسرا نکاح نہیں ہوسکتا

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ حضرت! کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ہے ذیل کے بارے میں کہ ایک شخص نے اپنی بیٹی کا نکاح ایک جگہ کروایا اور وداع نہیں ہوئی تھی یعنی لڑکی کو دولہاکے گھر نہیں بھیجا تھا اور اس کے چند دنوں کے بعد اس لڑکی کے والد نے اپنی لڑکی کا نکاح دوسری جگہ کروادیا۔ پہلے دولہا سے طلاق نہیں لی ۔ ایسے شخص کے گھر پر آنا جانا کھانا پینا سلام دعا کر سکتے ہیں یا کہ نہیں کر سکتے؟ اور دوسرے لڑکے کو یہ معلوم تھا کہ اس لڑکی کا نکاح ہوچکا ہے اس کے باوجود اس نے اس لڑکی سے نکاح کیا۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کا جواب عنایت فرمائیں آپ کی مہربانی نوازش ہوگی۔ سائل: حافظ ابو طلحہ ضلع راجوری جموں کشمیر تحریک حق۔ الجوابــــــــــــــــــــــــــ صورتِ مسئولہ میں اگر رخصتی سے قبل پہلے شوہر نے طلاق دے دی ہو تو یہ دوسرا نکاح صحیح ہے، جب کہ میاں بیوی میں تنہائی(خلوت) نہ ہوئی ہو، کیوں کہ اس صورت میں عدت واجب نہیں ہے۔ لیکن اگر شوہرِ اول سے طلاق لیے بغیر دوسرا نکاح ہوا تو لڑکی کا باپ اور وہ لڑکی اور دوسرا نکاح کرنے والا (جب کہ اس کو نکاح اول کا علم ہو) یہ سب حد درجہ جفا کار گنہگار اور مستحق غضبِ پروردگار ہیں۔اللہ جل شانہ نے دوسروں کی بیویوں سے نکاح حرام کیا ہے، قرآن حکیم میں محرمات کے بیان میں ارشاد ہے : “والمحصنٰت من النساء” ( یعنی دوسروں کی بیویوں سے بھی نکاح حرام ہے۔سورہ نساء: آیت ٢۴ ) اس صورت میں اس دوسری شادی کرنے والے لڑکے اور لڑکی دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں اور لڑکی کے باپ پر بھی لازم ہے کہ حتی المقدور ان دونوں میں علاحدگی کرانے کی کوشش کرے۔ اگر یہ سب ایسا نہ کریں تو ضرور ضرور ان کے یہاں کھانا پینا،شادی غمی کی تقریبات میں شرکت کرنا، ابتدا بہ سلام کرنا بند کردیا جانا چاہیے۔ تاکہ سماجی دباو کے زیر اثر گناہ سے باز آئیں۔اللہ جل شانہ کا فرمان ہے: وَإِمَّا یُنسِیَنَّكَ ٱلشَّیۡطَـٰنُ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ ٱلذِّكۡرَىٰ مَعَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّـٰلِمِینَ۔ (سورہ انعام:آیت نمبر ٦٨) اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز اس آیت کریمہ سے متعلق افادہ میں تحریر فرماتے ہیں: یونہی ربوٰ خوار معلن بھی اسی آیہ کریمہ کے حکم میں داخل ہے، تفسیر احمد ی میں ہے:والقعود مع کلھم ممتنع۔ اس سے بھی قطع علاقہ چاہئے۔” (فتاوی رضویہ ج٦ ص۴٣٢) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ١١/رمضان المبارک  ١۴۴٣ھ// ١٣/اپریل ٢٠٢٢ء

Kutubahu & Verified by:

<h2>شوہر اول سے طلاق لیے بغیر دوسرا نکاح نہیں ہوسکتا</h2> السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ حضرت! کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ہے ذیل کے بارے میں کہ ایک شخص نے اپنی بیٹی کا نکاح ایک جگہ کروایا اور وداع نہیں ہوئی تھی یعنی لڑکی کو دولہاکے گھر نہیں بھیجا تھا اور اس کے چند دنوں کے بعد اس لڑکی کے والد نے اپنی لڑکی کا نکاح دوسری جگہ کروادیا۔ پہلے دولہا سے طلاق نہیں لی ۔ ایسے شخص کے گھر پر آنا جانا کھانا پینا سلام دعا کر سکتے ہیں یا کہ نہیں کر سکتے؟ اور دوسرے لڑکے کو یہ معلوم تھا کہ اس لڑکی کا نکاح ہوچکا ہے اس کے باوجود اس نے اس لڑکی سے نکاح کیا۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کا جواب عنایت فرمائیں آپ کی مہربانی نوازش ہوگی۔ سائل: حافظ ابو طلحہ ضلع راجوری جموں کشمیر تحریک حق۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> صورتِ مسئولہ میں اگر رخصتی سے قبل پہلے شوہر نے طلاق دے دی ہو تو یہ دوسرا نکاح صحیح ہے، جب کہ میاں بیوی میں تنہائی(خلوت) نہ ہوئی ہو، کیوں کہ اس صورت میں عدت واجب نہیں ہے۔ لیکن اگر شوہرِ اول سے طلاق لیے بغیر دوسرا نکاح ہوا تو لڑکی کا باپ اور وہ لڑکی اور دوسرا نکاح کرنے والا (جب کہ اس کو نکاح اول کا علم ہو) یہ سب حد درجہ جفا کار گنہگار اور مستحق غضبِ پروردگار ہیں۔اللہ جل شانہ نے دوسروں کی بیویوں سے نکاح حرام کیا ہے، قرآن حکیم میں محرمات کے بیان میں ارشاد ہے : "والمحصنٰت من النساء" ( یعنی دوسروں کی بیویوں سے بھی نکاح حرام ہے۔سورہ نساء: آیت ٢۴ ) اس صورت میں اس دوسری شادی کرنے والے لڑکے اور لڑکی دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں اور لڑکی کے باپ پر بھی لازم ہے کہ حتی المقدور ان دونوں میں علاحدگی کرانے کی کوشش کرے۔ اگر یہ سب ایسا نہ کریں تو ضرور ضرور ان کے یہاں کھانا پینا،شادی غمی کی تقریبات میں شرکت کرنا، ابتدا بہ سلام کرنا بند کردیا جانا چاہیے۔ تاکہ سماجی دباو کے زیر اثر گناہ سے باز آئیں۔اللہ جل شانہ کا فرمان ہے: وَإِمَّا یُنسِیَنَّكَ ٱلشَّیۡطَـٰنُ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ ٱلذِّكۡرَىٰ مَعَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّـٰلِمِینَ۔ (سورہ انعام:آیت نمبر ٦٨) اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز اس آیت کریمہ سے متعلق افادہ میں تحریر فرماتے ہیں: یونہی ربوٰ خوار معلن بھی اسی آیہ کریمہ کے حکم میں داخل ہے، تفسیر احمد ی میں ہے:والقعود مع کلھم ممتنع۔ اس سے بھی قطع علاقہ چاہئے۔" (فتاوی رضویہ ج٦ ص۴٣٢) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>١١/رمضان المبارک  </strong></span><span style="color: #339966;"><strong>١۴۴٣ھ// ١٣/اپریل ٢٠٢٢ء</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...