Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1205 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 7.2K Views

شوہر اپنی بیوی کو مہر دیتے وقت نہ بتاے کہ یہ مہر ہے تو کیا مہر ادا ھوجائے گا

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

شوہر اپنی بیوی کو مہر دیتے وقت نہ بتاے کہ یہ مہر ہے تو کیا مہر ادا ھوجائے گا

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

شوہر اپنی بیوی کو مہر دیتے وقت نہ بتاے کہ یہ مہر ہے تو کیا مہر ادا ھوجائے گا

سوال : کیا فرمائے ھیں مفتیاں کرام مسلہ ذیل کے بارے میں شوھر اپنی بیوی کو مھر کا روپےادا کرتے وقت یہ بتایا نہیں کہ یہ مہر کا روپےہیں تو کیا مہر ادا ھوجاےگا برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں فقط والسلام بسم اللہ الرحمن الرحیم، الجواب بعون الملک الوہاب صورت مسؤلہ میں، شوہر نے بیوی کو(مہر کی رقم سمجھکر) کچھ دیا خواہ نقد روپیہ، ہو،یا عیدی ہو ، اور دیتے وقت یہ نہ بتایا کیا یہ مہر کا روپیہ ہے،تو اب بھیجنے والی چیز ہدیہ قرار پا چکی ہے، لہذا وہ مہر میں شمار نہیں ہو سکتی ہے ، یعنی مہر ادا نہیں ہوگا، جیسا کہ، بہار شریعت حصہ ہفتم میں،صدر الشریعہ بدرا لطریقہ مفتی محمد امجد علی علیہ الرحمۃ والرضوان مسئلہ نمبر 55 میں میں تحریر فرماتے ہیں، شوہر نے عورت کے ہاں عیدی بھیجی پھر یہ کہتا ہے کہ وہ روپے مہر میں بھیجے تھے تو اسکا قول نہیں مانا جائے گا، (7)عالمگیری،بہار شریعت حصہ ہفتم، صفحہ نمبر 78 مہر کا بیان، وھکذا ولوبعث الی امراۃ شیٔاولم یذکر،جھۃ عند الدفاع غیر جھۃ المھر،کقولہ لشعمع اوحناء ثم قال انہ من المھر لم یقبل قینہ لوقوعہ ھدیٔہ فلا ینقلب مھرا فقالت ھو ای المبعوث ھدیۃ و قال ھو من المھر الخ ۔ ترجمہ، اگر شوہر نے اپنی بیوی کو کچھ بھیجا خواہ نقد خواہ جنس اور دیتے وقت کوئی ایسی بات نہیں ذکر کی جو مہر کے مغائر ہے،یعنی نہ یہ کہا کہ یہ مہر ہے اور نا یہ بتایا یا کہ مہر کے علاوہ کچھ اور ہے،جیسے یہ کہا ہوتا کہ اسے شمع یا مہدی میں خرچ کرو ،پھر شوہر نے بعد میں صراحت کر کے کہا کہ وہ مہر میں بھیجا تھا تو اس کا یہ قول قابل اعتبار نہیں ہوگا،اس لیے کی وہ چیز ہدیہ قرار پا چکی ہے، لہذا وہ مہرمیں شمار نہیں ہو سکتی ہے، درمختار مترجم،کتاب النکاح،باب ا لمہر، جلد دوم،صفحہ نمبر ٤٥٤/٤٥٥, حاصل کلام سائل کا جواب، شوہر،کا اپنی بیوی کو مہر کا روپیہ ادا کرتے وقت یہ نہ بتانا کہ یہ مہر کا روپیہ ہے،تو ایسی صورت میں مہر ادا نہیں ہوگا، واللہ تعالی اعلم بالصواب، کتبــــــــہ : مفتی منظور القادری خادم التدریس لدرجات العالیہ دار العلوم معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج یوپی

Kutubahu & Verified by:

<h2>شوہر اپنی بیوی کو مہر دیتے وقت نہ بتاے کہ یہ مہر ہے تو کیا مہر ادا ھوجائے گا</h2> سوال : کیا فرمائے ھیں مفتیاں کرام مسلہ ذیل کے بارے میں شوھر اپنی بیوی کو مھر کا روپےادا کرتے وقت یہ بتایا نہیں کہ یہ مہر کا روپےہیں تو کیا مہر ادا ھوجاےگا برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں فقط والسلام بسم اللہ الرحمن الرحیم، <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوہاب</strong></span> صورت مسؤلہ میں، شوہر نے بیوی کو(مہر کی رقم سمجھکر) کچھ دیا خواہ نقد روپیہ، ہو،یا عیدی ہو ، اور دیتے وقت یہ نہ بتایا کیا یہ مہر کا روپیہ ہے،تو اب بھیجنے والی چیز ہدیہ قرار پا چکی ہے، لہذا وہ مہر میں شمار نہیں ہو سکتی ہے ، یعنی مہر ادا نہیں ہوگا، جیسا کہ، بہار شریعت حصہ ہفتم میں،صدر الشریعہ بدرا لطریقہ مفتی محمد امجد علی علیہ الرحمۃ والرضوان مسئلہ نمبر 55 میں میں تحریر فرماتے ہیں، شوہر نے عورت کے ہاں عیدی بھیجی پھر یہ کہتا ہے کہ وہ روپے مہر میں بھیجے تھے تو اسکا قول نہیں مانا جائے گا، (7)عالمگیری،بہار شریعت حصہ ہفتم، صفحہ نمبر 78 مہر کا بیان، <span style="color: #ff0000;"><strong>وھکذا ولوبعث الی امراۃ شیٔاولم یذکر،جھۃ عند الدفاع غیر جھۃ المھر،کقولہ لشعمع اوحناء ثم قال انہ من المھر لم یقبل قینہ لوقوعہ ھدیٔہ فلا ینقلب مھرا فقالت ھو ای المبعوث ھدیۃ و قال ھو من المھر الخ ۔</strong></span> ترجمہ، اگر شوہر نے اپنی بیوی کو کچھ بھیجا خواہ نقد خواہ جنس اور دیتے وقت کوئی ایسی بات نہیں ذکر کی جو مہر کے مغائر ہے،یعنی نہ یہ کہا کہ یہ مہر ہے اور نا یہ بتایا یا کہ مہر کے علاوہ کچھ اور ہے،جیسے یہ کہا ہوتا کہ اسے شمع یا مہدی میں خرچ کرو ،پھر شوہر نے بعد میں صراحت کر کے کہا کہ وہ مہر میں بھیجا تھا تو اس کا یہ قول قابل اعتبار نہیں ہوگا،اس لیے کی وہ چیز ہدیہ قرار پا چکی ہے، لہذا وہ مہرمیں شمار نہیں ہو سکتی ہے، درمختار مترجم،کتاب النکاح،باب ا لمہر، جلد دوم،صفحہ نمبر ٤٥٤/٤٥٥, حاصل کلام سائل کا جواب، شوہر،کا اپنی بیوی کو مہر کا روپیہ ادا کرتے وقت یہ نہ بتانا کہ یہ مہر کا روپیہ ہے،تو ایسی صورت میں مہر ادا نہیں ہوگا، واللہ تعالی اعلم بالصواب، <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــــہ : مفتی منظور القادری </strong></span><span style="color: #339966;"><strong>خادم التدریس لدرجات العالیہ </strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>دار العلوم معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج یوپی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...