Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

عدت کے اندر نکاح کرنا کیسا ہے ؟ از مفتی محمد رضا مرکزی

عدت کے اندر نکاح کرنا کیسا ہے ؟ از مفتی محمد رضا مرکزی
Reference 444 September 18, 2025 9,790 views
اصل سوالعدت کے اندر نکاح کرنا کیسا ہے ؟ از مفتی محمد رضا مرکزی

عدت کے اندر نکاح کرنا کیسا ہے از مفتی محمد رضا مرکزی

عدت کے اندر نکاح حرام وگناہ کا کام ہے ہمارے شہر میں عدت کے اندر ہی دوسرا نکاح کرایا جا رہا ہے قاضی و ائمہ حضرات دوسرا نکاح پڑھانے سے پہلے عدت وطلاق کی تصدیق ضرور کرالیں بعدہ نکاح پڑھائیں ۔

 اگر بیوی اپنے شوہر کے انتقال کے بعد عدت میں نہ بیٹھے تو کیا بیوی کو گناہ ہوگا؟

سوال: عمر رسیدہ خواتین جن کو حیض آنا بند ہوگیاہو اس کے لیے عدت کیوں ضروری ہے ؟ جب کہ عدت صرف حمل کی تصدیق کرنے کے لیے ہوتی ہے؟ اور عدت کی اہمیت کیا ہے؟ اور اگر بیوی اپنے شوہر کے انتقال کے بعد عدت میں نہ بیٹھے تو کیا بیوی کو گناہ ہوگا؟

سائل : البرکات فاؤنڈیشن ہزار کھولی و رضائے اشرفی گروپ عائشہ نگر مالیگاؤں

الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب 

عدت کا مقصد صرف حمل ہونے، نہ ہونے کی تصدیق نہیں ہے؛ کیوں کہ اگر ایسا ہوتا تو حیض والی عورتوں میں صرف ایک حیض عدت ہوتی، مکمل تین حیض نہ ہوتی؛ کیوں کہ ایک بار حیض آنے سے حمل نہ ہونا متعین ہوجاتا ہے، نیز قرآن کریم کی کسی آیت یا کسی حدیث میں یہ بات نہیں آئی کہ عدت محض حمل کی تصدیق کے لیے ہوتی ہے، یہ محض من گھڑت بات معلوم ہوتی ہے؛ بلکہ فقہائے کرام نے لکھا ہے کہ طلاق، خلع یا فسخ نکاح کی صورت میں ان عورتوں کی عدت جنھیں حیض آتا ہو، مکمل تین حیض ہوتی ہے

جیسا کہ قرآن پاک، سورہ بقرہ، آیت: ۲۲۸ میں ہے) جن میں سے پہلا حیض براء ت رحم جاننے کے لیے، دوسرا حرمت نکاح کی وجہ سے اور تیسرا آزادی کی فضیلت کی وجہ سے ۔

(در مختار مع شامی ۵: ۱۸۲، )

اور اگر کسی عورت کو حیض نہ آتا ہو یا وہ ابھی حیض کی عمر کو نہیں پہنچی تو مہینہ اس کے حق میں حیض کے قائم مقام ہوگا اور اس کی عدت تین مہینہ ہوگی جیسا کہ سورہ طلاق (آیت: ۴) میں ہے ۔ الحاصل حکم خداوندی کی وجہ سے ہر وہ عورت جسے دخول یا خلوت کے بعد طلاق ہوگئی ہو، یا اس کا خلع ہوا ہو یا شرعی طریقہ پر نکاح فسخ کیا گیا ہو یا دخول اور خلوت کی قید کے بغیر جس عورت کا شوہر انتقال کرگیا ہو، اس پر عدت لازم وضروری ہے ۔

البتہ حمل کی صورت میں عدت علی الاطلاق وضع حمل ہوگی، اور اگر حمل نہ ہو توشوہر کی وفات کی صورت میں چار مہینہ دس دن، اور طلاق وغیرہ کی صورت میں اگر حیض آتا ہو تو تین حیض ورنہ تین مہینہ ہوگی ۔

عدت مذہب اسلام میں لازم وضروری ہے اور بعض احکام میں عدت بحکم نکاح ہوتی ہے؛ اسی لیے معتدہ کا نکاح کسی اور مرد سے جائز نہیں، اور اس کی اہمیت کی سب بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ اللہ تعالی کا لازم قطعی حکم ہے، اس پر عمل کرنا لازم وضروری ہے۔

اورعورت کا عدت وفات یا عدت طلاق وغیرہ میں احکام عدت کی رعایت نہ کرنا اور ان کی خلاف ورزی کرنا ناجائز وحرام ہے، ایسی عورت سخت گنہگار ہوتی ہے، اور اگر کوئی عورت حالت عدت میں نکاح کرلیتی ہے تو اس کا نکاح شرعاً ہرگز درست ومعتبر نہ ہوگا؛ بلکہ باطل وغیر معتبر ہوگا اور یہ ایسا ہی ہوگا، جیسے کوئی منکوحہ عورت اپنے شوہر کے علاوہ کسی دوسرے مرد سے نکاح کرلے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم

کتـــــــــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی

خادم التدریس والافتا

الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.