Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1456 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 5.6K Views

ظہر کی جماعت سے پہلے ظہر کی قضا پڑھنا کیسا ہے؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

ظہر کی جماعت سے پہلے ظہر کی قضا پڑھنا کیسا ہے؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

ظہر کی جماعت سے پہلے ظہر کی قضا پڑھنا کیسا ہے؟

سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت اس مسئلہ میں کہ ظہر کی جماعت قائم ہونے سے پہلے وقت ہو تو چار رکعت سنت ظہر کے بعد یا اس سے پہلے ظہر کی چار رکعت قضا پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟ اور ظہر کے فرض و سنت کے بعد پانچ وقتوں کی قضا پڑھنا کیسا ہے ؟ اور ایک وقت میں دوسرے وقت کی قضا پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــ ظہر کی جماعت قائم ہونے سے پہلے اگر وقت ہو تو چار رکعت سنت ظہر پڑھنے کے بعد یا اس سے پہلے ظہر کی چار رکعت قضا پڑھ سکتا ہے ۔ اور ظہر کے فرض اور سنت کے بعد بھی پانچ وقتوں کی قضا پڑھ سکتا ہے اور ایک وقت میں دوسرے وقت کی قضا پڑھ سکتا ہے اس لئے کہ قضا کے لئے کوئی وقت مقرر نہیں ۔ مگر سورج کا کنارہ ظاہر ہونے سے 20 منٹ بعد تک اور سورج ڈوبنے کے 20 منٹ پہلے سے سورج ڈوبنے تک اور دوپہر میں کوئی بھی نماز جائز نہیں. البتہ اس روز عصر کی نماز اگر نہیں پڑھی ہے تو اگر سورج ڈوبتا ہو پڑھ لے مگر اتنی تاخیر کرنا حرام ہے. ایسا ہی بہار شریعت حصہ سوم صفحہ 21 پر ہے. اور فتاویٰ عالمگیری مع خانیہ جلد اول صفحہ 121 مطبوعہ بیروت میں ہے ” ليس للقضاء وقت معين بل جميع اوقات العمر وقت له الا ثلاثۃ وقت طلوع الشمس و وقت الزوال ووقت الغروب فلانه لا تجوز الصلاۃ في هذه الاوقات كذا في البحر الرائق ١ھ. اور اسی جلد کے صفحہ 52 پر ہے” ثلاث ساعات لا تجوز فيها المكتوبۃ اذا طلعت الشمس حتى ترتفع عند الانتصاف الي ان تزول وعند احمرارها الي ان تغيب الا عصر يومه ولا يجوز فيها قضاء الفرائض والواجبات الفائتۃ من اوقاتها کالوتر. لیکن قضا نماز گھر میں پڑھنے کا حکم ہے اور مسجد میں پڑھی جائے تو حتی الامکان چھپا کر پڑھی جائے تاکہ لوگوں پر ظاہر نہ ہو کہ فضا پڑھ رہا ہے. اس لئے کہ نماز قضا کرنا گناہ اور گناہ کا ظاہر کرنا بھی گناہ. ” اظھار المعصیہ معصیۃ” اسی لئے جب کوئی وتر کی قضا عشاء کے وقت فرض اور اس کے بعد کی سنت سے پہلے پڑھے یا دوسرے وقتوں میں لوگوں کے سامنے پڑے تو اس کے لئے حکم یہ ہے کہ وہ تیسری رکعت میں دعائے قنوت سے پہلے تکبیر کہے مگر کانوں تک ہاتھ نہ اٹھائے. ردالمختار جلد اول باب الوتر صفحہ 492 میں ہے ” رافعا یدیہ لو فی الوقت اما فی القضاء عند الناس فلا یرفع حتی لا یطلع احد علی تقصیرہ ١ھ. ملخصا. واللہ تعالی اعلم ۔ الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی کتبہ : مفتی محمد ابرار احمد امجدی برکاتی

Kutubahu & Verified by:

<h2>ظہر کی جماعت سے پہلے ظہر کی قضا پڑھنا کیسا ہے؟</h2> سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت اس مسئلہ میں کہ ظہر کی جماعت قائم ہونے سے پہلے وقت ہو تو چار رکعت سنت ظہر کے بعد یا اس سے پہلے ظہر کی چار رکعت قضا پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟ اور ظہر کے فرض و سنت کے بعد پانچ وقتوں کی قضا پڑھنا کیسا ہے ؟ اور ایک وقت میں دوسرے وقت کی قضا پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــ</strong></span> ظہر کی جماعت قائم ہونے سے پہلے اگر وقت ہو تو چار رکعت سنت ظہر پڑھنے کے بعد یا اس سے پہلے ظہر کی چار رکعت قضا پڑھ سکتا ہے ۔ اور ظہر کے فرض اور سنت کے بعد بھی پانچ وقتوں کی قضا پڑھ سکتا ہے اور ایک وقت میں دوسرے وقت کی قضا پڑھ سکتا ہے اس لئے کہ قضا کے لئے کوئی وقت مقرر نہیں ۔ مگر سورج کا کنارہ ظاہر ہونے سے 20 منٹ بعد تک اور سورج ڈوبنے کے 20 منٹ پہلے سے سورج ڈوبنے تک اور دوپہر میں کوئی بھی نماز جائز نہیں. البتہ اس روز عصر کی نماز اگر نہیں پڑھی ہے تو اگر سورج ڈوبتا ہو پڑھ لے مگر اتنی تاخیر کرنا حرام ہے. ایسا ہی بہار شریعت حصہ سوم صفحہ 21 پر ہے. <strong>اور فتاویٰ عالمگیری مع خانیہ جلد اول صفحہ 121 مطبوعہ بیروت میں ہے " ليس للقضاء وقت معين بل جميع اوقات العمر وقت له الا ثلاثۃ وقت طلوع الشمس و وقت الزوال ووقت الغروب فلانه لا تجوز الصلاۃ في هذه الاوقات كذا في البحر الرائق ١ھ. اور اسی جلد کے صفحہ 52 پر ہے" ثلاث ساعات لا تجوز فيها المكتوبۃ اذا طلعت الشمس حتى ترتفع عند الانتصاف الي ان تزول وعند احمرارها الي ان تغيب الا عصر يومه ولا يجوز فيها قضاء الفرائض والواجبات الفائتۃ من اوقاتها کالوتر.</strong> لیکن قضا نماز گھر میں پڑھنے کا حکم ہے اور مسجد میں پڑھی جائے تو حتی الامکان چھپا کر پڑھی جائے تاکہ لوگوں پر ظاہر نہ ہو کہ فضا پڑھ رہا ہے. اس لئے کہ نماز قضا کرنا گناہ اور گناہ کا ظاہر کرنا بھی گناہ. <span style="color: #ff0000;"><strong>" اظھار المعصیہ معصیۃ"</strong></span> اسی لئے جب کوئی وتر کی قضا عشاء کے وقت فرض اور اس کے بعد کی سنت سے پہلے پڑھے یا دوسرے وقتوں میں لوگوں کے سامنے پڑے تو اس کے لئے حکم یہ ہے کہ وہ تیسری رکعت میں دعائے قنوت سے پہلے تکبیر کہے مگر کانوں تک ہاتھ نہ اٹھائے. <span style="color: #ff0000;"><strong>ردالمختار جلد اول باب الوتر صفحہ 492 میں ہے " رافعا یدیہ لو فی الوقت اما فی القضاء عند الناس فلا یرفع حتی لا یطلع احد علی تقصیرہ ١ھ. ملخصا.</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>واللہ تعالی اعلم ۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : مفتی محمد ابرار احمد امجدی برکاتی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...