Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1125 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 6.8K Views

عاقلہ بالغہ کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر کرنا کیسا ہے ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

عاقلہ بالغہ کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر کرنا کیسا ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

عاقلہ بالغہ کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر کرنا کیسا ہے ؟

سوال : بکر نے اپنی بیٹی ہندہ کا عقد بغیر اس کی رضا مندی کے زید کے ساتھ کردیا تھا. دراں حالیکہ ہندہ بالغہ تھی اس واقعے کو بھی تقریبا آٹھ سال گزر گئے اور ہندہ ابھی تک نہ اپنے سسرال گئی اور نہ ہی خلوت ہوئی. ایسی صورت میں عقد مذکور ہوا کہ نہیں؟ اور لڑکی اپنا دوسرا عقد کرنے کی مجاز ہے یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ عاقلہ بالغہ عورت کا نکاح بغیر اس کی اجازت کے نہیں ہو سکتا اور اگر کسی نے کر دیا تو اس کی اجازت پر موقوف ہے ۔ فتاوی عالمگیری جلد اول مصری صفحہ 269 میں ہے ‘‘ لا ہجوز نکاح احد علی بالغۃ صحیحۃ العقل من ان او سلطان بغیر اذنھا بکرا کانت او ثیبا فان فعل ذلک النکاح موقوف علی اجازتھا فان اجازتہ جاز وان ردتہ بطل کذا فی السراج الوھاج. لہذا صورت مستفسرہ میں اگر باپ کے کیے ہوئے نکاح کو ہندہ نے رد کر دیا تھا تو اس صورت میں طلاق حاصل کیے بغیر دوسرا نکاح کر سکتی ہے اور اگر پہلے رضامند نہ تھی مگر باپ کے کیے ہوئے نکاح کو جائز کر دیا تھا تو اس صورت میں بغیر طلاق دوسرا نکاح نہیں کر سکتی. واللہ تعالی اعلم ۔ کتبــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 676

Kutubahu & Verified by:

<h2>عاقلہ بالغہ کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر کرنا کیسا ہے ؟</h2> سوال : بکر نے اپنی بیٹی ہندہ کا عقد بغیر اس کی رضا مندی کے زید کے ساتھ کردیا تھا. دراں حالیکہ ہندہ بالغہ تھی اس واقعے کو بھی تقریبا آٹھ سال گزر گئے اور ہندہ ابھی تک نہ اپنے سسرال گئی اور نہ ہی خلوت ہوئی. ایسی صورت میں عقد مذکور ہوا کہ نہیں؟ اور لڑکی اپنا دوسرا عقد کرنے کی مجاز ہے یا نہیں؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> عاقلہ بالغہ عورت کا نکاح بغیر اس کی اجازت کے نہیں ہو سکتا اور اگر کسی نے کر دیا تو اس کی اجازت پر موقوف ہے ۔ فتاوی عالمگیری جلد اول مصری صفحہ 269 میں ہے '<span style="color: #ff0000;"><strong>' لا ہجوز نکاح احد علی بالغۃ صحیحۃ العقل من ان او سلطان بغیر اذنھا بکرا کانت او ثیبا فان فعل ذلک النکاح موقوف علی اجازتھا فان اجازتہ جاز وان ردتہ بطل کذا فی السراج الوھاج.</strong></span> لہذا صورت مستفسرہ میں اگر باپ کے کیے ہوئے نکاح کو ہندہ نے رد کر دیا تھا تو اس صورت میں طلاق حاصل کیے بغیر دوسرا نکاح کر سکتی ہے اور اگر پہلے رضامند نہ تھی مگر باپ کے کیے ہوئے نکاح کو جائز کر دیا تھا تو اس صورت میں بغیر طلاق دوسرا نکاح نہیں کر سکتی. <span style="color: #000000;"><strong>واللہ تعالی اعلم ۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 676</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...