Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1518
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
13.7K Views
طالب علم کا مدرسہ میں دینے کے لئے زکوۃ دی اس نے آدھا مدرسہ میں دیا آدھا خود رکھ لیا یہ جائز ہے یا نہیں؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
طالب علم کا مدرسہ میں دینے کے لئے زکوۃ دی اس نے آدھا مدرسہ میں دیا آدھا خود رکھ لیا یہ جائز ہے یا نہیں؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
طالب علم کا مدرسہ میں دینے کے لئے زکوۃ دی اس نے آدھا مدرسہ میں دیا آدھا خود رکھ لیا یہ جائز ہے یا نہیں؟
سوال : زید ایک مدرسہ کا طالب علم ہے جب وہ چھٹی میں گھر آیا تو اسے کچھ رقم زکوۃ کی ملی کہ اس کو اپنے مدرسے میں دے دینا زید جب مدرسہ گیا کچھ دن رہا پھر وہاں سے ہمیشہ کے لئے آنے لگا تو مجبوری کےتحت زکوۃ کا کچھ حصہ مدرسہ میں دے دیا اور کچھ نہیں دیا تو وہ زکوۃ کا روپیہ زید پر جائز ہے جو طالب علم ہے؟ جب وہ مدرسہ میں تھا زکوۃ کھایا کرتا تھا لیکن اب وہ اس مدرسے کا متعلم نہیں ہے اس کے اوپر زکوۃ جائز ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو اس مدرسہ میں دے یا اس کے مالک کو واپس کر دے؟بینوا و توجروا ۔ الجوابـــــــــــــــــــ جب زکوۃ دینے والے نے اس زکوۃ کی رقم مدرسہ میں دینے کے لیے کہا تھا تو اب اس طالبعلم اس کو اپنے اوپر خرچ نہیں کر سکتا ہے کہ اس بچی ہوئی رقم کو یا تو مدرسے میں دے دے یا اس کے مالک کے حوالے کردے. بہار شریعت میں ہے کہ وکیل کو یہ اختیار نہیں کہ خود لے لے ہاں اگر زکوۃ دینے والے نے یہ کہہ دیا ہو کہ جس جگہ چاہو صرف کرو تو لے سکتا ہے (صفحہ22 حصہ پنجم) در مختار میں ہے ” وللوکیل ان یدفع لولدہ الفقیر وزوجتہ لا لنفسہ الا اذا قال ربھا ضعھا حیث شئت (ج 2 صفحہ 269، کتاب الزکوۃ، مطلب فی الفرق بین السبب والشرط) واللہ تعالی اعلم الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور کتبہ : مفتی محمد احمد مصباحی
Kutubahu & Verified by:
<h3>طالب علم کا مدرسہ میں دینے کے لئے زکوۃ دی اس نے آدھا مدرسہ میں دیا آدھا خود رکھ لیا یہ جائز ہے یا نہیں؟</h3> سوال : زید ایک مدرسہ کا طالب علم ہے جب وہ چھٹی میں گھر آیا تو اسے کچھ رقم زکوۃ کی ملی کہ اس کو اپنے مدرسے میں دے دینا زید جب مدرسہ گیا کچھ دن رہا پھر وہاں سے ہمیشہ کے لئے آنے لگا تو مجبوری کےتحت زکوۃ کا کچھ حصہ مدرسہ میں دے دیا اور کچھ نہیں دیا تو وہ زکوۃ کا روپیہ زید پر جائز ہے جو طالب علم ہے؟ جب وہ مدرسہ میں تھا زکوۃ کھایا کرتا تھا لیکن اب وہ اس مدرسے کا متعلم نہیں ہے اس کے اوپر زکوۃ جائز ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو اس مدرسہ میں دے یا اس کے مالک کو واپس کر دے؟بینوا و توجروا ۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــ</strong></span> جب زکوۃ دینے والے نے اس زکوۃ کی رقم مدرسہ میں دینے کے لیے کہا تھا تو اب اس طالبعلم اس کو اپنے اوپر خرچ نہیں کر سکتا ہے کہ اس بچی ہوئی رقم کو یا تو مدرسے میں دے دے یا اس کے مالک کے حوالے کردے. بہار شریعت میں ہے کہ وکیل کو یہ اختیار نہیں کہ خود لے لے ہاں اگر زکوۃ دینے والے نے یہ کہہ دیا ہو کہ جس جگہ چاہو صرف کرو تو لے سکتا ہے (صفحہ22 حصہ پنجم) <span style="color: #ff0000;"><strong>در مختار میں ہے " وللوکیل ان یدفع لولدہ الفقیر وزوجتہ لا لنفسہ الا اذا قال ربھا ضعھا حیث شئت (ج 2 صفحہ 269، کتاب الزکوۃ، مطلب فی الفرق بین السبب والشرط)</strong></span> واللہ تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : مفتی محمد احمد مصباحی</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...