Islamic Guidance Today: Wednesday, 29 July 2026 | 🕌 13 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1303 Verified Hanafi Fiqh 8.2K Views

طلاق نامہ پر دستخط کر دیا جبکہ اسے یہ نہیں بتایا گیا یہ تمہاری بیوی کے بارے میں ہے تو ؟

Font:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

طلاق نامہ پر دستخط کر دیا جبکہ اسے یہ نہیں بتایا گیا یہ تمہاری بیوی کے بارے میں ہے تو ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

طلاق نامہ پر دستخط کر دیا جبکہ اسے یہ نہیں بتایا گیا یہ تمہاری بیوی کے بارے میں ہے تو ؟

مسئلہ: از: انعام علي خان ، بھدرک ، اڑیسہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرح متین مسئولہ ذیل میں کہ زید ایک تعلیم یافتہ انسان ہے جو کہ سرکاری نوکری کرتا ہے زید کا چچازید پر بڑا مہربان ہے اس طرح سے کہ زید کو نوکری چچا نے دلوایا شادی کرایا گویا کی ماں باپ سے زیادہ مہربان ہے۔ زید کی شادی چند سال پہلے ہندہ سے ہوئی تھی جب زید اپنے تعطیل کے ایام گزارنے کے لئے اپنے سسرال کو جانے لگا تو اس وقت زید کے چچا کی چھوٹی لڑکی بضد ہوکر زید کے سسرال گئی یہ لڑکی وہاں جاکر زید کے سالے کے ساتھ عشق بازی کرنے لگی نتیجہ یہ ہوا کہ لڑکی نے اپنی مرضی سے زید کےسالے کے ساتھ نکاح کیا ۔ اس نکاح سے زید کے چچا اور تمام گھرانے والے ناراض تھے۔ زید ،چچا اور تمام گھرانے والے کی بے انتہا کوشش کے باوجود لڑکی کو واپس نہ لا پائے۔ اس کوشش میں طرفین کی بےعزتی بھی ہوئی۔ اب انتقام لینے کے لیے زید کے چچا نے محرر سے یک طلاق نامہ لکھوایا اور زید کو دستخط کرنے کو کہا زید اپنے مہربان چچا کی بات کو ٹال نہ سکا اور دستخط کردیا۔ اس طلاق نامہ پر دستخط کرنے کے بعد زید اپنی بیوی ہندہ کو گھر پھر لے آیا اور ازدواجی زندگی گزارنے لگا۔ جس طلاق نامہ پر دستخط کیا اس میں تحریر تھی ۔ ” میں جان بوجھ کر صحیح عقل سے سوچ کر بغیر زبردستی کے اپنی بیوی ہندہ کو طلاق طلاق طلاق دیا اور آئندہ کے لئے میرا ہندہ پر اور ہندہ کا مجھ پر کوئی حق باقی نہ رہا ۔” اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ زید پر شریعت کا کون سا حکم نافذ ہوتا ہے بحوالہ کتب جواب عنایت کریں۔ بینوا توجروا الجوابــــــــــــــــــــــــــ مکرو فریب کچہری میں چل سکتا ہے ۔شریعت مطہرہ میں ہرگز نہیں چلے گا۔ سوال سے ظاہر ہے کہ زید کو تحریر کا وہ حصہ نہیں دکھایا گیا جہاں اس کی بیوی کے متعلق طلاق کے الفاظ تھے ۔ اور نہ خود اس نے طلاق کے جملے دیکھے اور نہ اسے بتایا گیا کہ تمہاری بیوی کے متعلق طلاق نامہ ہےاور زید نے طلاق نامہ سمجھ کر اس پر دستخط کئے تو اس کی بیوی پر طلاق نہیں واقع ہوئی۔ لہذا اگر صورتحال یہی ہے تو زید دستخط کرنے کے بعد اپنی بیوی ہندہ کو پھر اپنے گھر لا کر ازدواجی زندگی گزار رہا ہے تو اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ۔ واللہ تعالی اعلم۔ ماخوذ : از فتاوی فقیہ ملت جلد دوم / طلاق کے مسائل

Kutubahu & Verified by:

<h3>طلاق نامہ پر دستخط کر دیا جبکہ اسے یہ نہیں بتایا گیا یہ تمہاری بیوی کے بارے میں ہے تو ؟</h3> مسئلہ: از: انعام علي خان ، بھدرک ، اڑیسہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرح متین مسئولہ ذیل میں کہ زید ایک تعلیم یافتہ انسان ہے جو کہ سرکاری نوکری کرتا ہے زید کا چچازید پر بڑا مہربان ہے اس طرح سے کہ زید کو نوکری چچا نے دلوایا شادی کرایا گویا کی ماں باپ سے زیادہ مہربان ہے۔ زید کی شادی چند سال پہلے ہندہ سے ہوئی تھی جب زید اپنے تعطیل کے ایام گزارنے کے لئے اپنے سسرال کو جانے لگا تو اس وقت زید کے چچا کی چھوٹی لڑکی بضد ہوکر زید کے سسرال گئی یہ لڑکی وہاں جاکر زید کے سالے کے ساتھ عشق بازی کرنے لگی نتیجہ یہ ہوا کہ لڑکی نے اپنی مرضی سے زید کےسالے کے ساتھ نکاح کیا ۔ اس نکاح سے زید کے چچا اور تمام گھرانے والے ناراض تھے۔ زید ،چچا اور تمام گھرانے والے کی بے انتہا کوشش کے باوجود لڑکی کو واپس نہ لا پائے۔ اس کوشش میں طرفین کی بےعزتی بھی ہوئی۔ اب انتقام لینے کے لیے زید کے چچا نے محرر سے یک طلاق نامہ لکھوایا اور زید کو دستخط کرنے کو کہا زید اپنے مہربان چچا کی بات کو ٹال نہ سکا اور دستخط کردیا۔ اس طلاق نامہ پر دستخط کرنے کے بعد زید اپنی بیوی ہندہ کو گھر پھر لے آیا اور ازدواجی زندگی گزارنے لگا۔ جس طلاق نامہ پر دستخط کیا اس میں تحریر تھی ۔ " میں جان بوجھ کر صحیح عقل سے سوچ کر بغیر زبردستی کے اپنی بیوی ہندہ کو طلاق طلاق طلاق دیا اور آئندہ کے لئے میرا ہندہ پر اور ہندہ کا مجھ پر کوئی حق باقی نہ رہا ۔" اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ زید پر شریعت کا کون سا حکم نافذ ہوتا ہے بحوالہ کتب جواب عنایت کریں۔ بینوا توجروا <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> مکرو فریب کچہری میں چل سکتا ہے ۔شریعت مطہرہ میں ہرگز نہیں چلے گا۔ سوال سے ظاہر ہے کہ زید کو تحریر کا وہ حصہ نہیں دکھایا گیا جہاں اس کی بیوی کے متعلق طلاق کے الفاظ تھے ۔ اور نہ خود اس نے طلاق کے جملے دیکھے اور نہ اسے بتایا گیا کہ تمہاری بیوی کے متعلق طلاق نامہ ہےاور زید نے طلاق نامہ سمجھ کر اس پر دستخط کئے تو اس کی بیوی پر طلاق نہیں واقع ہوئی۔ لہذا اگر صورتحال یہی ہے تو زید دستخط کرنے کے بعد اپنی بیوی ہندہ کو پھر اپنے گھر لا کر ازدواجی زندگی گزار رہا ہے تو اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ۔ واللہ تعالی اعلم۔ <span style="color: #339966;"><strong>ماخوذ : از فتاوی فقیہ ملت جلد دوم / طلاق کے مسائل</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas: