Islamic Guidance Today: Wednesday, 29 July 2026 | 🕌 13 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1415 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 11.1K Views

عقیدہ کسے کہتے ہیں اور اسکی کتنی قسمیں ہیں؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

عقیدہ کسے کہتے ہیں اور اسکی کتنی قسمیں ہیں؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

عقیدہ کسے کہتے ہیں اور اسکی کتنی قسمیں ہیں؟

سوال:- کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ عقیدہ کسے کہتے ہیں اور اسکی کتنی قسمیں ہیں؟ باسمه تعالى وتقدس الجواب بعون الملك الوهاب: عقیدہ وہ حکم ہے جس کی تصدیق کی جائے،کبھی نفس تصدیق کو بھی عقیدہ کہا جاتا ہے اور عقیدہ کی دو قسمیں ہیں: (۱)جس کو ثابت کرنے میں عقل مستقل نہ ہو جیسے عذاب قبر،حوض کوثر،پل صراط،شفاعت وغیرہ ۔ (۲)جس کو ثابت کرنے میں عقل مستقل ہو جیسے واجب الوجود،وحدت الوجود،اللہ رب العزت کا علم وقدرت اور حدوث عالم، جیسا کہ النبراس میں ہے :  “والعقائدجمع عقيدة وهى القضية التى يصدق بها وقد تطلق على نفس التصديق فلان العقائدقسمان قسم لا يستقل العقل باثباته كعذاب القبر والحوض والصراط والشفاعة وتوقفه على النصوص ظاهر وقسم يستقل باثباته كوجودالواجب ووحدته وقدرته وحدوث العالم،ملتقطا”(النبراس ص۱۰) واللہ تعالی اعلم بالصواب کتبہ: محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ المتخصص فی الفقہ الاسلامى بدارالعلوم العلیمیہ الجواب صحیح محمد اختر حسین قادری خادم افتاودرس دارالعلوم علیمیہ جمداشاہی بستی یوپی

Kutubahu & Verified by:

<h2>عقیدہ کسے کہتے ہیں اور اسکی کتنی قسمیں ہیں؟</h2> سوال:- کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ عقیدہ کسے کہتے ہیں اور اسکی کتنی قسمیں ہیں؟ باسمه تعالى وتقدس <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملك الوهاب:</strong></span> عقیدہ وہ حکم ہے جس کی تصدیق کی جائے،کبھی نفس تصدیق کو بھی عقیدہ کہا جاتا ہے اور عقیدہ کی دو قسمیں ہیں: (۱)جس کو ثابت کرنے میں عقل مستقل نہ ہو جیسے عذاب قبر،حوض کوثر،پل صراط،شفاعت وغیرہ ۔ (۲)جس کو ثابت کرنے میں عقل مستقل ہو جیسے واجب الوجود،وحدت الوجود،اللہ رب العزت کا علم وقدرت اور حدوث عالم، جیسا کہ النبراس میں ہے :  "والعقائدجمع عقيدة وهى القضية التى يصدق بها وقد تطلق على نفس التصديق فلان العقائدقسمان قسم لا يستقل العقل باثباته كعذاب القبر والحوض والصراط والشفاعة وتوقفه على النصوص ظاهر وقسم يستقل باثباته كوجودالواجب ووحدته وقدرته وحدوث العالم،ملتقطا"(النبراس ص۱۰) واللہ تعالی اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ المتخصص فی الفقہ الاسلامى بدارالعلوم العلیمیہ</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح محمد اختر حسین قادری خادم افتاودرس دارالعلوم علیمیہ جمداشاہی بستی یوپی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...