Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #630
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
8.6K Views
صدری یاجاکیٹ کی چین یا بٹن کھول کر نماز پڑھنا، کیسا ہے ؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
صدری یاجاکیٹ کی چین یا بٹن کھول کر نماز پڑھنا، کیسا ہے ؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
صدری یاجاکیٹ کی چین یا بٹن کھول کر نماز پڑھنا، کیسا ہے ؟
اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ الـســــــوال کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کہ حالتِ نماز میں جاکیٹ یہ صدری وغیرہ کی چین یہ بٹن کھلی ہوتو کیا نماز میں کوئی کمی تو نہیں آئےگی شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ المستفتی نظام رضا کانپوری یوپی وَعَلَیْڪُمْ اَلسَّــلَامْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہ الجـــــوابــــــــــــــــــ: بعون الملک الوہاب صدری یا جاکیٹ کی چین یا بٹن کھول کراگر نماز پڑھی گئی تو نماز میں کوئی کمی نہیں آئےگی . چنانچہ سیدی سرکار اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: کہ انگرکھے پر جو صَدری یا چُغہ پہنتے ہیں اور عرف عام میں ان کا کوئی بوتام بھی نہیں لگاتے اور اسے معیوب بھی نہیں سمجھتے، تو اس میں بھی حرج نہیں ہونا چاہئے، کہ یہ خلاف معتاد نہیں ۔ (( فتاوی رضویہ، جلد 7، صفحہ 386، رضا فاؤنڈیشن، لاھو ر)) نیز فتاوی فقیہ ملت میں ہے: کہ اس طرح کپڑا پہن کر نماز پڑھی کہ نیچے کرتے کا سارا بٹن بند ہے اور اُوپر شیروانی یا صَدری کا کل یا بعض بٹن کھلا ہے، تو حرج نہیں ۔ ( فتاوی فقیہ ملت، جلد اول، صفحہ ۱۷۴، مکتبہ,شبیر برادرز، لاھور ) والله تعالی اعلم بالصواب کتبـــــــــــہ : محمد نورجمال رضوی دیناج پوری مؤرخہ:(۰۶) جمادی الاول ١٤٤١ھ بروز منگل
Kutubahu & Verified by:
<h2>صدری یاجاکیٹ کی چین یا بٹن کھول کر نماز پڑھنا، کیسا ہے ؟</h2> اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ الـســــــوال کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کہ حالتِ نماز میں جاکیٹ یہ صدری وغیرہ کی چین یہ بٹن کھلی ہوتو کیا نماز میں کوئی کمی تو نہیں آئےگی شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ المستفتی نظام رضا کانپوری یوپی وَعَلَیْڪُمْ اَلسَّــلَامْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجـــــوابــــــــــــــــــ: بعون الملک الوہاب</strong> </span> صدری یا جاکیٹ کی چین یا بٹن کھول کراگر نماز پڑھی گئی تو نماز میں کوئی کمی نہیں آئےگی . چنانچہ سیدی سرکار اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: کہ انگرکھے پر جو صَدری یا چُغہ پہنتے ہیں اور عرف عام میں ان کا کوئی بوتام بھی نہیں لگاتے اور اسے معیوب بھی نہیں سمجھتے، تو اس میں بھی حرج نہیں ہونا چاہئے، کہ یہ خلاف معتاد نہیں ۔ (( فتاوی رضویہ، جلد 7، صفحہ 386، رضا فاؤنڈیشن، لاھو ر)) نیز فتاوی فقیہ ملت میں ہے: کہ اس طرح کپڑا پہن کر نماز پڑھی کہ نیچے کرتے کا سارا بٹن بند ہے اور اُوپر شیروانی یا صَدری کا کل یا بعض بٹن کھلا ہے، تو حرج نہیں ۔ ( فتاوی فقیہ ملت، جلد اول، صفحہ ۱۷۴، مکتبہ,شبیر برادرز، لاھور ) والله تعالی اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبـــــــــــہ : محمد نورجمال رضوی دیناج پوری</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>مؤرخہ:(۰۶) جمادی الاول ١٤٤١ھ بروز منگل</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...