Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

عنین(نامرد) کا حکم از علامہ کمال احمد علیمی نظامی

عنین(نامرد) کا حکم از علامہ کمال احمد علیمی نظامی
Reference 1572 September 18, 2025 10,187 views
اصل سوالعنین(نامرد) کا حکم از علامہ کمال احمد علیمی نظامی

عنین(نامرد) کا حکم از علامہ کمال احمد علیمی نظامی

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ بعد سلام علمائے کرام کی بارگاہ میں ایک عریضہ اور وہ عریضہ یہ ہے کہ ہندہ کی شادی زید سے ہوئی اور ہندہ زید کے یہاں جانا نہیں چاہتی اس لیے کہ ہندہ کا کہنا ہے زید نا مرد ہے اور ہندہ دوسری شادی کرنا چاہتی ہے تو ہندہ کے لیے شریعت میں کیا حکم ہے علمائے کرام قرآن اور حدیث کی روشنی میں تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں بڑی مہربانی اور کرم ہوگا سائل محمد شاداب رضا ، پلیا کلاں کھیری الجواب بعون الملک الوھاب ہندہ کا شوہر اگر واقعی نامرد ہے،اور وہ ایک بار بھی قدرِ حشفہ داخل کرکے جماع نہیں کرسکا ہے جس کا زید کو اقرار ہے اور ہندہ کو نکاح سے قبل زید کے نامرد ہونے کا علم بھی نہیں تھا، تو اس سلسلے میں شرعی حکم یہ ہے کہ ہندہ اگر شوہر کے پاس نہیں رہنا چاہتی ہے تو قاضی کے یہاں مرافعہ کرے، بعد تحقیق قاضی شوہر کو سال بھر موقع دے، سال گزرنے کے بعد بھی مطلب حاصل نہ ہو تو قاضی عورت کی مرضی پوچھے، اگر وہ شوہر کے پاس نہ رہنا چاہے تو قاضی شوہر کو طلاق دینے کا حکم دے، دے دے تو ٹھیک ورنہ وہ ان میں تفریق کردے، اور یہ تفریق طلاقِ بائن ہوگی۔ عورت عدت گزار کر اب جس سے چاہے نکاح کرلے. اور اگر زید یہ کہتا ہے کہ اس نے کم از کم ایک مرتبہ جماع کیا ہے تو اگر اس کی بیوی ہونے سے پہلے وہ ثیب(مثلا مطلقہ) ہو تو قسم کے ساتھ زید کی بات مان لی جائے گی اور تفریق نہیں کی جائے گی اور اگر اس کے ساتھ نکاح سے پہلے اس کی بیوی بکر(کنواری) ہو تو دو عورتوں کا بیان مانا جائے گا اگر وہ اس کو ثیب بتائیں تو قسم کے ساتھ زید کی بات مان لی جائے گی اور تفریق نہیں کی جائے گی۔ اور اگر بکر بتائیں تو قاضی ایک سال کی مہلت دے گا اور ایک سال کے بعد عورت دوبارہ قاضی کے پاس تفریق چاہے تو قاضی شوہر کو طلاق کا حکم دے اگر دے تو ٹھیک ورنہ خود تفریق کردے۔ حدیث شریف میں ہے : عن عبد اللّٰه رضي اللّٰه عنه قال: یؤجل العنین سنةً، فإن وصل إلیها، وإلا فرّق بینهما ولها الصداق”. (المعجم الکبیر للطبراني ۹؍۳۴۳ رقم: ۹۷۰۶) درمختار مع ردالمحتار میں ہے : “(هو) لغةً: من لايقدر على الجماع، فعيل بمعنى مفعول، جمعه عنن. وشرعًا: (من لايقدر على جماع فرج زوجته) يعني لمانع منه ككبر سن، أو سحر۔” اسی میں ہے: (قوله: وغير عالمة بحاله إلخ) أما لو كانت عالمة فلا خيار لها على المذهب كما يأتي، وكذا لو رضيت به بعد النكاح. (٣/ ٤٩٤) فتاوی رضویہ میں ہے: عنین کے لئے حکم ہے کہ قاضی کے حضور مرافعہ کرے قاضی بعد تحقیق اپنی طرف سے ایک سال کامل کی مہلت دے، جب سال گزرجائے اور مطلب حاصل نہ ہو عورت پھر مرافعہ کرے، قاضی بعد تحقیق شوہر کو طلاق دینے کی ہدایت فرمائے، اگر وہ نہ مانے عورت سے پوچھے تو اپنے نفس کو اختیار کرتی ہے یاشوہر کو؟اگروہ فوراً اپنے نفس کو اختیار کرے قاضی ان میں تفریق کردے، عورت عدت بیٹھے اور اب جس سے چاہے نکاح کرلے، تاجیل قاضی سے پہلے اگر بیس برس گزرگئے ہیں ان کا اصلا لحاظ نہ ہوگا آج سے ایک سال کامل لیا جائےگا۔ کیا اگر کسی عنین کی عورت بطور خود وقت نکاح سے سال بھر کے بعد اسے چھوڑکر چل دے اور دوسرا نکاح کرلے کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ اس نے مذہب حنفی پر عمل کیا، کیا اس کا یہ نکاح جائز واقع ہوا،حاشا.(ج ١٣،کتاب الطلاق ص ٣٤٧) اور اگر شرعی قاضی نہ ہونےکے سبب مقدمہ دائر نہ کیا جا سکتاہو تو زید اور ہندہ باہمی رضامندی سے کسی عالمِ شرع کو حکم (پنچ) مقرر کرکے بھی یہ ساری کارروائی کرسکتے ہیں۔ فتاوی رضویہ میں ہے : ہاں صورت خلاص یہ ہے کہ زید وہندہ اپنے معاملہ میں کسی ذی علم کو پنچ کریں۔ ففی الخیریہ یصح التحکیم فی مسئلۃ العنین لانہ لیس بحد ولاقو د ولادیۃ علی العاقلۃ ولھم ان یفرقوا بطلب الزوجۃ اھ۔ توفتاوٰی خیریہ میں ہے نامرد کے مسئلہ میں حکم بنانا ا س لیے درست ہے کہ یہ حَد، قصاص اورعاقلہ پردیت کا مسئلہ نہیں ہے، حکم حضرات کے لیے عورت کے مطالبہ پر تفریق کرناجائز ہے اھ. ہندہ اس کے حضور عنت شوہر کا دعوٰی کرے اور اس بنا ء پر تفریق چاہے پنچ کے نزدیک جب اس کا عنین ہونا بطریق شرعیہ کہ ان میں سے ایک طریقہ مثلاً اقرار زید ہے ثابت ہوجائے گا تو بملا حظہ تفاصیل مذکورہ فی الفقہ سال بھر کی زید کو مہلت دے اور اس تمام برس میں زن وشویکجا رہیں، اگر کچھ دنوں کو ہندہ کہیں چلی جائیگی وہ دن سال میں معدود نہ ہوں گے، جب ا س طرح سال کامل گزر جائے ا ور زید ہندہ پر قدرت نہ پائے تو اس وقت بطلب ہندہ زید وہندہ میں تفریق کردی جائے، اب بعد عدت ہندہ کو اختیار نکاح ہوگا۔ (فتاوی رضویہ ج ١١ کتاب النکاح ص ١٩٤) بہار شریعت میں ہے : عنین کا حکم یہ ہے کہ عورت جب قاضی کے پاس دعوے کرے تو شوہر سے قاضی دریافت کرے اگر اقرارکرلے تو ایک سال کی مہلت دی جائے گی اگر سال کے اندر شوہر نے جماع کر لیا تو عورت کا دعویٰ ساقط ہوگیا اور جماع نہ کیا اور عورت جُدائی کی خواستگار ہے تو قاضی اُس کو طلاق دینے کو کہے اگر طلاق دیدے فبہا، ورنہ قاضی تفریق کردے۔(بہار شریعت حصہ ہشتم، ص ٢٣١) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی ١٢ شعبان ١٤٤٣/ ١٦ مارچ ٢٠٢٢ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.