Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1992
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
4.7K Views
صدری کا بٹن یا جاکٹ کی چین کھول کر نماز پڑھنا مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
صدری کا بٹن یا جاکٹ کی چین کھول کر نماز پڑھنا مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
صدری کا بٹن یا جاکٹ کی چین کھول کر نماز پڑھنا
صدری کا بٹن یا جاکٹ کی چین کھول کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟ المستفتی مولانا جاوید فیضی مہراج گنج یوپی انڈیا۔ الجواب بعون الملک الوھاب درست ہے جبکہ صدری و جاکٹ کے نیچے کوئی اور کپڑا ہو جس سے سینہ ڈھکا ہو۔ ہاں اگر سینہ کھلا ہو تو نماز مکروہ تحریمی ہوگی۔ سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:’’انگر کھے پر جو صَدری یا چُغہ پہنتے ہیں اور عرف عام میں ان کا کوئی بوتام بھی نہیں لگاتے اور اسے معیوب بھی نہیں سمجھتے، تو اس میں بھی حرج نہیں ہونا چاہئے، کہ یہ خلاف معتاد نہیں ‘‘ اھ ( فتاوی رضویہ مترجم, ج٧، ص٣٨٦، رضا فاؤنڈیشن، لاھور) فتاوی فقیہ ملت میں ہے:’’اس طرح کپڑا پہن کر نماز پڑھی کہ نیچے کرتے کا سارا بٹن بند ہے اور اُوپر شیروانی یا صَدری کا کل یا بعض بٹن کھلا ہے، تو حرج نہیں ۔ اھ ( فتاوی فقیہ ملت، ج١، ص١٧٤، شبیر برادرز، لاھور ) بہار شریعت میں ہے: ” انگرکھے کے بند نہ باندھنا اور اچکن وغیرہ کے بٹن نہ لگانا، اگر اس کے نیچے کرتا وغیرہ نہیں اور سینہ کھلا رہا تو ظاہر کراہت تحریم ہے اور نیچے کرتا وغیرہ ہے تو مکروہ تنزیہی” اھ (ج١، حصہ ٣، ص٦٣٠، مکروہات کا بیان، مکتبۃ المدینہ کراچی) واللہ تعالیٰ ورسولہ ﷺ اعلم بالصواب۔ کتبہ :محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ صدر میرانی دار الافتاء و شیخ الحدیث جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔
Kutubahu & Verified by:
<h2>صدری کا بٹن یا جاکٹ کی چین کھول کر نماز پڑھنا</h2> <span style="font-size: 14pt;">صدری کا بٹن یا جاکٹ کی چین کھول کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟</span> <span style="font-size: 14pt;">المستفتی مولانا جاوید فیضی مہراج گنج یوپی انڈیا۔</span> <span style="font-size: 14pt; color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> <span style="font-size: 14pt;">درست ہے جبکہ صدری و جاکٹ کے نیچے کوئی اور کپڑا ہو جس سے سینہ ڈھکا ہو۔ ہاں اگر سینہ کھلا ہو تو نماز مکروہ تحریمی ہوگی۔</span> <span style="font-size: 14pt;">سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:’’انگر کھے پر جو صَدری یا چُغہ پہنتے ہیں اور عرف عام میں ان کا کوئی بوتام بھی نہیں لگاتے اور اسے معیوب بھی نہیں سمجھتے، تو اس میں بھی حرج نہیں ہونا چاہئے، کہ یہ خلاف معتاد نہیں ‘‘ اھ ( فتاوی رضویہ مترجم, ج٧، ص٣٨٦، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)</span> <span style="font-size: 14pt;"> فتاوی فقیہ ملت میں ہے:’’اس طرح کپڑا پہن کر نماز پڑھی کہ نیچے کرتے کا سارا بٹن بند ہے اور اُوپر شیروانی یا صَدری کا کل یا بعض بٹن کھلا ہے، تو حرج نہیں ۔ اھ ( فتاوی فقیہ ملت، ج١، ص١٧٤، شبیر برادرز، لاھور )</span> <span style="font-size: 14pt;">بہار شریعت میں ہے: " انگرکھے کے بند نہ باندھنا اور اچکن وغیرہ کے بٹن نہ لگانا، اگر اس کے نیچے کرتا وغیرہ نہیں اور سینہ کھلا رہا تو ظاہر کراہت تحریم ہے اور نیچے کرتا وغیرہ ہے تو مکروہ تنزیہی" اھ (ج١، حصہ ٣، ص٦٣٠، مکروہات کا بیان، مکتبۃ المدینہ کراچی) واللہ تعالیٰ ورسولہ ﷺ اعلم بالصواب۔</span> <strong><span style="font-size: 14pt;">کتبہ :محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔</span></strong> <strong><span style="font-size: 14pt;">صدر میرانی دار الافتاء و شیخ الحدیث جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔</span></strong>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...