01
The questionSawaal
اصل سوالعصر و مغرب کے درمیان کھانے پینے کے بارے میں شریعت کا کیاحکم ہے؟
02
The responseAl-Jawab
عصر و مغرب کے درمیان کھانے پینے کے بارے میں شریعت کا کیاحکم ہے؟
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ : کیافرماتےہیں علمائےدین اس مسئلہ کے بارے میں کہ عصر و مغرب کے درمیان کھانے پینے کے بارے میں شریعت کا کیاحکم ہے؟ سائل: قاری خالد لاہور وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ الجـــــوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب بعض جگہ پر عوام میں یہ مشہور ہے کہ عصر کے بعد کھانا نہیں کھانا چاہیے یہ بےاصل ہے بعد عصر کھانا کھانے میں شرعی اعتبار سے توکوئ ممانعت نہیں ہے، اور شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں ہے! ہاں بعض مشائخ کا معمول رہا ہے: امام اہلسنت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں : کہ حدیث و فقہ میں اس کی اصل نہیں ۔ معمولات بعض مشائخ سے ہے اوراس پر عمل میں حرج نہیں انسان جتنی دیر شہوات نفسی سے بچے بہتر ہے: فتاویٰ رضویہ جلد 23صفحہ 106- رضا رفاؤنڈیشن لاہور واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ کتبــــــــــــــــــــــہ : ابورضا محمد عمران عطاری مدنی
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.