Ref #14
Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1761
Verified Hanafi Fiqh
12.7K Views
طلاق والی عورت عدت میں کہاں رہے گی؟ از مفتی محمد رضا مرکزی
Font:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
طلاق والی عورت عدت میں کہاں رہے گی؟ از مفتی محمد رضا مرکزی
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
طلاق والی عورت عدت میں کہاں رہے گی؟
مطلقہ یعنی طلاق والی عورت عدت کہاں گزارے گی؟ سائل: نور شاہ. عبد الخالق نگر مالیگاؤں الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب طلاق کے بعد عورت اپنی عدت ایسی جگہ گزارے گی جہاں اسے مکمل طور پر تحفظ ہو، کسی قسم کی کوئی پریشانی نہ ہو۔ یہ عورت پر منحصر ہے کہ وہ کہاں عدت گزارنا چاہتی ہے۔ مطلقہ یا بیوہ عورت کو عدت کے دوران بلاعذر شرعی گھر سے باہر نہیں نکلنا چاہئے۔ کسی وجہ سے شوہر کے گھر عدت گزارنا مشکل ہو تو عورت اپنے میکے یا کسی دوسرے گھر میں بھی عدت گزار سکتی ہے۔ بہتر ہے مطلقہ شوہر کے اسی گھر میں عدت گزارے جہاں طلاق کے وقت اس کی رہائش تھی تاکہ رجوع کی کوئی سبیل بن سکتی ہو تو اس کا احتمال رہے۔ کسی شدید ضرورت یا پریشانی کے بغیر شوہر کے گھر کو نہ چھوڑے۔ رجوع نا ہونے کی صورت میں عدت مکمل ہونے پر عورت اس نکاح سے آزاد ہو جاتی ہے اور وہ دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی اور غیرمحرم ہو جاتے ہیں، تب شوہر کا گھر چھوڑنا لازم ہو جاتا ہے۔ وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں
Kutubahu & Verified by: