Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1628
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
6.8K Views
شوہر کے انتقال پر عورت اپنی چوڑیاں توڑے نہیں نکال دے
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
شوہر کے انتقال پر عورت اپنی چوڑیاں توڑے نہیں نکال دے
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
شوہر کے انتقال پر عورت اپنی چوڑیاں توڑے نہیں نکال دے
کسی کے شوہر کا انتقال ہو جائے تو عورت اپنی چوڑیاں توڑ سکتی ہے یا نہیں؟ المستفتیہ اقرا بانو کریلی الہ آباد یوپی انڈیا۔ الجواب بعون الملک الوھاب صورت مستفسرہ میں عورت کو اپنی چوڑیاں توڑنے کی اجازت نہیں کہ یہ تضیع مال ہے اور تضیع مال حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ” لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیۡرًا اِنَّ الْمُبَذِّرِیۡنَ کَانُوۡۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیۡنِ وَکَانَ الشَّیۡطٰنُ لِرَبِّہٖ کَفُوۡرًا ۔ ( سورۃ بنی اسرائیل١٧: ٢٦/٢٧ ) ترجمہ: ” اور فضول نہ اڑا ،بیشک اڑانے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے”۔ (کنزالایمان) حدیث پاک میں ہے: ” إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا : قِيلَ وَقَالَ ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ “. ( صحیح البخاری رقم الحدیث ١٤٧٧ ، کتاب الزکاۃ ، باب قول اللہ تعالی لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا ) یعنی بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے تین کاموں کو ناپسند فرمایا(١)فضول باتیں کرنا(٢)مال ضائع کرنا(٣)بہت زیادہ سوال کرنا۔ ہاں چوڑیاں نکال دے کہ سوگ کے سبب اسے چوڑیاں پہننا منع ہے۔ حضور اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ سوگ کے سبب ممنوعہ چیزوں کو شمار کراتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: “چوڑیاں اگرچہ کانچ کی ، غرض ہر قسم کا سنگار ختم عدت تک منع ہے۔” اھ( فتاویٰ رضویہ شریف ج١٣ ، ص٣٣١، کتاب الطلاق ، باب الحداد ، رضا فاؤنڈیشن لاہور) ۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ صدر میرانی دار الافتاء وشیخ الحدیث جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔
Kutubahu & Verified by:
<h2>شوہر کے انتقال پر عورت اپنی چوڑیاں توڑے نہیں نکال دے</h2> کسی کے شوہر کا انتقال ہو جائے تو عورت اپنی چوڑیاں توڑ سکتی ہے یا نہیں؟ المستفتیہ اقرا بانو کریلی الہ آباد یوپی انڈیا۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> صورت مستفسرہ میں عورت کو اپنی چوڑیاں توڑنے کی اجازت نہیں کہ یہ تضیع مال ہے اور تضیع مال حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: " لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیۡرًا اِنَّ الْمُبَذِّرِیۡنَ کَانُوۡۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیۡنِ وَکَانَ الشَّیۡطٰنُ لِرَبِّہٖ کَفُوۡرًا ۔ ( سورۃ بنی اسرائیل١٧: ٢٦/٢٧ ) ترجمہ: " اور فضول نہ اڑا ،بیشک اڑانے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے"۔ (کنزالایمان) حدیث پاک میں ہے: " إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا : قِيلَ وَقَالَ ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ ". ( صحیح البخاری رقم الحدیث ١٤٧٧ ، کتاب الزکاۃ ، باب قول اللہ تعالی لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا ) یعنی بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے تین کاموں کو ناپسند فرمایا(١)فضول باتیں کرنا(٢)مال ضائع کرنا(٣)بہت زیادہ سوال کرنا۔ ہاں چوڑیاں نکال دے کہ سوگ کے سبب اسے چوڑیاں پہننا منع ہے۔ حضور اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ سوگ کے سبب ممنوعہ چیزوں کو شمار کراتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: "چوڑیاں اگرچہ کانچ کی ، غرض ہر قسم کا سنگار ختم عدت تک منع ہے۔" اھ( فتاویٰ رضویہ شریف ج١٣ ، ص٣٣١، کتاب الطلاق ، باب الحداد ، رضا فاؤنڈیشن لاہور) ۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>صدر میرانی دار الافتاء وشیخ الحدیث جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...