Ref #14
Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1989
Verified Hanafi Fiqh
4.4K Views
ضآد کو ظاد پڑھنا کیسا ہے؟
Font:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
ضآد کو ظاد پڑھنا کیسا ہے؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
ضآد کو ظاد پڑھنا کیسا ہے؟
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے متعلق کہ ضاد کو ظاد پڑھنا کیسا ہے؟ سائل محمد ارشد خوشاب الجواب مذکورہ صورت میں ضآد کو ظاد پڑھنا ناجائز و حرام ہے کیونکہ یہ عربی لفظ ہے اور عربی میں ضاد ہی پڑھا جائے گا- (سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں، ض،ظ،ذ،ز سب حروف متبائنہ،متغائرہ(یعنی ایک دوسرے سے جدا جدا حروف)ہیں، ان میں سے کسی کو دوسرے سے تلاوتِ قرآن میں قصداََ بدلنا، اِس کی جگہ اُسے پڑھنا، نماز میں ہو خواہ بیرون نماز، حرام قطعی وگناہِ عظیم،اِفْتِراء عَلَی اللہ و تحریف ِکتاب کریم ہے- (فتاویٰ رضویہ جلد،6 صفحہ305- رضا فاؤنڈیشن لاہور) اس مسئلے کے بارے میں دلائل کے ساتھ تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے فتاویٰ رضویہ کی چھٹی جلد میں موجود ان رسائل کا مطالعہ فرمائیں: (۱) نِعْمَ الزَّادْ لِرَوْمِ الضَّادْ۔(ضاد کی ادائیگی کا بہترین طریقہ)(۲)اِلْجَامُ الصَّادْ عَنْ سُنَنِ الضَّادْ۔(ضاد کی ادائیگی کے غلط اور صحیح طریقوں کا بیان) واللہ اعلم عزوجل و ر سولہ اعلم ﷺ کتبہ :ابو رضا محمد عمران عطاری مدنی متخصص فی الفقہ
Kutubahu & Verified by: