Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1300 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 7.9K Views

صدقۂ نافلہ کا روپیہ کہاں کہاں خرچ کر سکتے ہیں؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

صدقۂ نافلہ کا روپیہ کہاں کہاں خرچ کر سکتے ہیں؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

صدقۂ نافلہ کا روپیہ کہاں کہاں خرچ کر سکتے ہیں؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ علمائے کرام کی بارگاہ میں ایک سوال عرض ہے ہمارے گاؤں کے سبھی نوجوانوں نے مل کر ایک فاونڈیشن بنایا ہے اس کا نام ” فیضانِ آل رسول فاونڈیشن ” رکھا ہے . اس میں جن لوگوں سے جتنا ہوتا ہے اپنے جان اور مال کا صدقہ نفلی نکالتے ہیں. ہمارا مقصد یہ ہے کہ اس فاونڈیشن سے غریب۔،یتیم، بیوہ عورت، مجبور ، لاچار ،غریب بیٹی کی شادی اور اس کی پڑھائی کرانا، اس فاونڈیشن کے بارے میں کبھی کبھی علمائے کرام کے ذریعے صدقہ کی فضیلت بتاتے ہیں اور میلادِ مصطفیٰ ﷺ بھی کرواتے ہیں ۔کیا یہ سب کام صدقہ نفلی کے روپیے سے کر سکتے ہیں ؟ صدقہ نفلی کے روپیے کہاں کہاں خرچ کر سکتے ہیں؟علمائے کرام جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں ۔ سائل محمد اظہرالدین عظیمی کھگڑیا الولی پھول توڑا بہار وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوھاب مذکورہ چیزیں جو آپ نے ذکر کی ہیں اگر وہ چندہ واقعی نفلی صدقات کا ہے تو مذکورہ بالا کاموں میں خرچ کر سکتے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : “وَ اٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِۙ-وَ السَّآىٕلِیْنَ وَ فِی الرِّقَابِۚ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَۚ-“ ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ کی محبت میں اپنا عزیز مال دے رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور راہ گیر اور سائلوں کو اور گردنیں چھوڑانے میں اور نماز قائم رکھے اور زکوٰۃ دے۔ (سورۂ بقرہ آیت ۱۷۷) نفلی جو کچھ بھی دیا جاتا ہے اس کا دارومدار دینے والے کے اوپر ہوتا وہ جن جن کاموں کی اجازت دے رہے ہیں ان سب میں استعمال کر سکتے ہیں۔ان کے علاوہ میں استعمال کرنا جائز نہیں۔ اگر دئے گئے روپئے مقصد کے علاوہ کے خرچ کرے گا تو گنہگار ہوگا اور اس حوالے سے سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ جو نوجوان نفلی چندہ دے رہے ہیں وہ اس طور پر دیں۔ آپ اس سے ہر جائز کام کر سکتے ہیں پھر لینے والے آزمائش میں مبتلا نہیں ہونگے ۔ اور وہ کھل کر نیک کام کر سکتا ہے۔ لیکن اس میں بھی اس بات کا خیال رکھے کہ اسے نیک کاموں ہی میں خرچ کرے نہ کہ اس رقم سے ذاتی کام کرے ورنہ امانت میں خیانت کا مرتکب ہونے کے سبب گنہگار ہوگا۔ ہاں! صدقاتِ واجبہ مثلاً زکوٰۃ و صدقۂ یا عشر یا پھر نذر شرعی معین کی رقوم صرف اور صرف مصارفِ زکوٰۃ پر ہی بطورِ تملیک خرچ کرنا لازم ہے! کیوں کہ ان کی ادا میں تملیکِ فقیر شرعی شرط ہے۔ اعلی حضرت رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: چندہ کا روپیہ چندہ دینے والوں کا مِلک رہتاہے جس کام کے لئے وہ دیں جب اُس میں صَرف نہ ہو تو فرض ہے کہ انہیں کو واپس دیاجائے یا کسی دوسرے کام کے لئے وہ اجازت دیں اُن میں جو نہ رہا ہو ان کے وارثوں کو دیاجائے یا ان کے عاقل بالغ جس کام میں اجازت دیں، ہاں جو اُن میں نہ رہا اور اُن کے وارث بھی نہ رہے یا پتانہیں چلتا یا معلوم نہیں ہوسکتا کہ کس کس سے لیاتھا، کیا کیا تھا، وہ مثل مالِ لقطہ ہے، مصارفِ خیر مثل مسجد اور مدرسہ اہل سنت ومطبع اہل سنت وغیرہ میں صَرف ہوسکتاہے۔ (فتاوی رضویہ شریف ج ۲۳ ص ۵۶۶ مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب کتبــــہ : محمد اشفاق عطاری صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی نیپال ۵ جمادی الآخر ۱۴۴۳ھ بروز اتوار

Kutubahu & Verified by:

<h2>صدقۂ نافلہ کا روپیہ کہاں کہاں خرچ کر سکتے ہیں؟</h2> السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ علمائے کرام کی بارگاہ میں ایک سوال عرض ہے ہمارے گاؤں کے سبھی نوجوانوں نے مل کر ایک فاونڈیشن بنایا ہے اس کا نام " فیضانِ آل رسول فاونڈیشن " رکھا ہے . اس میں جن لوگوں سے جتنا ہوتا ہے اپنے جان اور مال کا صدقہ نفلی نکالتے ہیں. ہمارا مقصد یہ ہے کہ اس فاونڈیشن سے غریب۔،یتیم، بیوہ عورت، مجبور ، لاچار ،غریب بیٹی کی شادی اور اس کی پڑھائی کرانا، اس فاونڈیشن کے بارے میں کبھی کبھی علمائے کرام کے ذریعے صدقہ کی فضیلت بتاتے ہیں اور میلادِ مصطفیٰ ﷺ بھی کرواتے ہیں ۔کیا یہ سب کام صدقہ نفلی کے روپیے سے کر سکتے ہیں ؟ صدقہ نفلی کے روپیے کہاں کہاں خرچ کر سکتے ہیں؟علمائے کرام جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں ۔ سائل محمد اظہرالدین عظیمی کھگڑیا الولی پھول توڑا بہار وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> مذکورہ چیزیں جو آپ نے ذکر کی ہیں اگر وہ چندہ واقعی نفلی صدقات کا ہے تو مذکورہ بالا کاموں میں خرچ کر سکتے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : <span style="color: #ff0000;"><strong>"وَ اٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِۙ-وَ السَّآىٕلِیْنَ وَ فِی الرِّقَابِۚ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَۚ-"</strong></span> ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ کی محبت میں اپنا عزیز مال دے رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور راہ گیر اور سائلوں کو اور گردنیں چھوڑانے میں اور نماز قائم رکھے اور زکوٰۃ دے۔ (سورۂ بقرہ آیت ۱۷۷) نفلی جو کچھ بھی دیا جاتا ہے اس کا دارومدار دینے والے کے اوپر ہوتا وہ جن جن کاموں کی اجازت دے رہے ہیں ان سب میں استعمال کر سکتے ہیں۔ان کے علاوہ میں استعمال کرنا جائز نہیں۔ اگر دئے گئے روپئے مقصد کے علاوہ کے خرچ کرے گا تو گنہگار ہوگا اور اس حوالے سے سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ جو نوجوان نفلی چندہ دے رہے ہیں وہ اس طور پر دیں۔ آپ اس سے ہر جائز کام کر سکتے ہیں پھر لینے والے آزمائش میں مبتلا نہیں ہونگے ۔ اور وہ کھل کر نیک کام کر سکتا ہے۔ لیکن اس میں بھی اس بات کا خیال رکھے کہ اسے نیک کاموں ہی میں خرچ کرے نہ کہ اس رقم سے ذاتی کام کرے ورنہ امانت میں خیانت کا مرتکب ہونے کے سبب گنہگار ہوگا۔ ہاں! صدقاتِ واجبہ مثلاً زکوٰۃ و صدقۂ یا عشر یا پھر نذر شرعی معین کی رقوم صرف اور صرف مصارفِ زکوٰۃ پر ہی بطورِ تملیک خرچ کرنا لازم ہے! کیوں کہ ان کی ادا میں تملیکِ فقیر شرعی شرط ہے۔ اعلی حضرت رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: چندہ کا روپیہ چندہ دینے والوں کا مِلک رہتاہے جس کام کے لئے وہ دیں جب اُس میں صَرف نہ ہو تو فرض ہے کہ انہیں کو واپس دیاجائے یا کسی دوسرے کام کے لئے وہ اجازت دیں اُن میں جو نہ رہا ہو ان کے وارثوں کو دیاجائے یا ان کے عاقل بالغ جس کام میں اجازت دیں، ہاں جو اُن میں نہ رہا اور اُن کے وارث بھی نہ رہے یا پتانہیں چلتا یا معلوم نہیں ہوسکتا کہ کس کس سے لیاتھا، کیا کیا تھا، وہ مثل مالِ لقطہ ہے، مصارفِ خیر مثل مسجد اور مدرسہ اہل سنت ومطبع اہل سنت وغیرہ میں صَرف ہوسکتاہے۔ (فتاوی رضویہ شریف ج ۲۳ ص ۵۶۶ مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــہ : محمد اشفاق عطاری صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی نیپال</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>۵ جمادی الآخر ۱۴۴۳ھ بروز اتوار</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...