Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1903
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
13.6K Views
عشاء کی نماز میں امام نے کچھ آیتیں آہستہ تلاوت کیں تو؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
عشاء کی نماز میں امام نے کچھ آیتیں آہستہ تلاوت کیں تو؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
عشاء کی نماز میں امام نے کچھ آیتیں آہستہ تلاوت کیں تو؟
مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ میں کہ زید عشاء کی نماز پڑھا رہا تھا دوسری رکعت میں سورۃ فاتحہ اهدنا الصراط المستقيم تک آہستہ پڑھ لیا پھر یاد آیا تو شروع سے سورۃ فاتحہ جہرًا پڑھا پھر نماز پوری کی سجدہ سہو نہیں کیا ، تو نماز کا کیا حکم ہے برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں۔المستفتی: دلخوش رضا نعیمی۔ الجواب بعون الملک الوھاب صورت مسئولہ میں نماز کو دبارہ پڑھنا واجب ہے۔ وجہ یہ کہ فجر و مغرب و عشاء کی اول کی دو رکعتوں میں امام پر جہرًا قرأت واجب ہے اگر بھول کر اتنا قرآن جس سے فرض قرأت ادا ہوسکے آہستہ پڑھ لیا تو سجدۂ سہو واجب ہے اور اس کی مقدار مذہب مختار میں ایک آیت ہے۔ علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: ” ان الجهر يجب على الامام فيما يجهر فيه وهو صلاة الصبح والاوليان من المغرب والعشاء ” اھ (رد المحتار علی الدر المختار ، ج٢، ص١٦٣، کتاب الصلاۃ، باب صفة الصلاة ، مطلب لا ينبغي ان يعدل عن الدراية اذا واقفتها رواية ، دار عالم الكتب الرياض) یعنی: بے شک جہری نمازوں میں امام پر جہر واجب ہے اور وہ فجر ہے اور مغرب و عشاء کی اول کی دو رکعتیں ہیں۔ فتاوی رضویہ جدید میں بحوالہ درمختار ہے: ” تجب سجدتان بترك واجب سهوا كالجهر فيما يخافت فيه وعكسه والاصح تقديره بقدر ما تجوز به الصلاة في الفصلين ” ملخصاً (ج٦، ص٢٥١، کتاب الصلاۃ، باب القرأة ، رضا فاؤنڈیشن لاہور) یعنی سہوا ترک واجب سے دو سجدے لازم آتے ہیں مثلا سری نماز میں جہرا قرأت کرلے یا اسکا عکس ،اور اصح یہی ہے کہ دونوں صورتوں میں اتنی قرأت سے سجدہ لازم ہوجائے گا جس سے نماز ادا ہوجاتی ہو۔ اسی میں بحوالہ تنویر الابصار ہے: ” فرض القرأة آية علي المذهب” اھ (فتاوی رضویہ جدید، ج٦، ص٢٥٢، کتاب الصلاۃ، باب القرأة، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) یعنی: مذہب مختار میں ایک آیت کی قرأت فرض ہے۔ اعلی حضرت امام احمد رضا خان رضی ﷲ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں: “اگر امام ان رکعتوں میں جن میں آہستہ پڑھنا واجب ہے جیسے ظہر و عصر کی سب رکعات اور عشاء کی پچھلی دو اور مغرب کی تیسری اتنا قرآن عظیم جس سے فرض قرأت ادا ہو سکے بھول کر بآواز پڑھ جائیگا تو بلاشبہ سجدہ سہو واجب ہوگا، اگر بلا عذرشرعی سجدہ نہ کیا یا اس قدر قصدا بآواز پڑھا تو نماز کا پھیرنا واجب ہے،اور اگر اس مقدار سے کم مثلا ایک آدھ کلمہ بآواز بلند نکل جائے تو مذاہب راجح میں کچھ حرج نہیں۔ ” اھ (فتاوی رضویہ جدید، ج٦، ص٢٥١، کتاب الصلاۃ، باب القرأة، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ تعالیٰ ورسولہ ﷺ اعلم بالصواب۔جس امام کی قرأت درست نہ ہو یا مجہول پڑھنے والا ہو اس کے پیچھے نماز پڑھنا
نماز میں خلاف ترتیب قرآن پاک پڑھنا کیسا ؟
کتبہ: گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ صدر میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔ ١٣ ربیع الثانی ٤٤٤١ھ مطابق ٩ نومبر ٢٢٠٢ء
Kutubahu & Verified by:
<h3>عشاء کی نماز میں امام نے کچھ آیتیں آہستہ تلاوت کیں تو؟</h3> مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ میں کہ زید عشاء کی نماز پڑھا رہا تھا دوسری رکعت میں سورۃ فاتحہ اهدنا الصراط المستقيم تک آہستہ پڑھ لیا پھر یاد آیا تو شروع سے سورۃ فاتحہ جہرًا پڑھا پھر نماز پوری کی سجدہ سہو نہیں کیا ، تو نماز کا کیا حکم ہے برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں۔المستفتی: دلخوش رضا نعیمی۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> صورت مسئولہ میں نماز کو دبارہ پڑھنا واجب ہے۔ وجہ یہ کہ فجر و مغرب و عشاء کی اول کی دو رکعتوں میں امام پر جہرًا قرأت واجب ہے اگر بھول کر اتنا قرآن جس سے فرض قرأت ادا ہوسکے آہستہ پڑھ لیا تو سجدۂ سہو واجب ہے اور اس کی مقدار مذہب مختار میں ایک آیت ہے۔ علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: " ان الجهر يجب على الامام فيما يجهر فيه وهو صلاة الصبح والاوليان من المغرب والعشاء " اھ (رد المحتار علی الدر المختار ، ج٢، ص١٦٣، کتاب الصلاۃ، باب صفة الصلاة ، مطلب لا ينبغي ان يعدل عن الدراية اذا واقفتها رواية ، دار عالم الكتب الرياض) یعنی: بے شک جہری نمازوں میں امام پر جہر واجب ہے اور وہ فجر ہے اور مغرب و عشاء کی اول کی دو رکعتیں ہیں۔ فتاوی رضویہ جدید میں بحوالہ درمختار ہے: " تجب سجدتان بترك واجب سهوا كالجهر فيما يخافت فيه وعكسه والاصح تقديره بقدر ما تجوز به الصلاة في الفصلين " ملخصاً (ج٦، ص٢٥١، کتاب الصلاۃ، باب القرأة ، رضا فاؤنڈیشن لاہور) یعنی سہوا ترک واجب سے دو سجدے لازم آتے ہیں مثلا سری نماز میں جہرا قرأت کرلے یا اسکا عکس ،اور اصح یہی ہے کہ دونوں صورتوں میں اتنی قرأت سے سجدہ لازم ہوجائے گا جس سے نماز ادا ہوجاتی ہو۔ اسی میں بحوالہ تنویر الابصار ہے: " فرض القرأة آية علي المذهب" اھ (فتاوی رضویہ جدید، ج٦، ص٢٥٢، کتاب الصلاۃ، باب القرأة، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) یعنی: مذہب مختار میں ایک آیت کی قرأت فرض ہے۔ اعلی حضرت امام احمد رضا خان رضی ﷲ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں: "اگر امام ان رکعتوں میں جن میں آہستہ پڑھنا واجب ہے جیسے ظہر و عصر کی سب رکعات اور عشاء کی پچھلی دو اور مغرب کی تیسری اتنا قرآن عظیم جس سے فرض قرأت ادا ہو سکے بھول کر بآواز پڑھ جائیگا تو بلاشبہ سجدہ سہو واجب ہوگا، اگر بلا عذرشرعی سجدہ نہ کیا یا اس قدر قصدا بآواز پڑھا تو نماز کا پھیرنا واجب ہے،اور اگر اس مقدار سے کم مثلا ایک آدھ کلمہ بآواز بلند نکل جائے تو مذاہب راجح میں کچھ حرج نہیں۔ " اھ (فتاوی رضویہ جدید، ج٦، ص٢٥١، کتاب الصلاۃ، باب القرأة، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ تعالیٰ ورسولہ ﷺ اعلم بالصواب۔ <h5 class="entry-title"><a href="https://masailworld.com/namaz-ke-masail-11/" rel="bookmark">جس امام کی قرأت درست نہ ہو یا مجہول پڑھنے والا ہو اس کے پیچھے نماز پڑھنا</a></h5> <h5 class="entry-title"><a href="https://masailworld.com/namaz-me-be-tarteeb-quran-padhna/" rel="bookmark">نماز میں خلاف ترتیب قرآن پاک پڑھنا کیسا ؟</a></h5> <strong>کتبہ: گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔</strong> <strong>صدر میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔ ١٣ ربیع الثانی ٤٤٤١ھ مطابق ٩ نومبر ٢٢٠٢ء</strong>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...