Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1449
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
4.8K Views
طلاق نامہ پر زبردستی دستخط کرا لیا تو کیا حکم ہے؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
طلاق نامہ پر زبردستی دستخط کرا لیا تو کیا حکم ہے؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
طلاق نامہ پر زبردستی دستخط کرا لیا تو کیا حکم ہے؟
مسئلہ:- از: صوفی محمد صدیق نوری، جواہر مارگ ، اندور۔ طلاق نامہ پر زبردستی دستخط کرالیا تو طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ بینوا توجروا۔ الجوابــــــــــــــــــــــــ صورت مسؤلہ میں اگر جبر شرعی ہے یعنی قتل، یا کسی عضو کے کاٹے جانے یا ضرب شدید کا ظن غالب ہو گیا تو اس صورت میں اس نے طلاق نامہ پر دستخط کر دیا مگر نہ دل میں طلاق کا ارادہ کیا نہ زبان سے طلاق کا لفظ کہا تو طلاق واقع نہ ہوئی۔ اور اگر محض سخت اصرار پر کہ اس کی بات کیسے ٹالی جائے دستخط کردیا تو طلاق واقع ہو گئی کیونکہ یہ جبر نہیں ۔ ایسا ہی فتاوی رضویہ جلد پنجم صفحہ ٦٣١میں ہے ۔ اور تنویر الابصار جلد دوم صفحہ ٤٥٦ میں ہے:” يقع طلاق كل زوج بالغ عاقل ولو مكرها أو مخطئاً. اھ، درمختار جلد دوم صفحہ ٤٥٧ میں بحر سے ہے:” إن المراد الإكراه علي التلفظ بالطلاق فلو اكره علي ان يكتب طلاق امراته فكتب لا تطلق لأن الكتابة اقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة. اھ” والله تعالى اعلم بالصواب. الجواب الصحيح: جلال الدين احمد الامجدي كتبه: محمد سمير الدين حبيبي مصباحي
Kutubahu & Verified by:
<h2>طلاق نامہ پر زبردستی دستخط کرا لیا تو کیا حکم ہے؟</h2> مسئلہ:- از: صوفی محمد صدیق نوری، جواہر مارگ ، اندور۔ طلاق نامہ پر زبردستی دستخط کرالیا تو طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ بینوا توجروا۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــــ</strong></span> صورت مسؤلہ میں اگر جبر شرعی ہے یعنی قتل، یا کسی عضو کے کاٹے جانے یا ضرب شدید کا ظن غالب ہو گیا تو اس صورت میں اس نے طلاق نامہ پر دستخط کر دیا مگر نہ دل میں طلاق کا ارادہ کیا نہ زبان سے طلاق کا لفظ کہا تو طلاق واقع نہ ہوئی۔ اور اگر محض سخت اصرار پر کہ اس کی بات کیسے ٹالی جائے دستخط کردیا تو طلاق واقع ہو گئی کیونکہ یہ جبر نہیں ۔ ایسا ہی فتاوی رضویہ جلد پنجم صفحہ ٦٣١میں ہے ۔ <strong>اور تنویر الابصار جلد دوم صفحہ ٤٥٦ میں ہے:" يقع طلاق كل زوج بالغ عاقل ولو مكرها أو مخطئاً. اھ، درمختار جلد دوم صفحہ ٤٥٧ میں بحر سے ہے:" إن المراد الإكراه علي التلفظ بالطلاق فلو اكره علي ان يكتب طلاق امراته فكتب لا تطلق لأن الكتابة اقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة. اھ"</strong> والله تعالى اعلم بالصواب. <span style="color: #339966;"><strong>الجواب الصحيح: جلال الدين احمد الامجدي</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>كتبه: محمد سمير الدين حبيبي مصباحي</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...