Islamic Guidance Today: Wednesday, 29 July 2026 | 🕌 13 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #652 Verified Hanafi Fiqh 11.2K Views

عصراور مغرب کے دوران روزہ رکھنا کیسا ہے ؟

Font:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

عصراور مغرب کے دوران روزہ رکھنا کیسا ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

عصراور مغرب کے دوران روزہ رکھنا (یعنی عصر سے مغرب تک نہ کھانا نہ پینا) کیسا ہے ؟

الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ پاکستان و ہندوستان میں اسے عصر اور مغرب کے درمیان والا روزہ کہاجاتا ہے جبکہ بعض جگہوں پر اس کو عصر کا روزہ بھی کہتے ہیں ۔ حدیث و فقہ میں اس کی اصل نہیں ہے اور نہ ہی یہ روزہ ہے البتہ بعض بزرگوں کا یہ معمول رہا ہے کہ وہ عصر اور مغرب کے درمیان کچھ کھاتے پیتے نہیں تھے ۔ تو جو بزرگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عصر تا مغرب کھانے پینے سے باز رہے گا اتنا ہی نفسانی شہوات و لذات سے بچا رہے گا اور جتنا نفسانی خواہشات سے بچے گا اتنا ہی اس کے لیے باعث اجروثواب ہوگا ۔ چنانچہ سیدی اعلحضرت امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ سے جب اس کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواباً ارشاد فرمایا : “حدیث فقہ میں اس کی اصل نہیں معمولاتِ بعض مشائخ سے ہے اور اس پر عمل میں حرج نہیں انسان جتنی دیر شہوات نفسی سے بچے بہتر ہے ۔ ” (فتاوی رضویہ جلد23 صفحہ 106 رضا فاؤنڈیشن لاہور ) واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم والسلام کتبــــــــــہ : مفتی ابو اسید عبید رضا مدنی

Kutubahu & Verified by:

<h2>عصراور مغرب کے دوران روزہ رکھنا (یعنی عصر سے مغرب تک نہ کھانا نہ پینا) کیسا ہے ؟</h2> <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> پاکستان و ہندوستان میں اسے عصر اور مغرب کے درمیان والا روزہ کہاجاتا ہے جبکہ بعض جگہوں پر اس کو عصر کا روزہ بھی کہتے ہیں ۔ حدیث و فقہ میں اس کی اصل نہیں ہے اور نہ ہی یہ روزہ ہے البتہ بعض بزرگوں کا یہ معمول رہا ہے کہ وہ عصر اور مغرب کے درمیان کچھ کھاتے پیتے نہیں تھے ۔ تو جو بزرگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عصر تا مغرب کھانے پینے سے باز رہے گا اتنا ہی نفسانی شہوات و لذات سے بچا رہے گا اور جتنا نفسانی خواہشات سے بچے گا اتنا ہی اس کے لیے باعث اجروثواب ہوگا ۔ چنانچہ سیدی اعلحضرت امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ سے جب اس کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواباً ارشاد فرمایا : "حدیث فقہ میں اس کی اصل نہیں معمولاتِ بعض مشائخ سے ہے اور اس پر عمل میں حرج نہیں انسان جتنی دیر شہوات نفسی سے بچے بہتر ہے ۔ " (فتاوی رضویہ جلد23 صفحہ 106 رضا فاؤنڈیشن لاہور ) واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم والسلام <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــــــہ : مفتی ابو اسید عبید رضا مدنی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas: