01
The questionSawaal
اصل سوالعورتوں کا قبروں پر جانا اور مجاور بننا کیسا ہے ؟
02
The responseAl-Jawab
عورتوں کا قبروں پر جانا اور مجاور بننا کیسا ہے ؟
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیارت قبور میں عورتوں کے واسطے کیا حکم ہے؟ دیگر کسی کے بزرگوں کے پاس سے پشت درپشت کسی اولیاء اﷲ کی مجاوری او رخدمت گزاری ملی ہے تو فاتحہ دینا اس قبر پر صندل چڑھانا، غلاف چڑھانا، مجاور مرد لوگ موجود ہوکر عورت کو جائز ہے ? اس مزارپرہمیشہ مرد مجاور رہا کرتے ہیں، وہ عورت مجاور کے خاندان سے ہے مگر نہایت بدچلن ہے ۔ اس عورت کو کیا اختیار ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ عورتوں کو زیارت قبور منع ہے ۔ حدیث میں ہے: لعن اﷲ زائرات القبور – ﷲ کی لعنت ان عورتوں پرجو قبروں کی زیارت کوجائیں، مجاور مردوں کو ہونا چاہئے ، عورت مجاور بن کر بیٹھے اور آنے جانے والوں سے اختلاط کرے یہ سخت بد ہے، عورت کو گوشہ نشینی کا حکم ہے، نہ یوں مردوں کے ساتھ اختلاط کا ، جس میں بعض اوقات مردوں کے ساتھ اسے تنہائی بھی ہوگی، اوریہ حرام ہے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.