Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1302 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 8.1K Views

عقیقہ میں کتنے جانور ذبح کرنا ضروری ہے ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

عقیقہ میں کتنے جانور ذبح کرنا ضروری ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

عقیقہ میں کتنے جانور ذبح کرنا ضروری ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین درج ذیل مسئلہ کے بارے میں اگر کوئی شخص استطاعت نہ رکھتا ہو تو کہ اپنے لڑکے کے عقیقہ میں دو یا ایک بکرا ذبح کرے تو کیا ایک بکری ذبح کرکے عقیقہ کرسکتا ہے یا نہیں۔؟ جواب عنایت فرمائیں۔ سائل۔ محمد عابد علی نظامی اوراٹار مہراجگنج بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب بتوفیق الملک الوھاب صورت مسئولہ میں ایک بکری سے بھی عقیقہ ہو جائیگا۔ جیسا کہ صاحب بہار شریعت صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں کہ : لڑکے کے عقیقہ میں دوبکرے اور لڑکی میں ایک بکری ذبح کی جائے یعنی لڑکے میں نر جانور اور لڑکی میں مادہ مناسب ہے۔ اور لڑکے کے عقیقہ میں بکریاں اور لڑکی میں بکرا کیا جب بھی حرج نہیں۔ (بہار شریعت جلد سوم حصہ پانزدہم صفحہ ٣٥٧ مسئلہ نمبر ٧) پھر آگے تحریرفرماتے ہیں کہ لڑکے کے عقیقہ میں دوبکریوں کی جگہ ایک ہی بکری کسی نے کی تو یہ بھی جائز ہے ایک حدیث سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عقیقہ میں ایک مینڈھا ذبح ہوا ۔ ( بہار شریعت جلد سوم حصہ پانزدہم صفحہ ٣٥٧ مسئلہ نمبر ١٤) واللہ ورسولہ اعلم باالصواب، کتبـــــہ : مفتی منظور القادری خادم التدریس لدرجات العالیہ دارالعلوم معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج یوپی۔

Kutubahu & Verified by:

<h2>عقیقہ میں کتنے جانور ذبح کرنا ضروری ہے ؟</h2> کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین درج ذیل مسئلہ کے بارے میں اگر کوئی شخص استطاعت نہ رکھتا ہو تو کہ اپنے لڑکے کے عقیقہ میں دو یا ایک بکرا ذبح کرے تو کیا ایک بکری ذبح کرکے عقیقہ کرسکتا ہے یا نہیں۔؟ جواب عنایت فرمائیں۔ سائل۔ محمد عابد علی نظامی اوراٹار مہراجگنج بسم اللہ الرحمن الرحیم <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بتوفیق الملک الوھاب</strong></span> صورت مسئولہ میں ایک بکری سے بھی عقیقہ ہو جائیگا۔ جیسا کہ صاحب بہار شریعت صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں کہ : لڑکے کے عقیقہ میں دوبکرے اور لڑکی میں ایک بکری ذبح کی جائے یعنی لڑکے میں نر جانور اور لڑکی میں مادہ مناسب ہے۔ اور لڑکے کے عقیقہ میں بکریاں اور لڑکی میں بکرا کیا جب بھی حرج نہیں۔ (بہار شریعت جلد سوم حصہ پانزدہم صفحہ ٣٥٧ مسئلہ نمبر ٧) پھر آگے تحریرفرماتے ہیں کہ لڑکے کے عقیقہ میں دوبکریوں کی جگہ ایک ہی بکری کسی نے کی تو یہ بھی جائز ہے ایک حدیث سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عقیقہ میں ایک مینڈھا ذبح ہوا ۔ ( بہار شریعت جلد سوم حصہ پانزدہم صفحہ ٣٥٧ مسئلہ نمبر ١٤) واللہ ورسولہ اعلم باالصواب، <span style="color: #339966;"><strong>کتبـــــہ : مفتی منظور القادری خادم التدریس لدرجات العالیہ</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong> دارالعلوم معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج یوپی۔</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...