Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1810
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
11K Views
صدرالافاضل کےدینی علمی سیاسی سماجی کارنامے
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
صدرالافاضل کےدینی علمی سیاسی سماجی کارنامے
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
صدرالافاضل کےدینی علمی سیاسی سماجی کارنامے
اس جہان رنگ وبو میں انگنت قد آور بحر علم کی شناور شخصیتیں جلوہ گر ہوئیں جن کی ضیاپاشیوں نے بے شمار انسانوں کو گمراہیت بد مذہبیت سے نجات دلا کر راہ حق وصداقت پر گامزن فرمایا اور جن کی جدوجہد مجاہدانہ کردار مسلسل عزم پیہم نے دنیائے سنیت میں عظیم انقلاب برپا کیا اور شمع عشق وعرفان سے قوم کو روشناس فرمایا انہیں تاریخ ساز مردان حق بزرگوں میں ایک نام صدرالافاضل امام اہلسنت مولانا سید شاہ نعیم الدین مرادآبادی قدس سرہ کا بھی آتا ہے ۔ آپ ہندوستان کے زرخیز خطہ مرادآباد میں ایک دین دار تقوی شعار گھرانے میں ۱۲صفرالمظفر ۱۳۰۰ھ مطابق 24دسمبر 1883ء کو پیدا ہوئے ۔ تاریخی نام غلام مصطفیٰ تجویز ہوا پھر سید نعیم الدین کے نام سے پکارے جانے لگے آپ اپنے علمی خانوادے میں بڑے ناز ونعم کے ساتھ پروان چڑھے اہل خرد آپ کی جبین انور پر ذہانت و فطانت اور سنجیدگی کا نور دیکھ کر مسحور ہونے لگے ۔ تقریباً 4سال کی عمر میں رسم بسم ﷲ خوانی ہوئی اور آٹھ سال کی عمر میں تکمیل حفظ قرآن اور 20 سال کی عمر کو پہونچتے ہی تمام علوم عقلیہ ونقلیہ سے فارغ ہوگیے نیابت رسول ﷺ کے تاج ذریں سے نوازے جانے کے بعد دین اسلام کی ترویج واشاعت سے آپ کی زندگی کا لمحہ لمحہ مزین ہے یہی وجہ ہے کہ آپ کو غیر معمولی شہرت ملی اور آج آپ کی ذات کسی تعرف کا محتاج نہیں ۔ عالمی سطح پر اعلیٰ حضرت امام اہلسنت قدس سرہ کے بعد اگر صدرالافاضل کی خدمات جلیلہ افکارو خیالات اور نظریات دینی علمی سیاسی سماجی کارناموں کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت ارباب علم ودانش پر مخفی نہیں رہ جاتی کے وہ حقیقت کے آئینے میں کیا تھے ۔ آپ نے اپنی حیات میں جو کارنامے تحقیق و تفتیش تصنیف وتالیف درس وتدریس مناظرہ مباحثہ کے ذریعے انجام دیے اس کی نظیر شاذ ونادر ہے ۔ آپ کی ہمہ جہت ہمہ گیر شخصیت اپنے معاصر محققین اور مفسرین کی کثیر جماعت پر حاوی تھی اور معاصر علماء نے آپ کو صدرالافاضل مخدوم الملت مفسر قرآن استاذ الاساتذہ محقق اور محدث جیسے القاب سے یاد کیا ۔ آپ کے وہ کارنامے جسے آب زر بھی لکھا جائے تو کم ہے آپ نے ہر ممکن طریقے سے اسلام کی حقانیت کو واضح فرمایا عالم اسلام کے طول وعرض میں تبلیغی دورے کیے اور میدان مناظرہ میں جب قدم رنجا ہوئے تو وہابیہ دیابنہ ہندومت اور دیگر دھرم کے سرغناوں کا ناطقہ بند کردیا اور مدمقابل کو ذلیل و رسوا ہو کر سوائے راہ فرار کے کوئی سبیل نظر نہیں آئی 1924ءاور1925کے درمیان شدھی تحریک جس کا بانی پنڈت شردھانند تھا اس نے گاوں گاوں گشت کرکے کفر وارتدادکی مہم چلا رکھی تھی اور کئی گاوں وزیر کے باشندگان اس کے دام فریب میں آچکے تھے یہ تحریک کس قدر فتنہ پرداز اور قوم مسلم کے لیے مضر و مہلک تھی سبھی جانتے ہیں اس تحریک کے انسداد واندفاع اور فتنہ ارتداد کے خلاف اقدام کرنے میں کئی عبقری شخصیتیں تھیں سرکار مفتی اعظم ھند اس کے سرپرست تھے سرخیل کارواں کی حیثیت سے صدرالافاضل مفتی اعظم ھند کے شانہ بشانہ تھے اس کے سدباب کے لیے صدرالافاضل نے کثیر مقامات کا سفر فرمایا اور سنگلاخ پر خاروادیوں سے گذرکر آپ نے اپنے ایمانی حرارت اور نبی اکرم ﷺ سے قلبی محبت کا بین ثبوت فراھم کیا اور جگہ جگہ پنڈت سے مناظرہ کرکے اس کو شکست فاش دے کر لوگوں کو کفر وارتداد سے توبہ کرائی اور دائمی طورپر اس تحریک کے فتنہ ارتداد کو کچل کر رکھ دیا قرآن واسلام کے خلاف پنڈت کے پھیلائے ہوئے اوہام و خیالات کا جواب میں آپ نے ایک ماہنامہ سواد اعظم مرادآباد سے شائع فرماکر قوم کی رہنمائی فرمائیں اتحاد ملت پیغام حق کو فروغ دینے کے لیے 1925 میں 16، 17، 18، 19مارچ مسلسل چار روزہ آل انڈیا سنی کانفرنس مرادآباد 1926میں آل انڈیا سنی کانفرنس بنارس کا انعقاد فرمایا ان دونوں تاریخی کانفرنسوں میں غیر منقسم ھندوستان کے علماء اور فضلاء کثیر تعداد میں شریک ہوئے اور سب سے عظیم کارنامہ تفسیر خزائن العرفان اس کے علاوہ آپ کی تصنیفات میں ڈیڑھ درجن سے زیادہ کتابیں موجود ہیں اور فتاویٰ کا مجموعہ فتاویٰ صدرالافاضل کی شکل میں آپ کے تفقہ فی الدین کی زندہ مثال ہے آپ کے نمایاں کارناموں میں جامعہ نعیمیہ مرادآباد ایک عطیم یادگار ہے 1352 ھ میں اس ادارہ کا سنگ بنیاد رکھا گیا اور آپ نے اپنا خون جگر پلا کر اس ادارہ کو عروج وارتقاء کے اوج ثریا تک پہونچایا اور یہاں سے علماء محققین مصنفین خطباء کے ایسے افراد کو جنم دیا جو دنیائے اسلام کے اطراف واکناف میں جاکر مختلف وسائل و ذرائع سے دین اسلام کی آبیاری فرمائی آج بھی یہاں سے اکتساب فیض استفادہ کرنے والے کافی تعداد میں خدمت خلق کے لیے سرگرداں ہیں اور آج یہ ادارہ دنیائے سنیت میں اپنے تعلیمی کارناموں اور گونا گوں خوبیوں کے سبب ایک یونیورسٹی کی حیثیت رکھتا ہے مختصر یہ کہ حضور صدرالافاضل نے مختلف زاویوں سے اغیار و مخالفین اور معاندین کی ناپاک سازشوں پر قدغن لگایا اور حق گوئی بے باکی کے ساتھ ان کی ناپاک جسارت کو پاش پاش کرکے رکھ دیا آئین جوان مرداں حق گوئی وبیباکی ﷲ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی بلاآخر آسمان علم وفضل کا یہ درخشندہ ستارہ چمن زہرہ کا دلارا جن کی رفعتوں بلندیوں کو فلک بھی جھک کے سلام محبت پیش کرے جن کی تابشوں سے لاکھوں تاریک دل جگمگانے لگے خدمت خلق کرتے کرتے قوم کو رشد وہدایت کا جام پلاتے ہوئے ۱۸ ذی الحجہ ۱۳۶۷ھ مطابق 23اکتوبر 1948ء کو رات 12بجکر 30 منٹ پر اپنے مالک حقیقی سے جاملے اناللہ واناالیہ رٰجعون ہے بہت کافی غلام شاہ کونین کو مسلک احمد رضا اور مشعل راہ نعیم مولیٰ تعالیٰ عزوجل ھم سب کو مسلک رضا اور راہ نعیم پر قائم رکھے آمین بحرمة سید الابرار ﷺ مفتی محمدصابررضامحب القادری نعیمی
Kutubahu & Verified by:
<h3>صدرالافاضل کےدینی علمی سیاسی سماجی کارنامے</h3> اس جہان رنگ وبو میں انگنت قد آور بحر علم کی شناور شخصیتیں جلوہ گر ہوئیں جن کی ضیاپاشیوں نے بے شمار انسانوں کو گمراہیت بد مذہبیت سے نجات دلا کر راہ حق وصداقت پر گامزن فرمایا اور جن کی جدوجہد مجاہدانہ کردار مسلسل عزم پیہم نے دنیائے سنیت میں عظیم انقلاب برپا کیا اور شمع عشق وعرفان سے قوم کو روشناس فرمایا انہیں تاریخ ساز مردان حق بزرگوں میں ایک نام صدرالافاضل امام اہلسنت مولانا سید شاہ نعیم الدین مرادآبادی قدس سرہ کا بھی آتا ہے ۔ آپ ہندوستان کے زرخیز خطہ مرادآباد میں ایک دین دار تقوی شعار گھرانے میں ۱۲صفرالمظفر ۱۳۰۰ھ مطابق 24دسمبر 1883ء کو پیدا ہوئے ۔ تاریخی نام غلام مصطفیٰ تجویز ہوا پھر سید نعیم الدین کے نام سے پکارے جانے لگے آپ اپنے علمی خانوادے میں بڑے ناز ونعم کے ساتھ پروان چڑھے اہل خرد آپ کی جبین انور پر ذہانت و فطانت اور سنجیدگی کا نور دیکھ کر مسحور ہونے لگے ۔ تقریباً 4سال کی عمر میں رسم بسم ﷲ خوانی ہوئی اور آٹھ سال کی عمر میں تکمیل حفظ قرآن اور 20 سال کی عمر کو پہونچتے ہی تمام علوم عقلیہ ونقلیہ سے فارغ ہوگیے نیابت رسول ﷺ کے تاج ذریں سے نوازے جانے کے بعد دین اسلام کی ترویج واشاعت سے آپ کی زندگی کا لمحہ لمحہ مزین ہے یہی وجہ ہے کہ آپ کو غیر معمولی شہرت ملی اور آج آپ کی ذات کسی تعرف کا محتاج نہیں ۔ عالمی سطح پر اعلیٰ حضرت امام اہلسنت قدس سرہ کے بعد اگر صدرالافاضل کی خدمات جلیلہ افکارو خیالات اور نظریات دینی علمی سیاسی سماجی کارناموں کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت ارباب علم ودانش پر مخفی نہیں رہ جاتی کے وہ حقیقت کے آئینے میں کیا تھے ۔ آپ نے اپنی حیات میں جو کارنامے تحقیق و تفتیش تصنیف وتالیف درس وتدریس مناظرہ مباحثہ کے ذریعے انجام دیے اس کی نظیر شاذ ونادر ہے ۔ آپ کی ہمہ جہت ہمہ گیر شخصیت اپنے معاصر محققین اور مفسرین کی کثیر جماعت پر حاوی تھی اور معاصر علماء نے آپ کو صدرالافاضل مخدوم الملت مفسر قرآن استاذ الاساتذہ محقق اور محدث جیسے القاب سے یاد کیا ۔ آپ کے وہ کارنامے جسے آب زر بھی لکھا جائے تو کم ہے آپ نے ہر ممکن طریقے سے اسلام کی حقانیت کو واضح فرمایا عالم اسلام کے طول وعرض میں تبلیغی دورے کیے اور میدان مناظرہ میں جب قدم رنجا ہوئے تو وہابیہ دیابنہ ہندومت اور دیگر دھرم کے سرغناوں کا ناطقہ بند کردیا اور مدمقابل کو ذلیل و رسوا ہو کر سوائے راہ فرار کے کوئی سبیل نظر نہیں آئی 1924ءاور1925کے درمیان شدھی تحریک جس کا بانی پنڈت شردھانند تھا اس نے گاوں گاوں گشت کرکے کفر وارتدادکی مہم چلا رکھی تھی اور کئی گاوں وزیر کے باشندگان اس کے دام فریب میں آچکے تھے یہ تحریک کس قدر فتنہ پرداز اور قوم مسلم کے لیے مضر و مہلک تھی سبھی جانتے ہیں اس تحریک کے انسداد واندفاع اور فتنہ ارتداد کے خلاف اقدام کرنے میں کئی عبقری شخصیتیں تھیں سرکار مفتی اعظم ھند اس کے سرپرست تھے سرخیل کارواں کی حیثیت سے صدرالافاضل مفتی اعظم ھند کے شانہ بشانہ تھے اس کے سدباب کے لیے صدرالافاضل نے کثیر مقامات کا سفر فرمایا اور سنگلاخ پر خاروادیوں سے گذرکر آپ نے اپنے ایمانی حرارت اور نبی اکرم ﷺ سے قلبی محبت کا بین ثبوت فراھم کیا اور جگہ جگہ پنڈت سے مناظرہ کرکے اس کو شکست فاش دے کر لوگوں کو کفر وارتداد سے توبہ کرائی اور دائمی طورپر اس تحریک کے فتنہ ارتداد کو کچل کر رکھ دیا قرآن واسلام کے خلاف پنڈت کے پھیلائے ہوئے اوہام و خیالات کا جواب میں آپ نے ایک ماہنامہ سواد اعظم مرادآباد سے شائع فرماکر قوم کی رہنمائی فرمائیں اتحاد ملت پیغام حق کو فروغ دینے کے لیے 1925 میں 16، 17، 18، 19مارچ مسلسل چار روزہ آل انڈیا سنی کانفرنس مرادآباد 1926میں آل انڈیا سنی کانفرنس بنارس کا انعقاد فرمایا ان دونوں تاریخی کانفرنسوں میں غیر منقسم ھندوستان کے علماء اور فضلاء کثیر تعداد میں شریک ہوئے اور سب سے عظیم کارنامہ تفسیر خزائن العرفان اس کے علاوہ آپ کی تصنیفات میں ڈیڑھ درجن سے زیادہ کتابیں موجود ہیں اور فتاویٰ کا مجموعہ فتاویٰ صدرالافاضل کی شکل میں آپ کے تفقہ فی الدین کی زندہ مثال ہے آپ کے نمایاں کارناموں میں جامعہ نعیمیہ مرادآباد ایک عطیم یادگار ہے 1352 ھ میں اس ادارہ کا سنگ بنیاد رکھا گیا اور آپ نے اپنا خون جگر پلا کر اس ادارہ کو عروج وارتقاء کے اوج ثریا تک پہونچایا اور یہاں سے علماء محققین مصنفین خطباء کے ایسے افراد کو جنم دیا جو دنیائے اسلام کے اطراف واکناف میں جاکر مختلف وسائل و ذرائع سے دین اسلام کی آبیاری فرمائی آج بھی یہاں سے اکتساب فیض استفادہ کرنے والے کافی تعداد میں خدمت خلق کے لیے سرگرداں ہیں اور آج یہ ادارہ دنیائے سنیت میں اپنے تعلیمی کارناموں اور گونا گوں خوبیوں کے سبب ایک یونیورسٹی کی حیثیت رکھتا ہے مختصر یہ کہ حضور صدرالافاضل نے مختلف زاویوں سے اغیار و مخالفین اور معاندین کی ناپاک سازشوں پر قدغن لگایا اور حق گوئی بے باکی کے ساتھ ان کی ناپاک جسارت کو پاش پاش کرکے رکھ دیا آئین جوان مرداں حق گوئی وبیباکی ﷲ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی بلاآخر آسمان علم وفضل کا یہ درخشندہ ستارہ چمن زہرہ کا دلارا جن کی رفعتوں بلندیوں کو فلک بھی جھک کے سلام محبت پیش کرے جن کی تابشوں سے لاکھوں تاریک دل جگمگانے لگے خدمت خلق کرتے کرتے قوم کو رشد وہدایت کا جام پلاتے ہوئے ۱۸ ذی الحجہ ۱۳۶۷ھ مطابق 23اکتوبر 1948ء کو رات 12بجکر 30 منٹ پر اپنے مالک حقیقی سے جاملے اناللہ واناالیہ رٰجعون ہے بہت کافی غلام شاہ کونین کو مسلک احمد رضا اور مشعل راہ نعیم مولیٰ تعالیٰ عزوجل ھم سب کو مسلک رضا اور راہ نعیم پر قائم رکھے آمین بحرمة سید الابرار ﷺ <strong>مفتی محمدصابررضامحب القادری نعیمی</strong>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...