01
The questionSawaal
اصل سوالصرف رجسٹری کرادینے سے زمین بیوی کی نہیں ہوگی
02
The responseAl-Jawab
صرف رجسٹری کرادینے سے زمین بیوی کی نہیں ہوگی بیوی بیٹا بیٹی چھوڑا، ترکہ کیسے تقسیم ہوگا؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین حق ومفتیان کرام مسئلہ ذیل میں کہ زید کی پہلی شادی خالدہ سے ہوئی اور ان سے زید کی دو اولاد ایک لڑکا اور ایک لڑکی ہے خالدہ کے انتقال کے بعد زید نے دوسری شادی ہندہ سے کی اور ان سے زید کی کوئی اولاد نہ ہوئی زید نے اپنی زندگی میں ایک مکان خرید کر اپنے نام رجسٹری کرائی جب کہ دوسری ایک زمین خرید کر ہندہ کے نام رجسٹری کراکے خارج داخل کرادیا اور ساتھ ہندہ کو یہ ہدایت دی کہ میرے انتقال کے بعد اس کو جیسا چاہے استعمال میں لائے یا فروخت کرے زید حج بیت اللہ کو گئے اور وہیں انتقال ہوگئے اب دونوں جائدادوں میں ترکہ کے شرعی کیا حکم ہوں گے ؟ المستفتیہ قمر جہاں ہمایوں باغ چمن گنج کانپور یوپی انڈیا۔ الجواب بعون الملک الوھاب مذکورہ صورت ہبہ کی ہے اور ہبہ قبضہ شرعیہ کے بغیر محض رجسٹری اور خارج داخل کرانے سے تام نہیں ہوتا چنانچہ در مختار میں ہے : ’’ و تتم الھبۃ بالقبض الکامل ‘‘ اھ (کتاب الھبۃ ، جلد 8 ، صفحہ 573 ، مطبوعہ کوئٹہ) یعنی: ہبہ پورے طورپر قبضہ کرنے سے مکمل ہوتا ہے۔ حضور اعلی حضرت امام اہلسنت علیہ الرحمۃ سے سوال ہوا کہ ’’ ھندہ نے ایک مکان اپنی لڑکی کو اپنی حیات میں ہبہ کرکے رجسٹری کرادی اور یہ الفاظ بھی رجسٹری میں تحریر کئے کہ چونکہ لڑکی مؤنث اور داماد میری خدمت گزاری کرتے ہیں اور میں ان کے ساتھ ہی رہتی ہوں اورحق شرع بھی قریب قریب اسی کے ہوتا ہے، بخیال دور اندیشی واقع متنازع آئندہ کے ہبہ کرتی ہوں اور قبضہ بھی دیتی ہوں پھر لڑکی عرصہ تک اس مکان پر قابض رہی اور ماں بھی اس مکان میں رہتی رہی تو یہ مکان بچی کا ہوگیا یا نہیں؟ ملخصاً، جواباً تحریر فرمایا: ” ماں اگر اسی مکان میں رہتی رہی اور تھوڑی دیر کے لئے بھی اپنی ذات اور اپنے کل اسباب سے بالکل خالی کرکے لڑکی کوقابض نہ کردیا تھا جب تولڑکی کے نام وہ ہبہ ہی صحیح نہ ہوا ” اھ (فتاوی رضویہ مترجم جلد 19 صفحہ 390 کتاب الھبۃ مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) علامہ صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں: ” ہبہ تمام ہونے کے لئے قبضہ کی بھی ضرورت ہے بغیر اس کے ہبہ تمام نہیں ہوتا” اھ (بہار شریعت جلد3 حصہ 14 صفحہ 71 ہبہ کابیان، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی) اور قبضہ شرعیہ سے پہلے واہب(ہبہ کرنے والے) کا انتقال ہوجائے تو ہبہ باطل ہوجاتا ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں :’’ إن أبا بكر الصديق كان نحلها جاد عشرين وسقا من ماله بالغابة. فلما حضرته الوفاة، قال: واللہ يا بنية ما من الناس أحد أحب إلي غنى بعدي منك. ولا أعز علي فقرا بعدي منك. وإني كنت نحلتك جاد عشرين وسقا. فلو كنت جددتيه واحتزتيه كان لك . وإنما هو اليوم مال وارث. وإنما هما أخواك وأختاك، فاقتسموه على كتاب اللہ ‘‘ اھ ( موطا امام مالک ، کتاب الاقضیۃ ، باب مالایجوز من النحل ، صفحہ 645، مطبوعہ کراچی ) یعنی: سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے غابہ کے مقام پر ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو کھجوروں کے چند درخت ہبہ ( گفٹ ) کئے تھے ، جن سے بیس وسق کھجوریں آتی تھیں ۔ جب سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ظاہری دنیا سے جانے کا وقت آیا ، تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے میری بیٹی ! مجھے یہ پسند نہیں کہ میرے بعد کوئی اور تم سے زیادہ غنی ہو اور میرے بعد تمہارے علاوہ کسی کی تنگدستی مجھ پر گراں نہیں ہے ۔ میں نے تمہیں کچھ درخت ہبہ ( گفٹ ) کیے تھے ۔ اگر ( اُس وقت ) تم نے ان پر قبضہ کر لیا ہوتا ، تو وہ تمہارے ہو جاتے اور ( چونکہ اُس وقت تم نے قبضہ نہیں کیا ، اس لیے اب وہ تمہاری ملک نہیں ہیں ، بلکہ ) آج وہ وراثت کا مال ہے ، تمہارے دو بھائی اور دو بہنیں ہیں ، لہٰذا تم لوگ اسے قرآنِ پاک ( میں بیان کردہ وراثت کے قوانین ) کے مطابق تقسیم کرنا ۔ فتاوی عالمگیری میں ہے:”ومن جملة شرائطها قبض الموهوب له قبل موت الواهب ” اھ (جلد4 صفحہ 448 كتاب الهبة، الباب العاشر في هبة المريض، مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت لبنان) یعنی: ہبہ کے جملہ شرائط میں سے ایک شرط موہوب لہ (یعنی جس کو ہبہ کیاگیا ہے اس) کا واہب کے انتقال سے پہلے قبضہ کرلینا ہے۔ حضور اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں:” اگر موہوب لہ کے قبضہ تامہ شرعیہ سے پہلے واہب کاانتقال ہوجائے (تو ہبہ) باطل محض ہوجاتا ہے” اھ (فتاوی رضویہ مترجم جلد 19 صفحہ 338 کتاب الھبۃ، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) صورت مستفسرہ میں سائل نے یہ واضح نہیں کیا کہ زید نے اپنی بیوی ہندہ کے نام زمین کی رجسٹری اور خارج داخل کرانے کے بعد ہندہ کو قبضہ کروادیا یانہیں بلکہ زید کے اس قول سےکہ : “میرے انتقال کے بعد اس کو جیسا چاہے استعمال میں لائے یا فروخت کرے” معلوم ہوتا ہے کہ زید نے اپنی زندگی میں قبضہ نہیں کروایا خیر جو کچھ بھی ہو سوال واضح نہ ہونے کے سبب اس مسئلہ کا واضح طور حکم شرع بیان نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ہاں اتنا کہا جاسکتا ہے کہ زید نے اپنی زندگی میں ہندہ کو زمین پر قبضہ کروادیا ہو تو وہ زمین ہندہ کی ملک ہوگئی اب اس میں وراثت جاری نہ ہوگی اور اپنی زندگی میں قبضہ نہ کروایا ہو تو زید کے انتقال کے بعد ہبہ باطل ہوگیا اب اس میں وراثت جاری ہوگی۔ اور زید کا ترکہ-برتقدیر عدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وتقدیم مہر و دیگر دیون و وصایا-چوبیس حصوں پر منقسم ہوگا اس میں سے تین حصے بیوی کو، سات حصے بیٹی کو اور چودہ حصے بیٹے کو ملیں گے۔ حضور اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ ایسے ہی ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں: “ترکہ ننہے کا برتقدیر عدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین و تقدیم مہر ودیگر دیون و وصایا ٢٤ سہام پر منقسم ہوکر تین سہم زوجہ اور چودہ سہم پسر اور سات دختر کو ملیں گے” اھ (فتاوی رضویہ مترجم جلد 26 صفحہ 143، کتاب الفرائض مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ صدر: میرانی دار الافتاء وشیخ الحدیث: جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.