01
The questionSawaal
اصل سوالشوہر کے غائب ہو جانے پر عورت کب تک انتظار کرے گی؟
02
The responseAl-Jawab
شوہر کے غائب ہوجانے پر عورت کب تک انتظار کرے گی؟
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ہندہ کا شوہر غائب ہو جانے پر ہندہ کب تک اپنے شوہر کا انتظار کرے گی ؟ آیا ہندہ دوسرے شوہر کے ساتھ نکاح کر سکتی ھے یا نہیں اگر کر سکتی ھے تو کتنی مدت کے بعد قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں . المستفتی۔ خاکسار محمد نصیر قادری خادم دار العلوم اسلامیہ قادریہ جامع مسجد بفلیاز ضلع پونچھ جموں وکشمیر الجواب اللهم هداية الحق والصواب:- شوہر کے غائب ہوجانے کی چند صورتیں ہیں :-(۱) اگر شوہر ایسا لاپتہ ہے کہ اسکی موت وحیات کا کچھ بھی پتہ نہیں چل پارہا ہے اور غائب ہونے کے وقت اس نے گھر پر اتنا مال نہیں چھوڑا کہ جس سے عورت کے نان ونفقہ کا انتظام ہوسکے تو ایسی صورت میں قاضی شرع تحقیق وتفتیش کے بعد اسکا نکاح فورا فسخ کردے گا اسکے بعد عورت عدت وفات گزار کر دوسرے سے نکاح کرسکتی ہے عدت وفات چار ماہ دس دن ہیں بغیر عدت گزارے دوسری جگہ نکاح ہرگز نہ ہوگا اور یہی حکم اس صورت میں بھی ہے کہ جب عورت کو غلبہ شہوت میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو . لیکن اگر شوہر نے غائب ہونے کے وقت اتنا مال چھوڑا ہے کہ جس سے عورت کا گزر بسر ہوسکے تو اس صورت کا حکم یہ ہے کہ وہ قاضی شرع کے حضور مرافعہ(اپیل) کرے گی قاضی تحقیق وتفتیش کے بعد عورت کو شوہر کا انتظار کرنے کے لیے چار سال کی مہلت دے گا اتنی مدت انتظار کرنے کے بعد بھی اگر شوہر کی موت وحیات کا پتہ نہ چل پائے تو عورت پھر قاضی شرع کے پاس رجوع کرے قاضی بعد تحقیق نکاح فسخ کر دے گا اس کے بعد عورت عدت وفات گزار کر ہی دوسرے شخص سے نکاح کرسکتی ہے بغیر عدت گزارے نکاح ہرگز نہ ہوگا- اور یہی حکم اس صورت میں بھی ہے کہ جب عورت کو غلبہ شہوت کے باعث گناہ میں مبتلا ہوجانے کا اندیشہ نہ ہو . مجلس شرعی کے فیصلے میں ہے “شوہر مفقود الخبر ہو جس کے باعث تعذر نفقہ کی صورت درپیش ہوگئی،اس کا حکم امام مالک اور امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالی عنہما کے یہاں یہ ہے کہ فسخ نکاح جائز ہے اور یہی امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی ایک قول ہے جسے کثیر فقہاے شافعیہ نے اختیار فرمایا- فقہ مالکی کی معتمد کتاب “مختصر العلامة خلیل” اور اس کی شرح “منح الجلیل”(ج:۴ ص:۲۰۳) میں یہ ہے کہ اگر مفقود نے گھر پر اتنا مال چھوڑا ہے جس سے بیوی اپنے نان ونفقہ کا انتظام کرتی رہے،ساتھ ہی غلبہ شہوت کے باعث گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو قاضی زوجہ کی طلب پر اسے چار سال تک شوہر کے انتظار کی مہلت دے گا-اور اگر اس کے لیے شوہر کے مال سے نفقہ کا انتظام نہ ہو تو عدم نفقہ کے باعث قاضی بعد تحقیق واقعی اس کا نکاح فورا فسخ کردے گا-یوں ہی اگر عورت کو غلبہ شہوت کے باعث گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو تو بھی قاضی اس کا نکاح کوئی معیاد مقرر کیے بغیر فسخ کردے گا-علمائے حنفیہ نے زوجہ مفقود الخبر کے بارے میں امام مالک کی جو تقلید فرمائی ہے اور عورت کے لیے چار سال کی مدت مقرر فرمائی ہے وہ انہیں شرطوں کے التزام کے ساتھ ہے-جب بوجہ ضرورت شرعی اپنے مذہب سے عدول کرکے چار سال کی تاجیل جائز ہے تو عدم نفقہ وخوف گناہ کی صورت میں اسی طرح کی ضرورت شرعی کی بنا پر اب بلاتاجیل بھی فسخ نکاح کی اجازت ہے”(ص ۲۳۵/ ناشر مجلس شرعی جامعہ اشرفیہ،مبارک پور،ضلع اعظم گڑھ(یوپی) (۲)شوہر غائب ہوگیا لیکن یہ معلوم نہیں کہ کہاں پر ہے اور کب آئےگا-البتہ یہ بات معلوم ہے کہ وہ زندہ ہے تو اس صورت میں بھی قاضی شرع تعذر نفقہ کے سبب نکاح فسخ کردے گا- مجلس شرعی کے فیصلے میں ہے”غیبت منقطعہ اور معدومیت نفقہ کی صورت میں شیخ الاسلام نے یہ بیان فرمایا کہ جس قاضی کے مذہب میں عجز عن النفقہ کے سبب فسخ نکاح جائز ہو،حنفی قاضی اسکے یہاں مقدمہ منتقل کرے اور وہ دوسرا قاضی نکاح فسخ کردے تو نکاح فسخ ہوجائے گا-(حوالہ سابق) (۳) شوہر غائب ہوگیا لیکن کسی ذریعہ سے یہ معلوم ہے کہ وہ فلاں جگہ ہے مگر آتا نہیں اور نہ ہی اسکی طرف سے بیوی کو نفقہ پہنچ پاتا ہے تو اس صورت کا بھی وہی حکم ہوگا جو دوسری کا ہے- مجلس شرعی کے فیصلے میں ہے “غیبت غیر منقطعہ کی صورت میں جب حصول نفقہ متعذر ہوجائے تو وہ بھی غیبت منقطعہ کی طرح ہے،اس لیے اس میں بھی غیبت منقطعہ کا حکم ہے-اس کے قائل فقہ حنفی کے جلیل القدر ائمہ وفقہا ہیں”(حوالہ سابق) انتباہ:- مذکورہ صورتوں میں جہاں تک ممکن ہو سکے اپنے مذہب(زن مفقود کے بارے میں ائمہ حنفیہ رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کا مذہب یہ ہے کہ وہ اس وقت تک انتظار کرے کہ شوہر کی عمر کے وقت ولادت سے ستر سال گزر جائیں اگر اتنی مدت میں بھی اسکی موت وحیات کا کوئی پتہ نہ چل پائے تو پھر وہ عدت وفات گزار کر دوسرے سے نکاح کرسکتی ہے)کے دائرے میں رہ کر دفع ضرر کی تدابیر اختیار کی جائیں مثلا عورت کو صبر وشکر اور خوف خدا کی تلقین کی جائے،روزے رکھنے کی ہدایت کی جائے اور عورت کے گھر والوں اور دیگر اہل خیر حضرات سے اسکے گزر بسر کے لیے نفقہ کا انتظام کروایا جائے لکین اگر یہ تدابیر بھی گارگر ثابت نہ ہوسکیں تو پھر مذکورہ صورتوں میں جو احکام ذکر کیے گئے ہیں ان پر عمل کیا جائے . واللہ سبحانہ وتعالی اعلم کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خادم دار العلوم نظامیہ نیروجال راجوری جموں وکشمیر ۲۷/رجب المرجب ۱۴۴۳ھ مطابق ۱/مارچ ۲۰۲۲ء الجواب صحيح :کمال احمد علیمی نظامی جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.