Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

شیئر بازار میں پیسہ جمع کرنا کیسا ہے؟/ شیر بازار میں انویسٹ کرنا کیسا ہے؟

شیئر بازار میں پیسہ جمع کرنا کیسا ہے؟/ شیر بازار میں انویسٹ کرنا کیسا ہے؟
Reference 754 September 18, 2025 12,879 views
اصل سوالشیئر بازار میں پیسہ جمع کرنا کیسا ہے؟/ شیر بازار میں انویسٹ کرنا کیسا ہے؟

شیئر بازار میں پیسہ جمع کرنا کیسا ہے؟ شیر بازار میں انویسٹ کرنا کیسا ہے؟

الجوابــــــــــــــــــــــــــــ اس بارے میں اجمالی حکم یہ ہے کہ شئر بازار میں حصہ لینا اور اس میں روپے جمع کرنا ناجائز و گناہ ہے ۔ اس میں کچھ صورتیں جائز ہیں اور وہ ایکویٹی شئر ہیں، جنہیں اردو زبان میں مساواتی حصص کہا جاتا ہے مگر ان کے ساتھ ناجائز و سودی کا کاروبار یعنی ”پریفرنس شئرز ” یاترجیحی حصص کو اس طرح لازم کر دیا گیا ہے کہ ”پریفرنس شئرز ”کا سود ادا کیے بغیر ”ایکویٹی شئرز ” کا نفع تقسیم ہی نہیں ہوتا ، اور سب کو شئر کی سودکاری میں لازما ملوث ہونا پڑتا ہے ۔ اس لیے شئر بازار میں حصہ لینا نا جائز و گناہ ہے ۔  لہذا شیر بازار سے مسلمان بچیں ۔ یہ ہندوستان میں شئربازار کا قانون ہے اور جس ملک میں اس کے یہ قانون جاری ہوں وہاں بھی یہی حکم ہے ۔ واللہ تعالی اعلم کتبــــــــــــــــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.