Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1990
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
4.5K Views
طوطا وغیرہ طیوران وحشی پالنا کیسا ؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
طوطا وغیرہ طیوران وحشی پالنا کیسا ؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
طوطا وغیرہ طیوران وحشی پالنا کیسا ؟
مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ مفتی صاحب میں طوطا پالنا چاہتا ہوں اس کو تھوڑے دنوں تک پنجرے میں بند کر کے رکھوں گا پھر مانوس ہوجائے گا تو اسے چھوڑ دوں گا کیا ایسا کرنا شرعاً جائز ہے ؟ المستفتی: محمد مجیب محلہ آمن سامن کھمبات شریف گجرات انڈیا۔ الجواب بعون الملک الوھاب جائز ہے جبکہ آپ اسے ایذا سے بچائیں اور آب و دانہ کی کافی خبرگیری رکھیں کہ طوطا وغیرہ طیوران وحشی کے پالنے کے متعلق حدیث صحیح اور اقوال ائمہ نقد و تنقیح سے حکم جواز مستفاد ہے جبکہ انہیں ایذا سے بچایا جائے اور آب و دانہ کی کافی خبرگیری رکھی جائے۔ ہاں عالمگیری میں قنیہ سے اس کی ممانعت نقل کی اگرچہ آب ودانہ میں تقصیرنہ کرے۔ حدیث پاک میں ہے: ” وَكَانَ إِذَا جَاءَ قَالَ : ” يَا أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ ؟ “. نُغَرٌ كَانَ يَلْعَبُ بِهِ،” اھ (صحيح البخاري، كِتَابٌ الْأَدَب، بَابُ الْكُنْيَةِ لِلصَّبِيِّ قَبْلَ أَنْ يُولَدَ لِلرَّجُلِ. رقم الحدیث ٦٢٠٣) یعنی حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضور ﷺ (میرے گھر)تشریف لاتے تو ارشاد فرماتے اے ابو عمیر نغیر نے کیا کیا اور نغر ایک پرندہ تھا جس سے وہ کھیلتے تھے۔ اسی کے تحت فتح الباری میں ہے: “وجواز امساك الطير في القفص ونحوه” اھ (ج١٨، ص٦٣٢، مطبوعہ الرسالۃ العالمیۃ) یعنی اس حدیث میں پرندے کو پنجرے وغیرہ میں روک رکھنے کے جواز کا حکم ہے۔ اعلی حضرت امام احمد رضا رضی اللہ تعالی عنہ نے تحریر فرمایا ہے: “جانوران وحشی کا پالنا جیسے طوطی، مینا، لال ، بلبل وغیرہا، عالمگیری میں قنیہ سے اس کی ممانعت نقل کی اگرچہ آب ودانہ میں تقصیرنہ کرے، حیث قال حبس بلبلا فی قفس وعلفھا لایجوز کذا فی القنیۃ (یعنی صاحب قنیہ نے کہاکہ کسی نے بلبل پنجرے میں قید کیا ہو اگراسے آب ودانہ دے تب بھی جائزنہیں، قنیہ میں اسی طرح مذکورہے) مگر نص صریح حدیث صحیح واقوال ائمہ نقد و تنقیح سے صاف جواز و اباحت مستفاد ہے جبکہ خبرگیری مذکور بروجہ کافی بجالائے” اھ (فتاوی رضویہ جدید ، ج٢٤، ص٦٤٦، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ تعالیٰ ورسولہ ﷺ اعلم بالصواب۔ کتبہ: محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ صدر میرانی دار الافتاء و شیخ الحدیث جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔ ٢ جمادی الثانی ٤٤٤١ھ مطابق ٢٦ دسمبر ٢٢٠٢ء
Kutubahu & Verified by:
<h2>طوطا وغیرہ طیوران وحشی پالنا کیسا ؟</h2> <span style="font-size: 14pt;">مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔</span> <span style="font-size: 14pt;">مفتی صاحب میں طوطا پالنا چاہتا ہوں اس کو تھوڑے دنوں تک پنجرے میں بند کر کے رکھوں گا پھر مانوس ہوجائے گا تو اسے چھوڑ دوں گا کیا ایسا کرنا شرعاً جائز ہے ؟</span> <span style="font-size: 14pt;">المستفتی: محمد مجیب محلہ آمن سامن کھمبات شریف گجرات انڈیا۔</span> <span style="color: #ff0000;"><strong><span style="font-size: 14pt;">الجواب بعون الملک الوھاب</span></strong></span> <span style="font-size: 14pt;"> جائز ہے جبکہ آپ اسے ایذا سے بچائیں اور آب و دانہ کی کافی خبرگیری رکھیں کہ طوطا وغیرہ طیوران وحشی کے پالنے کے متعلق حدیث صحیح اور اقوال ائمہ نقد و تنقیح سے حکم جواز مستفاد ہے جبکہ انہیں ایذا سے بچایا جائے اور آب و دانہ کی کافی خبرگیری رکھی جائے۔</span> <span style="font-size: 14pt;">ہاں عالمگیری میں قنیہ سے اس کی ممانعت نقل کی اگرچہ آب ودانہ میں تقصیرنہ کرے۔</span> <span style="font-size: 14pt;">حدیث پاک میں ہے: " وَكَانَ إِذَا جَاءَ قَالَ : " يَا أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ ؟ ". نُغَرٌ كَانَ يَلْعَبُ بِهِ،" اھ (صحيح البخاري، كِتَابٌ الْأَدَب، بَابُ الْكُنْيَةِ لِلصَّبِيِّ قَبْلَ أَنْ يُولَدَ لِلرَّجُلِ. رقم الحدیث ٦٢٠٣) </span> <span style="font-size: 14pt;">یعنی حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضور ﷺ (میرے گھر)تشریف لاتے تو ارشاد فرماتے اے ابو عمیر نغیر نے کیا کیا اور نغر ایک پرندہ تھا جس سے وہ کھیلتے تھے۔</span> <span style="font-size: 14pt;">اسی کے تحت فتح الباری میں ہے: "وجواز امساك الطير في القفص ونحوه" اھ (ج١٨، ص٦٣٢، مطبوعہ الرسالۃ العالمیۃ)</span> <span style="font-size: 14pt;">یعنی اس حدیث میں پرندے کو پنجرے وغیرہ میں روک رکھنے کے جواز کا حکم ہے۔</span> <span style="font-size: 14pt;">اعلی حضرت امام احمد رضا رضی اللہ تعالی عنہ نے تحریر فرمایا ہے: "جانوران وحشی کا پالنا جیسے طوطی، مینا، لال ، بلبل وغیرہا، عالمگیری میں قنیہ سے اس کی ممانعت نقل کی اگرچہ آب ودانہ میں تقصیرنہ کرے، حیث قال حبس بلبلا فی قفس وعلفھا لایجوز کذا فی القنیۃ (یعنی صاحب قنیہ نے کہاکہ کسی نے بلبل پنجرے میں قید کیا ہو اگراسے آب ودانہ دے تب بھی جائزنہیں، قنیہ میں اسی طرح مذکورہے) مگر نص صریح حدیث صحیح واقوال ائمہ نقد و تنقیح سے صاف جواز و اباحت مستفاد ہے جبکہ خبرگیری مذکور بروجہ کافی بجالائے" اھ (فتاوی رضویہ جدید ، ج٢٤، ص٦٤٦، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ تعالیٰ ورسولہ ﷺ اعلم بالصواب۔</span> <span style="font-size: 14pt;">کتبہ: محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔</span> <span style="font-size: 14pt;">صدر میرانی دار الافتاء و شیخ الحدیث جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔</span> <span style="font-size: 14pt;">٢ جمادی الثانی ٤٤٤١ھ مطابق ٢٦ دسمبر ٢٢٠٢ء</span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...