Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1516 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 13.5K Views

شوہر بیوی کا خیال نہ رکھے نہ ہی طلاق دے تو نکاح فسخ کروایا جاسکتا ہے

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

شوہر بیوی کا خیال نہ رکھے نہ ہی طلاق دے تو نکاح فسخ کروایا جاسکتا ہے

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

شوہر بیوی کا خیال نہ رکھے نہ ہی طلاق دے تو نکاح فسخ کروایا جاسکتا ہے

سوال : ہندہ کا شوہر اس کا کچھ خیال نہیں رکھتا بات چیت بھی نہیں کرتا نان و نفقہ نہیں دیتا اس نے دوسری شادی بھی کرلی ہے ہندہ نے خود اور اپنے احباب کے ذریعے کوشش کی مگر وہ کسی کی بات نہیں مانتا اور طلاق بھی نہیں دیتا ہے ہندہ جوان ہے دوسری شادی کرنا چاہتی ہے تو کیا صورت اختیار کی جائے ؟ المستفتیہ زاہدہ انگلینڈ۔ الجواب بعون الملک الوھاب صورت مستفسرہ میں ہندہ صبر و شکر کرے اور کثرت کے ساتھ روزے رکھے۔ ہاں اگر ہندہ کے گناہ میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہو یا مسلسل تعسر نفقہ کی صورت درپیش ہو اور کوئی صورت نہ بن پڑے تو ہندہ قاضی شرع کے پاس جائے اور اسے اپنی روداد سنائے اور قاضی اس کے حال کی تحقیق کرے بعدہ ضرورت شرعیہ متحقق ہو اور طلاق وغیرہ کی کوئی صورت نہ بن پائے خواہ برضا یا بالجبر تو اگر اس علاقہ میں سنی صحیح العقیدہ شافعی قاضی موجود ہوں تو مستحسن یہ ہے کہ حنفی قاضی یہ مقدمہ شافعی قاضی کے یہاں منتقل کردے اور شافعی قاضی ضروری کاروائی کے بعد نکاح فسخ کرکے حنفی قاضی کے یہاں بھیج دے حنفی قاضی بعد ملاحظۂ فیصلہ اسے نافذ کر دے ساتھ ہی واضح کردے کی ہندہ عدت گزار کر دوسرے شخص سے نکاح کر سکتی ہے۔ سنی صحیح العقیدہ شافعی قاضی نہ ہوتو حنفی قاضی خود نکاح فسخ کرسکتا ہے۔ فتاوی عالمگیری میں ہے: ” ظهور العجز عن النفقة انما يكون اذا كان الزوج حاضرا او اما اذا غاب الرجل عن امرأته غيبة منقطعة ولم يخلف نفقة لهذه المرأة فرفعت المرأة الأمر إلي القاضي فكتب القاضي الي عالم يري التفريق بالعجز عن النفقة ففرق بينهما فهل تقع الفرقة قال شيخ الإسلام نعم إذا تحقق العجز عن النفقة” اھ (جلد1 صفحہ 573 کتاب الطلاق، الباب السابع عشر فی النفقات، الفصل الاول فی نفقة الزوجة ، مطبوعہ دار الكتب العلميه بيروت لبنان) کتاب “مجلس شرعی کے فیصلے” صفحہ 235 پر ہے: پہلے اپنے مذہب کے دائرے میں رہتے ہوئے کچھ مؤثر تدبیریں اپنائی جائیں وہ بے اثر ہو جائیں تو کسی حنفی قاضی کے یہاں مقدمہ پیش کرے وہ بعد تحقیق فسخ نکاح کا فیصلہ کر دے۔ اسی میں ہے: ” اگر شوہر کسی طرح بھی طلاق دینے پر آمادہ نہ ہو اور انکار و سرکشی پر قائم رہے تو موجودہ حالات میں اب فسخ نکاح سے چارہ نہیں اگر اس علاقہ میں سنی صحیح العقیدہ شافعی قاضی موجود ہوں جیسے کیرالا وغیرہ کے علاقے تو مستحسن یہ ہے کہ حنفی قاضی یہ مقدمہ شافعی قاضی کے یہاں منتقل کردے اور شافعی قاضی ضروری کاروائی کے بعد نکاح فسخ کر کے حنفی قاضی کے یہاں بھیج دے حنفی قاضی بعد ملاحظہ فیصلہ، اسے نافذ کردے ساتھ ہی واضح کر دے کہ مستغیثہ عدت گزار کر دوسرے شخص سے نکاح کر سکتی ہے۔ اور اس علاقہ میں سنی صحیح العقیدہ شافعی قاضی موجود نہ ہوں جیسا کہ عامہ دیار ہندوپاک وغیرہ کا یہی حال ہے تو حرج عظیم وضرر شدید کے ازالہ کے لئے اجازت ہے کہ اب حنفی قاضی براہ راست یہ نکاح فسخ کردے جیسا کہ ہمارے اکابر اہلسنت نے مفقودالخبر کے باب میں یہی موقف اپنایا کہ مالکی قاضی نہ ملنے کی وجہ سے براہ راست فسخ نکاح کی اجازت دی اور آج تمام اہل سنت کا اسی پر عمل درآمد ہے ” اھ۔( مجلس شرعی کے فیصلے , صفحہ 234) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔

Kutubahu & Verified by:

<h3>شوہر بیوی کا خیال نہ رکھے نہ ہی طلاق دے تو نکاح فسخ کروایا جاسکتا ہے</h3> سوال : ہندہ کا شوہر اس کا کچھ خیال نہیں رکھتا بات چیت بھی نہیں کرتا نان و نفقہ نہیں دیتا اس نے دوسری شادی بھی کرلی ہے ہندہ نے خود اور اپنے احباب کے ذریعے کوشش کی مگر وہ کسی کی بات نہیں مانتا اور طلاق بھی نہیں دیتا ہے ہندہ جوان ہے دوسری شادی کرنا چاہتی ہے تو کیا صورت اختیار کی جائے ؟ المستفتیہ زاہدہ انگلینڈ۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> صورت مستفسرہ میں ہندہ صبر و شکر کرے اور کثرت کے ساتھ روزے رکھے۔ ہاں اگر ہندہ کے گناہ میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہو یا مسلسل تعسر نفقہ کی صورت درپیش ہو اور کوئی صورت نہ بن پڑے تو ہندہ قاضی شرع کے پاس جائے اور اسے اپنی روداد سنائے اور قاضی اس کے حال کی تحقیق کرے بعدہ ضرورت شرعیہ متحقق ہو اور طلاق وغیرہ کی کوئی صورت نہ بن پائے خواہ برضا یا بالجبر تو اگر اس علاقہ میں سنی صحیح العقیدہ شافعی قاضی موجود ہوں تو مستحسن یہ ہے کہ حنفی قاضی یہ مقدمہ شافعی قاضی کے یہاں منتقل کردے اور شافعی قاضی ضروری کاروائی کے بعد نکاح فسخ کرکے حنفی قاضی کے یہاں بھیج دے حنفی قاضی بعد ملاحظۂ فیصلہ اسے نافذ کر دے ساتھ ہی واضح کردے کی ہندہ عدت گزار کر دوسرے شخص سے نکاح کر سکتی ہے۔ سنی صحیح العقیدہ شافعی قاضی نہ ہوتو حنفی قاضی خود نکاح فسخ کرسکتا ہے۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>فتاوی عالمگیری میں ہے: " ظهور العجز عن النفقة انما يكون اذا كان الزوج حاضرا او اما اذا غاب الرجل عن امرأته غيبة منقطعة ولم يخلف نفقة لهذه المرأة فرفعت المرأة الأمر إلي القاضي فكتب القاضي الي عالم يري التفريق بالعجز عن النفقة ففرق بينهما فهل تقع الفرقة قال شيخ الإسلام نعم إذا تحقق العجز عن النفقة" اھ (جلد1 صفحہ 573 کتاب الطلاق، الباب السابع عشر فی النفقات، الفصل الاول فی نفقة الزوجة ، مطبوعہ دار الكتب العلميه بيروت لبنان)</strong></span> کتاب "مجلس شرعی کے فیصلے" صفحہ 235 پر ہے: پہلے اپنے مذہب کے دائرے میں رہتے ہوئے کچھ مؤثر تدبیریں اپنائی جائیں وہ بے اثر ہو جائیں تو کسی حنفی قاضی کے یہاں مقدمہ پیش کرے وہ بعد تحقیق فسخ نکاح کا فیصلہ کر دے۔ اسی میں ہے: " اگر شوہر کسی طرح بھی طلاق دینے پر آمادہ نہ ہو اور انکار و سرکشی پر قائم رہے تو موجودہ حالات میں اب فسخ نکاح سے چارہ نہیں اگر اس علاقہ میں سنی صحیح العقیدہ شافعی قاضی موجود ہوں جیسے کیرالا وغیرہ کے علاقے تو مستحسن یہ ہے کہ حنفی قاضی یہ مقدمہ شافعی قاضی کے یہاں منتقل کردے اور شافعی قاضی ضروری کاروائی کے بعد نکاح فسخ کر کے حنفی قاضی کے یہاں بھیج دے حنفی قاضی بعد ملاحظہ فیصلہ، اسے نافذ کردے ساتھ ہی واضح کر دے کہ مستغیثہ عدت گزار کر دوسرے شخص سے نکاح کر سکتی ہے۔ اور اس علاقہ میں سنی صحیح العقیدہ شافعی قاضی موجود نہ ہوں جیسا کہ عامہ دیار ہندوپاک وغیرہ کا یہی حال ہے تو حرج عظیم وضرر شدید کے ازالہ کے لئے اجازت ہے کہ اب حنفی قاضی براہ راست یہ نکاح فسخ کردے جیسا کہ ہمارے اکابر اہلسنت نے مفقودالخبر کے باب میں یہی موقف اپنایا کہ مالکی قاضی نہ ملنے کی وجہ سے براہ راست فسخ نکاح کی اجازت دی اور آج تمام اہل سنت کا اسی پر عمل درآمد ہے " اھ۔( مجلس شرعی کے فیصلے , صفحہ 234) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...