Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1439
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
13.8K Views
صاحب ترتیب کی نماز فجر قضا ہوگئی اس نے امام کو نماز ظہر کے آخری رکعت میں پایا تو کیا کرے؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
صاحب ترتیب کی نماز فجر قضا ہوگئی اس نے امام کو نماز ظہر کے آخری رکعت میں پایا تو کیا کرے؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
صاحب ترتیب کی نماز فجر قضا ہوگئی اس نے امام کو نماز ظہر کے آخری رکعت میں پایا تو کیا کرے؟
سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت اس مسئلہ میں کہ صاحب ترتیب یعنی جس کے ذمہ کوئی فرض نماز باقی نہیں ہے. اتفاق سے فجر کی نماز قضا ہوگئی لیکن ظہر تک اس نے نہیں پڑھی اور مسجد میں اس وقت پہنچا جب کہ امام ظہر کی آخری رکعت میں تھا اگر وہ فجر کی قضا پڑھے تو جماعت چھوٹ جائے گی ایسی صورت میں وہ کیا کرے؟ بینوا و توجروا الجوابــــــــــــــــــــــــ صورت مسؤلہ میں صاحب ترتیب جس کی نماز قضا ہو گئی ہے اگرچہ مسجد میں اس وقت پہنچا جبکہ امام ظہر کی آخری رکعت میں تھا اس کے لیے حکم یہ ہے کہ فجر کی قضا پڑھ کر اگر جماعت میں شریک ہو سکتا ہے تو ایسا ہی کرے ورنہ جماعت چھوڑ کر پہلے قضا پڑھے پھر ظہر کی نماز تنہا ادا کرے. یہ اس صورت میں ہے جب کہ نماز کا قضا ہونا یاد ہو اور وقت میں گنجائش ہو. فتاوٰی عالمگیری مع خانیہ جلد اول صفحہ 122 پر ہے ” اذا صلى الظهر وهو ذاكر انه لم يصلي الفجر فسده ظهره” پھر اسی صفحہ کے آخر میں ہے ” اذا ذكر الفجر في آخر وقت الظھر فوقع على ظنه ان الوقت لا يحتمل الصلاتين فافتتح الظھر فصلاها وقد بقي من وقت الظهر بعضہ نظر فيه فان كان ما بقي من وقت الظهر ما امكنه ان يصلي فيه الفجر ثم الظهر لم تجزئہ التي صلي. ١ھ “ والله تعالى اعلم الجواب صحیح :مفتی جلال الدین احمد الامجدی کتبہ :مفتی محمد ابرار احمد امجدی برکاتی
Kutubahu & Verified by:
<h2>صاحب ترتیب کی نماز فجر قضا ہوگئی اس نے امام کو نماز ظہر کے آخری رکعت میں پایا تو کیا کرے؟</h2> سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت اس مسئلہ میں کہ صاحب ترتیب یعنی جس کے ذمہ کوئی فرض نماز باقی نہیں ہے. اتفاق سے فجر کی نماز قضا ہوگئی لیکن ظہر تک اس نے نہیں پڑھی اور مسجد میں اس وقت پہنچا جب کہ امام ظہر کی آخری رکعت میں تھا اگر وہ فجر کی قضا پڑھے تو جماعت چھوٹ جائے گی ایسی صورت میں وہ کیا کرے؟ بینوا و توجروا <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــــ</strong></span> صورت مسؤلہ میں صاحب ترتیب جس کی نماز قضا ہو گئی ہے اگرچہ مسجد میں اس وقت پہنچا جبکہ امام ظہر کی آخری رکعت میں تھا اس کے لیے حکم یہ ہے کہ فجر کی قضا پڑھ کر اگر جماعت میں شریک ہو سکتا ہے تو ایسا ہی کرے ورنہ جماعت چھوڑ کر پہلے قضا پڑھے پھر ظہر کی نماز تنہا ادا کرے. یہ اس صورت میں ہے جب کہ نماز کا قضا ہونا یاد ہو اور وقت میں گنجائش ہو. فتاوٰی عالمگیری مع خانیہ جلد اول صفحہ 122 پر ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>" اذا صلى الظهر وهو ذاكر انه لم يصلي الفجر فسده ظهره"</strong></span> پھر اسی صفحہ کے آخر میں ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>" اذا ذكر الفجر في آخر وقت الظھر فوقع على ظنه ان الوقت لا يحتمل الصلاتين فافتتح الظھر فصلاها وقد بقي من وقت الظهر بعضہ نظر فيه فان كان ما بقي من وقت الظهر ما امكنه ان يصلي فيه الفجر ثم الظهر لم تجزئہ التي صلي. ١ھ "</strong></span> والله تعالى اعلم <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح :مفتی جلال الدین احمد الامجدی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ :مفتی محمد ابرار احمد امجدی برکاتی</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...