Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #96 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 13.2K Views

صوفیاے کرام کو مشرک کہنا / حضور کا علم غیب نہ ماننے والے کا حکم

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

صوفیاے کرام کو مشرک کہنا / حضور کا علم غیب نہ ماننے والے کا حکم

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

صوفیاے کرام  کو مشرک کہنا / حضور کا علم غیب نی ماننے والے کا حکم از مفتی محمد نظام الدین قادری دارالعلوم علیمیہ

 
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ بندہ نے اگر یہ کہا کہ صوفیاء مشرک ہے ، اور کہتا ہے کہ تم تمام(اہلسنت) مشرک ہو تو اس بندے پر کیا حکم‌ لاگو ہوگا ۔ اور حضرت یہ کہنا کہ حضورِ اقدس ﷺ کو علمِ غیب نہیں ، اور حضور ﷺ کو نور نہ ماننا۔ ساتھ ہی یہ بتایئں جو بندہ گمراہ ہوا اس کے نکاح کا کیا حکم ہے ۔
جواب عنایت فرمائیں ، المستفتی ابو زہرہ علیمی مصباحی مبارک پور اعظم گڑھ الجواب: (١) صوفیائے کرام اور اہل سنت وجماعت ہی سچے اور حقیقی اہلِ توحید ہیں، جو شخص صوفیائے کرام اور تمام اہلِ سنت کو مشرک کہتا ہے گمراہ بد دین اور جہنمی ہے ۔ اور اب اہلِ سنت وجماعت اور فرقہ ناجیہ والے مذاہب اربعہ (حنفی،شافعی،مالکی اور حنبلی) میں منحصر ہیں ۔ اور جو ان سے الگ ہیں گمراہ اور جہنمی ہیں ۔ امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں:           “یہ تو خود واضح اور ہماری تقریر سابق سے لائح کہ طائفہ مذکورہ بدعتی بلکہ بد ترین اہلِ بدعت سے ہے ۔ اور فاضل علّامہ سیّدی احمد مصری طحطاوی رحمۃ اﷲ تعالٰی حاشیہ دُرمختار میں ناقل:    “من شذّ عن جمھور اھل الفقہ والعلم والسواد الاعظم فقد شذّ فیما یدخلہ فی النار فعلیکم معاشرالمومنین باتباع الفرقۃ الناجیۃ المسماۃ باہل السنۃ والجماعۃ؛ فان نصرۃ اﷲ تعالٰی وحفظہ وتوفیقہ فی موافقتھم، وخذلانہ وسخطہ فی مخالفتھم، وھذہ الطائفۃ الناجیۃ قد اجتمعت الیوم فی مذاھب اربعۃ وھم الحنفیون والمالکیون والشافعیون والحنبلیون،رحمھم اللہ تعالٰی۔ومن خارجاعن ھذہ الاربعۃ فی ھذاالزمان فہومن اھل البدعۃ والنار” ۔ (فتاوی رضویہ ج ٣ص٢٩٢) اور تحریر فرماتے ہیں: “جمہور ائمہ کرام فقہائے اعلام کا مذہب صحیح ومعتمدومفتی بہ یہی ہے کہ جو کسی ایک مسلمان کوبھی کافر اعتقاد کرے خود کافر ہے”۔  (فتاوی رضویہ ج۵ص٢۵٩)واللہ تعالی اعلم ۔   (٢) بلا شبہہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو بعطائے الہی علم غیب حاصل ہے ۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالی کے علم غیب کا انکار قرآن کریم کی متعدد آیتوں کا انکار ہے ۔ اور قرآن پاک کی کسی آیت کا انکار کفر ہے ۔ صدر الشریعہ علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:              “ﷲ عزوجل نے انبیاء علیہم السلام کو اپنے غیوب پر اطلاع دی ، زمین وآسمان کا ہر ذرہ ہر نبی کے پیشِ نظر ہے، مگر یہ غیب کہ اُن کو ہے اللہ کے دیے سے ہے ۔  لہذا اُن کا علم عطائی ہوا اور علمِ عطائی ﷲ عزوجل کے لیے محال ہے، کہ اُس کی کوئی صفت، کوئی کمال کسی کا دیا ہوا نہیں ہوسکتا، بلکہ ذاتی ہے ۔ جو لوگ انبیاء بلکہ سیّد الانبیاء صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وعلیہم وسلم سے مطلق علمِ غیب کی نفی کرتے ہیں ، وہ قرآنِ عظیم کی اس آیت کے مصداق ہیں : { اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَ تَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍۚ } یعنی: ’’قرآنِ عظیم کی بعض باتیں مانتے ہیں اور بعض کے ساتھ کُفر کرتے ہیں ۔‘‘ کہ آیتِ نفی دیکھتے ہیں اور اُن آیتوں سے جن میں انبیاء علیہم السلام کو علومِ غیب عطا کیا جانا بیان کیا گیا ہے، انکار کرتے ہیں ، حالانکہ نفی واِثبات دونوں حق ہیں ، کہ نفی علمِ ذاتی کی ہے کہ یہ خاصۂ اُلوہیت ہے، اِثبات،عطائی کا ہے کہ یہ انبیاء ہی کی شایانِ شان ہے اور مُنافیٔ اُلوہیت ہے اور یہ کہنا کہ ہر ذرّہ کا علم نبی کے لیے مانا جائے تو خالق و مخلوق کی مساوات لازم آئے گی، باطل محض ہے،کہ مساوات تو جب لازم آئے کہ ﷲ عزوجل کیلئے بھی اتنا ہی علم ثابت کیا جائے اور یہ نہ کہے گا مگر کافر، ذرّاتِ عالَم متناہی ہیں اور اُس کا علم غیر متناہی، ورنہ جہل لازم آئے گا اور یہ محال، کہ خدا جہل سے پاک، نیز ذاتی و عطائی کا فرق بیان کرنے پر بھی مساوات کا الزام دینا صراحۃً ایمان و اسلام کے خلاف ہے، کہ اس فرق کے ہوتے ہوئے مساوات ہو جایا کرے تو لازم کہ ممکن و واجب وجود میں معاذ ﷲ دمساوی ہو جائیں ، کہ ممکن بھی موجود ہے اور واجب بھی موجود اور وجود میں مساوی کہنا صریح کُفر کھلا شرک ہے۔ انبیاء علیہم السلام غیب کی خبر دینے کے لیے ہی آتے ہیں کہ جنّت و نار و حشر و نشر و عذاب و ثواب غیب نہیں تو اور کیا ہیں ؟ اُن کا منصب ہی یہ ہے کہ وہ باتیں ارشاد فرمائیں جن تک عقل و حواس کی رسائی نہیں اور اسی کا نام غیب ہے”(بہار شریعت حصہ اول ص۴١ تا ۴٦) اور اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “غیب ذاتی کہ اپنی ذات سے بے کسی کے دیئے ہو، ﷲ عزوجل کے لیے خاص ہے اُن آیتوں میں یہی معنٰی مراد ہیں کہ بے خدا کے دیئے کوئی نہیں جان سکتا اور ﷲ کے بتائے سے انبیاء کو معلوم ہونا ضروریاتِ دین سے ہے، قرآن مجید کی بہت آیتیں اس کے ثبوت میں ہیں،از آنجملہ سورہ جِن میں فرماتا ہے:عٰلم الغیب فلا یظھر علٰی غیبہ احدا الاّ من ارتضٰی من رسول۔ (القران الکریم ۷۲/ ۲۶ و ۲۷)اور فرماتا ہے:تلک من انباء الغیب نوحیہاالیک ۔ (الکریم ۱۱/ ۴۵)اور فرماتا ہے:وما ھو علی الغیب بضنین ۔(القرآن الکریم ۸۱/ ۲۴)اس مسئلہ کے بیان کو رسالہ “انباء المصطفٰی” ورسالہ “خالص الاعتقاد”دیکھئے کہ کتنی آیتوں، حدیثوں اور اقوالِ ائمہ دین سے ثبوت ہے۔”(فتاوی رضویہ ج ٢٩ص٩ نسخہ دعوت اسلامی ایپ)واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ (٣) حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا نور ہونا احادیث سے ثابت ہے اور اس کا انکار جہالت وگمرہی ہے۔ اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ اس کی توضیح کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں : “نور عرف عامہ میں ایک کیفیت ہے کہ نگاہ پہلے اسے ادراک کرتی ہے اوراس کے واسطے سے دوسری اشیائے دیدنی کو۔قال السید فی تعریفاتہ “النور کیفیۃ تدرکہا الباصرۃ اولا وبواسطتہا سائر المبصرات” اورحق یہ کہ نور اس سے اجلٰی ہے کہ اس کی تعریف کی جائے ۔یہ جو بیان ہوا تعریف الجلی بالخفی ہےکمانبہ علیہ فی المواقف وشرحھا۔ نور بایں معنٰی ایک عرض وحادث ہے اوررب عزوجل اس سے منزہ ۔ محققین کے نزدیک نوروہ کہ خود ظاہر ہو اوردوسروں کا مظہر ،کما ذکرہ الامام حجۃ الاسلام الغزالی ثم العلامۃ الزرقانی فی شرح المواھب الشریفۃ۔ بایں معنی اللہ عزوجل نور حقیقی ہے بلکہ حقیقۃً وہی نور ہے اورآیہ کریمہ اللہ نور السمٰوٰت والارض بلاتکلف وبلادلیل اپنے معنی حقیقی پر ہے ۔ فان اللہ عزوجل ھو الظاھر بنفسہ المظھر لغیرہ من السمٰوٰت والارض ومن فیھن وسائر المخلوقات ۔حضور پرنورسید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بلاشبہ اللہ عزوجل کے نور ذاتی سے پیداہیں ۔ حدیث شریف میں وارد ہے : “ان اللہ تعالٰی قد خلق قبل الاشیاء نور نبیک من نورہٖ ۔ رواہ عبدالرزاق ونحوہ حدیث میں ”نورہ”فرمایا جس کی ضمیر اللہ کی طرف ہے کہ اسم ذات ہے،من نور جمالہ یا نور علمہ یا نور رحمتہ وغیرہ نہ فرمایا کہ نور صفات سے تخلیق ہو۔ علامہ زرقانی رحمہ اللہ تعالٰی اسی حدیث کے تحت میں فرماتے ہیں : (من نورہٖ) ای من نورھوذاتہ :یعنی اللہ عزوجل نے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو اس نور سے پیدا کیا جو عین ذات الٰہی ہے ، یعنی اپنی ذات سے بلاواسطہ پیدا فرمایا ،کما سیأتی تقریرہ۔ امام احمد قسطلانی مواہب شریف میں فرماتے ہیں : “لما تعلقت ارادۃ الحق تعالٰی بایجاد خلقہ ابرز الحقیقۃ المحمدیۃ من الانوار الصمدیۃ فی الحضرۃ الاحدیۃ ثم سلخ منہا العوالم کلہا علوھا وسفلھا۔ شرحِ علامہ میں ہے : “والحضرۃ الاحدیۃ ھی اول تعینات الذات واول رتبہا الذی لااعتبارفیہ لغیر الذات کما ھو المشار الیہ بقولہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کان اللہ ولا شیئ معہ ذکرہ الکاشی۔ ہاں عین ذاتِ الٰہی سے پیدا ہونے کے یہ معنی نہیں کہ معاذاللہ ذاتِ الٰہی ذاتِ رسالت کیلئے مادہ ہے جیسے مٹی سے انسان پیداہو، یا عیاذاً باللہ ذات الٰہی کا کوئی حصہ یا کُل ، ذاتِ نبی ہوگیا۔ اللہ عزوجل حصے اورٹکڑے اورکسی کے ساتھ متحد ہوجانے یا کسی شَئے میں حلول فرمانے سے پاک ومنزہ ہے ۔ حضو رسیدِ عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم خواہ کسی شے کو جزء ذاتِ الٰہی خواہ کسی مخلوق کو عین ونفس ذاتِ الٰہی ماننا کفر ہے ۔ اس تخلیق کے اصل معنی تو اللہ ورسول جانیں ، جل وعلا و صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم عالم میں ذاتِ رسول کو تو کوئی پہچانتا نہیں ۔ حدیث میں ہے : یا ابابکر لم یعرفنی حقیقۃ غیر ربی۔ ذاتِ الٰہی سے اس کے پیداہونے کے حقیقت کسے مفہوم ہو؟مگر اس میں فہم ظاہر بیں کا جنتا حصہ ہے وہ یہ ہے کہ حضر ت حق عزجلالہ، نے تمام جہان کو حضور پرنورمحبوب اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے واسطے پیدا فرمایا، حضور نہ ہوتے تو کچھ نہ ہوتا۔ لولاک لما خلقت الدنیا”(فتاوی رضویہ٣٠ ج ص ١٨٣ ، ١٨۴ نسخہ دعوت اسلامی ایپ)واللہ سبحانہ تعالی اعلم (۴) گمراہ دو قسم ہیں۔ اول: وہ گمراہ جن کی گمرہی حد کفر تک پہنچ چکی ہے یعنی جو دین کے کسی امرِضروری کے منکر ہوں۔ان کا حکم مرتدین کا حکم ہے کہ ان کا کسی سے بھی نکاح نہیں ہوسکتا۔ دوم: وہ گمراہ کہ ان کی گمراہی حد کفر تک نہ پہنچی ہو ان سے نکاح ممنوع وگناہ ہے۔ فتاوی رضویہ میں مولانا عبد الوحید فردوسی رحمہ اللہ کا ایک فتوی ہے جس پر اس دور کے مشاہیر مفتیانِ کرام کی تائیدات وتصدیقات ہیں اور جس کی تصدیق وتفصیل کے لیے امام احمد رضا قدس سرہ العزیز نے ایک تاریخی رسالہ “ازالة العار بحجر الکرائم عن کلاب النار”تحریر فرمایا ہے۔ فردوسی صاحب کے اس فتوی میں ہے: “بالجملہ اگر غیر مقلد عقیدہ کفریہ رکھتا ہو تو اس سے نکاح محض باطل وزنا ہے کہ مسلمان عورت کا کافر سے نکاح اصلاً صحیح نہیں اور اگر عقیدیہ کفریہ نہ بھی رکھتا ہو تو بدمذہب سے مناکحت بحکم آیت وحدیث منع ہے، حدیث اوپر گزری (یعنی: لا تواکلوہم ولا تشاربوہم ولا تناکحوہم) اور آیت یہ ہے قال اللہ تعالٰی:ولاترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار”(فتاوی رضویہ ج۵ ص٣۵٦) اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز نے اس مذکورہ فتوی کی تائید میں تحریر کیا: “فی الواقع صورتِ مستفسرہ میں وہ نکاح یا تو شرعاً باطل وزنا ہے یا ممنوع وگناہ” (فتاوی رضویہ ج۵ص٢۵٧) اور اگر کسی شادی شدہ مرد نے حدِ کفر والی گمرہی کا ارتکاب کیا تو نکاح فسخ ہوگیا ورنہ نہیں۔اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “صورتِ مستفسرہ (یعنی: شوہر کے قادیانی ہوجانے کی صورت) میں عورت فورا نکاح سے نکل گئی، ان میں باہم کوئی علاقہ نہ رہا،مرد محض بے گانہ ہوگیا۔اب اس سے قربت زنائے خالص ہوگی۔تنویر الابصار میں ہے :”واتداد احدہما فسخ فی الحال”(فتاوی رضویہ ج۵ ص۵٦۴) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم ۔ کتبہ محمد نظام الدین قادری: خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی۔ ٢٨/رمضان المبارک١۴۴٢ھ//١١/مئی ٢٠٢١ء

پوسٹ مارٹم کی شرعی حیثیت از مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ

 

Kutubahu & Verified by:

<h2>صوفیاے کرام  کو مشرک کہنا / حضور کا علم غیب نی ماننے والے کا حکم از مفتی محمد نظام الدین قادری دارالعلوم علیمیہ</h2>   <h5>کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ بندہ نے اگر یہ کہا کہ صوفیاء مشرک ہے ، اور کہتا ہے کہ تم تمام(اہلسنت) مشرک ہو تو اس بندے پر کیا حکم‌ لاگو ہوگا ۔ اور حضرت یہ کہنا کہ حضورِ اقدس ﷺ کو علمِ غیب نہیں ، اور حضور ﷺ کو نور نہ ماننا۔ ساتھ ہی یہ بتایئں جو بندہ گمراہ ہوا اس کے نکاح کا کیا حکم ہے ۔</h5> <span style="font-size: 14pt;">جواب عنایت فرمائیں ،</span> <span style="font-size: 14pt;">المستفتی</span> <span style="font-size: 14pt;">ابو زہرہ علیمی مصباحی مبارک پور اعظم گڑھ</span> <span style="font-size: 14pt;">الجواب: (١)</span> <span style="font-size: 14pt;">صوفیائے کرام اور اہل سنت وجماعت ہی سچے اور حقیقی اہلِ توحید ہیں، جو شخص صوفیائے کرام اور تمام اہلِ سنت کو مشرک کہتا ہے گمراہ بد دین اور جہنمی ہے ۔ اور اب اہلِ سنت وجماعت اور فرقہ ناجیہ والے مذاہب اربعہ (حنفی،شافعی،مالکی اور حنبلی) میں منحصر ہیں ۔ اور جو ان سے الگ ہیں گمراہ اور جہنمی ہیں ۔ </span> <span style="font-size: 14pt;">امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں:</span> <span style="font-size: 14pt;">          "یہ تو خود واضح اور ہماری تقریر سابق سے لائح کہ طائفہ مذکورہ بدعتی بلکہ بد ترین اہلِ بدعت سے ہے ۔ </span> <span style="font-size: 14pt;">اور فاضل علّامہ سیّدی احمد مصری طحطاوی رحمۃ اﷲ تعالٰی حاشیہ دُرمختار میں ناقل:</span> <span style="font-size: 14pt;">   "من شذّ عن جمھور اھل الفقہ والعلم والسواد الاعظم فقد شذّ فیما یدخلہ فی النار فعلیکم معاشرالمومنین باتباع الفرقۃ الناجیۃ المسماۃ باہل السنۃ والجماعۃ؛ فان نصرۃ اﷲ تعالٰی وحفظہ وتوفیقہ فی موافقتھم، وخذلانہ وسخطہ فی مخالفتھم، وھذہ الطائفۃ الناجیۃ قد اجتمعت الیوم فی مذاھب اربعۃ وھم الحنفیون والمالکیون والشافعیون والحنبلیون،رحمھم اللہ تعالٰی۔ومن خارجاعن ھذہ الاربعۃ فی ھذاالزمان فہومن اھل البدعۃ والنار" ۔</span> <span style="font-size: 14pt;"> (فتاوی رضویہ ج ٣ص٢٩٢)</span> <span style="font-size: 14pt;">اور تحریر فرماتے ہیں:</span> <span style="font-size: 14pt;">"جمہور ائمہ کرام فقہائے اعلام کا مذہب صحیح ومعتمدومفتی بہ یہی ہے کہ جو کسی ایک مسلمان کوبھی کافر اعتقاد کرے خود کافر ہے"۔ </span> <span style="font-size: 14pt;"> (فتاوی رضویہ ج۵ص٢۵٩)واللہ تعالی اعلم ۔</span>   <span style="font-size: 14pt;"><strong>(٢)</strong> بلا شبہہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو بعطائے الہی علم غیب حاصل ہے ۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالی کے علم غیب کا انکار قرآن کریم کی متعدد آیتوں کا انکار ہے ۔ اور قرآن پاک کی کسی آیت کا انکار کفر ہے ۔ </span> <span style="font-size: 14pt;">صدر الشریعہ علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:</span> <span style="font-size: 14pt;">             "ﷲ عزوجل نے انبیاء علیہم السلام کو اپنے غیوب پر اطلاع دی ، زمین وآسمان کا ہر ذرہ ہر نبی کے پیشِ نظر ہے، مگر یہ غیب کہ اُن کو ہے اللہ کے دیے سے ہے ۔  لہذا اُن کا علم عطائی ہوا اور علمِ عطائی ﷲ عزوجل کے لیے محال ہے، کہ اُس کی کوئی صفت، کوئی کمال کسی کا دیا ہوا نہیں ہوسکتا، بلکہ ذاتی ہے ۔ جو لوگ انبیاء بلکہ سیّد الانبیاء صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وعلیہم وسلم سے مطلق علمِ غیب کی نفی کرتے ہیں ، وہ قرآنِ عظیم کی اس آیت کے مصداق ہیں :</span> <span style="font-size: 14pt;">{ اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَ تَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍۚ }</span> <span style="font-size: 14pt;">یعنی: ’’قرآنِ عظیم کی بعض باتیں مانتے ہیں اور بعض کے ساتھ کُفر کرتے ہیں ۔‘‘</span> <span style="font-size: 14pt;">کہ آیتِ نفی دیکھتے ہیں اور اُن آیتوں سے جن میں انبیاء علیہم السلام کو علومِ غیب عطا کیا جانا بیان کیا گیا ہے، انکار کرتے ہیں ، حالانکہ نفی واِثبات دونوں حق ہیں ، کہ نفی علمِ ذاتی کی ہے کہ یہ خاصۂ اُلوہیت ہے، اِثبات،عطائی کا ہے کہ یہ انبیاء ہی کی شایانِ شان ہے اور مُنافیٔ اُلوہیت ہے اور یہ کہنا کہ ہر ذرّہ کا علم نبی کے لیے مانا جائے تو خالق و مخلوق کی مساوات لازم آئے گی، باطل محض ہے،کہ مساوات تو جب لازم آئے کہ ﷲ عزوجل کیلئے بھی اتنا ہی علم ثابت کیا جائے اور یہ نہ کہے گا مگر کافر، ذرّاتِ عالَم متناہی ہیں اور اُس کا علم غیر متناہی، ورنہ جہل لازم آئے گا اور یہ محال، کہ خدا جہل سے پاک، نیز ذاتی و عطائی کا فرق بیان کرنے پر بھی مساوات کا الزام دینا صراحۃً ایمان و اسلام کے خلاف ہے، کہ اس فرق کے ہوتے ہوئے مساوات ہو جایا کرے تو لازم کہ ممکن و واجب وجود میں معاذ ﷲ دمساوی ہو جائیں ، کہ ممکن بھی موجود ہے اور واجب بھی موجود اور وجود میں مساوی کہنا صریح کُفر کھلا شرک ہے۔ انبیاء علیہم السلام غیب کی خبر دینے کے لیے ہی آتے ہیں کہ جنّت و نار و حشر و نشر و عذاب و ثواب غیب نہیں تو اور کیا ہیں ؟ اُن کا منصب ہی یہ ہے کہ وہ باتیں ارشاد فرمائیں جن تک عقل و حواس کی رسائی نہیں اور اسی کا نام غیب ہے"(بہار شریعت حصہ اول ص۴١ تا ۴٦)</span> <span style="font-size: 14pt;">اور اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں:</span> <span style="font-size: 14pt;">"غیب ذاتی کہ اپنی ذات سے بے کسی کے دیئے ہو، ﷲ عزوجل کے لیے خاص ہے اُن آیتوں میں یہی معنٰی مراد ہیں کہ بے خدا کے دیئے کوئی نہیں جان سکتا اور ﷲ کے بتائے سے انبیاء کو معلوم ہونا ضروریاتِ دین سے ہے، قرآن مجید کی بہت آیتیں اس کے ثبوت میں ہیں،از آنجملہ سورہ جِن میں فرماتا ہے:عٰلم الغیب فلا یظھر علٰی غیبہ احدا الاّ من ارتضٰی من رسول۔ (القران الکریم ۷۲/ ۲۶ و ۲۷)اور فرماتا ہے:تلک من انباء الغیب نوحیہاالیک ۔ (الکریم ۱۱/ ۴۵)اور فرماتا ہے:وما ھو علی الغیب بضنین ۔(القرآن الکریم ۸۱/ ۲۴)اس مسئلہ کے بیان کو رسالہ "انباء المصطفٰی" ورسالہ "خالص الاعتقاد"دیکھئے کہ کتنی آیتوں، حدیثوں اور اقوالِ ائمہ دین سے ثبوت ہے۔"(فتاوی رضویہ ج ٢٩ص٩ نسخہ دعوت اسلامی ایپ)واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔</span> <span style="font-size: 14pt;">(٣) حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا نور ہونا احادیث سے ثابت ہے اور اس کا انکار جہالت وگمرہی ہے۔ اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ اس کی توضیح کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :</span> <span style="font-size: 14pt;">"نور عرف عامہ میں ایک کیفیت ہے کہ نگاہ پہلے اسے ادراک کرتی ہے اوراس کے واسطے سے دوسری اشیائے دیدنی کو۔قال السید فی تعریفاتہ "النور کیفیۃ تدرکہا الباصرۃ اولا وبواسطتہا سائر المبصرات"</span> <span style="font-size: 14pt;">اورحق یہ کہ نور اس سے اجلٰی ہے کہ اس کی تعریف کی جائے ۔یہ جو بیان ہوا تعریف الجلی بالخفی ہےکمانبہ علیہ فی المواقف وشرحھا۔ نور بایں معنٰی ایک عرض وحادث ہے اوررب عزوجل اس سے منزہ ۔ محققین کے نزدیک نوروہ کہ خود ظاہر ہو اوردوسروں کا مظہر ،کما ذکرہ الامام حجۃ الاسلام الغزالی ثم العلامۃ الزرقانی فی شرح المواھب الشریفۃ۔ بایں معنی اللہ عزوجل نور حقیقی ہے بلکہ حقیقۃً وہی نور ہے اورآیہ کریمہ اللہ نور السمٰوٰت والارض بلاتکلف وبلادلیل اپنے معنی حقیقی پر ہے ۔</span> <span style="font-size: 14pt;">فان اللہ عزوجل ھو الظاھر بنفسہ المظھر لغیرہ من السمٰوٰت والارض ومن فیھن وسائر المخلوقات ۔حضور پرنورسید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بلاشبہ اللہ عزوجل کے نور ذاتی سے پیداہیں ۔ حدیث شریف میں وارد ہے :</span> <span style="font-size: 14pt;">"ان اللہ تعالٰی قد خلق قبل الاشیاء نور نبیک من نورہٖ ۔ رواہ عبدالرزاق ونحوہ</span> <span style="font-size: 14pt;">حدیث میں ''نورہ''فرمایا جس کی ضمیر اللہ کی طرف ہے کہ اسم ذات ہے،من نور جمالہ یا نور علمہ یا نور رحمتہ وغیرہ نہ فرمایا کہ نور صفات سے تخلیق ہو۔ علامہ زرقانی رحمہ اللہ تعالٰی اسی حدیث کے تحت میں فرماتے ہیں : (من نورہٖ) ای من نورھوذاتہ :یعنی اللہ عزوجل نے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو اس نور سے پیدا کیا جو عین ذات الٰہی ہے ، یعنی اپنی ذات سے بلاواسطہ پیدا فرمایا ،کما سیأتی تقریرہ۔</span> <span style="font-size: 14pt;">امام احمد قسطلانی مواہب شریف میں فرماتے ہیں :</span> <span style="font-size: 14pt;">"لما تعلقت ارادۃ الحق تعالٰی بایجاد خلقہ ابرز الحقیقۃ المحمدیۃ من الانوار الصمدیۃ فی الحضرۃ الاحدیۃ ثم سلخ منہا العوالم کلہا علوھا وسفلھا۔</span> <span style="font-size: 14pt;">شرحِ علامہ میں ہے :</span> <span style="font-size: 14pt;">"والحضرۃ الاحدیۃ ھی اول تعینات الذات واول رتبہا الذی لااعتبارفیہ لغیر الذات کما ھو المشار الیہ بقولہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کان اللہ ولا شیئ معہ ذکرہ الکاشی۔</span> <span style="font-size: 14pt;">ہاں عین ذاتِ الٰہی سے پیدا ہونے کے یہ معنی نہیں کہ معاذاللہ ذاتِ الٰہی ذاتِ رسالت کیلئے مادہ ہے جیسے مٹی سے انسان پیداہو، یا عیاذاً باللہ ذات الٰہی کا کوئی حصہ یا کُل ، ذاتِ نبی ہوگیا۔ اللہ عزوجل حصے اورٹکڑے اورکسی کے ساتھ متحد ہوجانے یا کسی شَئے میں حلول فرمانے سے پاک ومنزہ ہے ۔ حضو رسیدِ عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم خواہ کسی شے کو جزء ذاتِ الٰہی خواہ کسی مخلوق کو عین ونفس ذاتِ الٰہی ماننا کفر ہے ۔</span> <span style="font-size: 14pt;">اس تخلیق کے اصل معنی تو اللہ ورسول جانیں ، جل وعلا و صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم عالم میں ذاتِ رسول کو تو کوئی پہچانتا نہیں ۔ حدیث میں ہے :</span> <span style="font-size: 14pt;">یا ابابکر لم یعرفنی حقیقۃ غیر ربی۔</span> <span style="font-size: 14pt;">ذاتِ الٰہی سے اس کے پیداہونے کے حقیقت کسے مفہوم ہو؟مگر اس میں فہم ظاہر بیں کا جنتا حصہ ہے وہ یہ ہے کہ حضر ت حق عزجلالہ، نے تمام جہان کو حضور پرنورمحبوب اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے واسطے پیدا فرمایا، حضور نہ ہوتے تو کچھ نہ ہوتا۔</span> <span style="font-size: 14pt;">لولاک لما خلقت الدنیا"(فتاوی رضویہ٣٠ ج ص ١٨٣ ، ١٨۴ نسخہ دعوت اسلامی ایپ)واللہ سبحانہ تعالی اعلم</span> <span style="font-size: 14pt;">(۴) گمراہ دو قسم ہیں۔</span> <span style="font-size: 14pt;">اول: وہ گمراہ جن کی گمرہی حد کفر تک پہنچ چکی ہے یعنی جو دین کے کسی امرِضروری کے منکر ہوں۔ان کا حکم مرتدین کا حکم ہے کہ ان کا کسی سے بھی نکاح نہیں ہوسکتا۔</span> <span style="font-size: 14pt;">دوم: وہ گمراہ کہ ان کی گمراہی حد کفر تک نہ پہنچی ہو ان سے نکاح ممنوع وگناہ ہے۔ فتاوی رضویہ میں مولانا عبد الوحید فردوسی رحمہ اللہ کا ایک فتوی ہے جس پر اس دور کے مشاہیر مفتیانِ کرام کی تائیدات وتصدیقات ہیں اور جس کی تصدیق وتفصیل کے لیے امام احمد رضا قدس سرہ العزیز نے ایک تاریخی رسالہ "ازالة العار بحجر الکرائم عن کلاب النار"تحریر فرمایا ہے۔ فردوسی صاحب کے اس فتوی میں ہے:</span> <span style="font-size: 14pt;">"بالجملہ اگر غیر مقلد عقیدہ کفریہ رکھتا ہو تو اس سے نکاح محض باطل وزنا ہے کہ مسلمان عورت کا کافر سے نکاح اصلاً صحیح نہیں اور اگر عقیدیہ کفریہ نہ بھی رکھتا ہو تو بدمذہب سے مناکحت بحکم آیت وحدیث منع ہے، حدیث اوپر گزری (یعنی: لا تواکلوہم ولا تشاربوہم ولا تناکحوہم) اور آیت یہ ہے قال اللہ تعالٰی:ولاترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار"(فتاوی رضویہ ج۵ ص٣۵٦)</span> <span style="font-size: 14pt;">اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز نے اس مذکورہ فتوی کی تائید میں تحریر کیا:</span> <span style="font-size: 14pt;">"فی الواقع صورتِ مستفسرہ میں وہ نکاح یا تو شرعاً باطل وزنا ہے یا ممنوع وگناہ" (فتاوی رضویہ ج۵ص٢۵٧)</span> <span style="font-size: 14pt;">اور اگر کسی شادی شدہ مرد نے حدِ کفر والی گمرہی کا ارتکاب کیا تو نکاح فسخ ہوگیا ورنہ نہیں۔اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں:</span> <span style="font-size: 14pt;">"صورتِ مستفسرہ (یعنی: شوہر کے قادیانی ہوجانے کی صورت) میں عورت فورا نکاح سے نکل گئی، ان میں باہم کوئی علاقہ نہ رہا،مرد محض بے گانہ ہوگیا۔اب اس سے قربت زنائے خالص ہوگی۔تنویر الابصار میں ہے :"واتداد احدہما فسخ فی الحال"(فتاوی رضویہ ج۵ ص۵٦۴) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم ۔</span> <strong><span style="font-size: 14pt;">کتبہ محمد نظام الدین قادری: خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی۔</span></strong> <span style="font-size: 14pt;">٢٨/رمضان المبارک١۴۴٢ھ//١١/مئی ٢٠٢١ء</span> <!--more--> <h2 class="entry-title"><a href="https://urdu.masailworld.com/?p=356" rel="bookmark">پوسٹ مارٹم کی شرعی حیثیت از مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ</a></h2>  

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...