Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1410 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 10.5K Views

علمائے دین کی توہین کرنے کا حکم از مفتی ارشاد رضا علیمی

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

علمائے دین کی توہین کرنے کا حکم از مفتی ارشاد رضا علیمی

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

علمائے دین کی توہین کرنے کا حکم

سوال:- علمائے دین کی توہین کب کفر ہے کب کفر نہیں؟ الجواب بعون الملك الوهاب: مطلقا علمائے دین کی توہین یا کسی عالم کی عالم دین ہونے کی وجہ سے توہین صریح کفر ہے اور اگر عالم دین کی بوجہ علم عزت کرتا ہے مگر دنیوی معاملات کے سبب گالی دیتا ہے یا برا کہتا ہے تو سخت فاسق وفاجر ہے اور اگر بے سبب عالم دین سے بغض رکھتا ہے تو وہ دل کا مریض ہے اور اس کے کافر ہونے کا اندیشہ ہے- فتاوی رضویہ میں ہے ۔ “اور مطلقا علمائے دین یا کسی عالم دین کو ان کے عالم ہونے کے سبب برا کہنا یا شریعت مطہرہ کی ادنی توہین کرنا یہ تو یقینا قطعا کفر وارتداد ہے”(ج۱۴ ص۵۷۰ مترجم) نیز فتاوی رضویہ میں ہے ۔ “پھر اگر عالم کو اس لیے برا کہتا ہے کہ وہ عالم ہے جب تو صریح کافر ہے اور اگر بوجہ علم اس کی تعظیم فرض جانتا ہے مگر اپنی کسی دنیوی خصومت کے باعث برا کہتا ہے گالی دیتا ہے تحقیر کرتا ہے تو سخت فاسق فاجر ہے اور اگر بے سبب رنج رکھتا ہے تو مریض القلب خبیث الباطن ہے اور اس کے کفر کا اندیشہ ہے”(ج۹ ص۱۴۰ نصف اول) اور فتاوی امجدیہ میں ہے ۔ “علما کی توہین بحثیت علم کفر ہے”(ج۴ص۴۵۴) واللہ تعالی اعلم بالصواب کتبہ: محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ المتخصص فی الفقہ الاسلامی بدارالعلوم العلیمیہ الجواب صحيح : محمد اختر حسین قادری خادم افتاودرس دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

Kutubahu & Verified by:

<h2>علمائے دین کی توہین کرنے کا حکم</h2> سوال:- علمائے دین کی توہین کب کفر ہے کب کفر نہیں؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملك الوهاب:</strong></span> مطلقا علمائے دین کی توہین یا کسی عالم کی عالم دین ہونے کی وجہ سے توہین صریح کفر ہے اور اگر عالم دین کی بوجہ علم عزت کرتا ہے مگر دنیوی معاملات کے سبب گالی دیتا ہے یا برا کہتا ہے تو سخت فاسق وفاجر ہے اور اگر بے سبب عالم دین سے بغض رکھتا ہے تو وہ دل کا مریض ہے اور اس کے کافر ہونے کا اندیشہ ہے- فتاوی رضویہ میں ہے ۔ "اور مطلقا علمائے دین یا کسی عالم دین کو ان کے عالم ہونے کے سبب برا کہنا یا شریعت مطہرہ کی ادنی توہین کرنا یہ تو یقینا قطعا کفر وارتداد ہے"(ج۱۴ ص۵۷۰ مترجم) نیز فتاوی رضویہ میں ہے ۔ "پھر اگر عالم کو اس لیے برا کہتا ہے کہ وہ عالم ہے جب تو صریح کافر ہے اور اگر بوجہ علم اس کی تعظیم فرض جانتا ہے مگر اپنی کسی دنیوی خصومت کے باعث برا کہتا ہے گالی دیتا ہے تحقیر کرتا ہے تو سخت فاسق فاجر ہے اور اگر بے سبب رنج رکھتا ہے تو مریض القلب خبیث الباطن ہے اور اس کے کفر کا اندیشہ ہے"(ج۹ ص۱۴۰ نصف اول) اور فتاوی امجدیہ میں ہے ۔ "علما کی توہین بحثیت علم کفر ہے"(ج۴ص۴۵۴) واللہ تعالی اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ المتخصص فی الفقہ الاسلامی بدارالعلوم العلیمیہ</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحيح : محمد اختر حسین قادری خادم افتاودرس دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...