Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #290 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 4.8K Views

عشاء کی فرض نماز جماعت میں شامل نہ ہو پائے تو وہ شخص وتر کی نماز جماعت سے امام کے پیچھے پڑھ سکتے ہیں؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

عشاء کی فرض نماز جماعت میں شامل نہ ہو پائے تو وہ شخص وتر کی نماز جماعت سے امام کے پیچھے پڑھ سکتے ہیں؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

عشاء کی فرض نماز جماعت میں شامل نہ ہو پائے تو وہ شخص وتر کی نماز جماعت سے امام کے پیچھے پڑھ سکتے ہیں؟

عنوان : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ اگر رمضان میں کوئی شخص عشاء کی فرض نماز جماعت میں شامل نہ ہو پائے تو وہ شخص وتر کی نماز جماعت سے امام کے پیچھے پڑھ سکتے ہیں؟

الجواب بعون الملک الوھاب:

صورت مسئولہ میں رمضان المبارک کے مہینے میں جس شخص کی عشاء کی جماعت ترک ہوگی ہوتووہ اگر وتر جماعت سے پڑھنا چاہئے تو پڑھ سکتا ہے کیوں کہ وتر کی جماعت سنت ہے اور تروایح کی جماعت بھی سنت ہے لہذا

وتر کی جماعت تراویح کی جماعت کے تابع ہوئی؛ کیوں کہ فی نفسہ نماز وتر فرض عشاء کے تابع ہےاور وتر کی جماعت کا مسنون ہونا تراویح کی جماعت کے مسنون ہونے کے تابع ہے ۔ اگر وتر کی جماعت عشاء کی جماعت کے تابع ہوتی تو پھر پورا سال جماعت کے ساتھ مسنون ہوتے اس لیے کہ عشاء کی جماعت پورے سال واجب ہے اور وتر میں ایسا نہیں بلکہ صرف رمضان میں مسنون ہے۔۔

پس ثابت ہوا کہ وتر کی جماعت کا مسنون ہونا تراویح کی جماعت کے مسنون ہونے کے تابع ہے۔۔

جیسا کہ فتاویٰ شامی میں ہے

“الذي يظهر أن جماعة الوتر تبع لجماعة التراويح وإن كان الوتر نفسه أصلاً في ذاته؛ لأن سنة الجماعة في الوتر إنما عرفت بالأثر تابعة للتراويح على أنهم اختلفوا في أفضلية صلاتها بالجماعة بعد التراويح كما يأتي”.۔

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب

کتبہ؛ محمد عمران القادری اشرفی جامعی۔۔

خادم جہانگیر اشرف دارالافتاء والقضاء۔

جامعہ معین السنہ پونچھ۔ جموں و کشمیر

Kutubahu & Verified by:

<h2 style="direction: rtl;">عشاء کی فرض نماز جماعت میں شامل نہ ہو پائے تو وہ شخص وتر کی نماز جماعت سے امام کے پیچھے پڑھ سکتے ہیں؟</h2> <p style="direction: rtl;"><em><strong>عنوان : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ اگر رمضان میں کوئی شخص عشاء کی فرض نماز جماعت میں شامل نہ ہو پائے تو وہ شخص وتر کی نماز جماعت سے امام کے پیچھے پڑھ سکتے ہیں؟</strong></em></p> <p style="direction: rtl;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب:</strong></p> <p style="direction: rtl;">صورت مسئولہ میں رمضان المبارک کے مہینے میں جس شخص کی عشاء کی جماعت ترک ہوگی ہوتووہ اگر وتر جماعت سے پڑھنا چاہئے تو پڑھ سکتا ہے کیوں کہ وتر کی جماعت سنت ہے اور تروایح کی جماعت بھی سنت ہے لہذا</p> <p style="direction: rtl;">وتر کی جماعت تراویح کی جماعت کے تابع ہوئی؛ کیوں کہ فی نفسہ نماز وتر فرض عشاء کے تابع ہےاور وتر کی جماعت کا مسنون ہونا تراویح کی جماعت کے مسنون ہونے کے تابع ہے ۔ اگر وتر کی جماعت عشاء کی جماعت کے تابع ہوتی تو پھر پورا سال جماعت کے ساتھ مسنون ہوتے اس لیے کہ عشاء کی جماعت پورے سال واجب ہے اور وتر میں ایسا نہیں بلکہ صرف رمضان میں مسنون ہے۔۔</p> <p style="direction: rtl;">پس ثابت ہوا کہ وتر کی جماعت کا مسنون ہونا تراویح کی جماعت کے مسنون ہونے کے تابع ہے۔۔</p> <p style="direction: rtl;">جیسا کہ فتاویٰ شامی میں ہے</p> <p style="direction: rtl;">"الذي يظهر أن جماعة الوتر تبع لجماعة التراويح وإن كان الوتر نفسه أصلاً في ذاته؛ لأن سنة الجماعة في الوتر إنما عرفت بالأثر تابعة للتراويح على أنهم اختلفوا في أفضلية صلاتها بالجماعة بعد التراويح كما يأتي".۔</p> <p style="direction: rtl;">واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب</p> <p style="direction: rtl;"><strong><em>کتبہ؛ محمد عمران القادری اشرفی جامعی۔۔</em></strong></p> <p style="direction: rtl;"><strong><em>خادم جہانگیر اشرف دارالافتاء والقضاء۔</em></strong></p> <p style="direction: rtl;"><strong><em>جامعہ معین السنہ پونچھ۔ جموں و کشمیر</em></strong></p>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...