01
The questionSawaal
اصل سوالعورتوں کی جماعت کا حکم از کمال احمد علیمی نظامی
02
The responseAl-Jawab
عورتوں کی جماعت کا حکم از کمال احمد علیمی نظامی
السلام علیکم ورحمتہ اللہْ علماء کرام کی بارگاہ میں میرا سوال ہے کہ کیا عورت جماعت کروا سکتی ہے یا نہیں اگر نہی کرواسکتی تو وجہ اگر کرواسکتی ہے تو کس کس کی اور کہاں پر جماعت کرواۓ گی۔۔۔۔۔مکمل مفصل جواب عنایت فرمائیں ۔ محمد ساجد قادری۔۔ جموں و کشمیر الجواب بعون الملک الوھاب عورتوں کی جماعت اور ان کی امامت مکروہ تحریمی ہے چاہے وہ فرض نماز ہو یا غیر فرض، مسجد میں ہو یا گھر میں. اعلاءالسنن میں ہے : عن علي بن أبي طالب رضي اللّٰه عنه أنه قال: لا تؤم المرأة. (إعلاء السنن ۴؍۲۲۷ دار الکتب العلمیة بیروت) “الفتاوی الھندیۃ “میں ہے: ویکرہ امامۃ المرءۃ للنساء فی الصلوت کلھا من الفرائض والنوافل. (جلد اول،، صفحہ ۵۸) فتاوی شامی میں ہے: ” ویکره تحریماً جماعة النساء ولو في التراویح. فإن فعلن تقف الإمام وسطهن فلو قدمت أثمت”.(ج ٢ /٣٠٥) “تبیین الحقائق ” میں ہے: کرہ جماعۃ النساء وحدھن لقولہ علیہ السلام صلاۃ المرءۃ فی بیتھاافضل من صلاتھا فی حجرتھا وصلاتھا فی مخدعھا افضل من صلاتھا فی بیتھا”(جلد اول،صفحہ ۸۴۳) ہاں! اگر گھر میں امامت کرنے والا مرد ہو اور شریک جماعت عورتوں میں کوئی مرد بھی ہو یا امام کی بیوی یا اس کے محارم میں سے کوئی ہو تو اس طرح عورتیں بھی شریکِ جماعت ہوسکتی ہیں، لیکن عورتوں کوجماعت کے لیے باہر جانا جائز نہیں ہے۔ در مختار میں ہے: “وَيُكْرَهُ حُضُورُهُنَّ الْجَمَاعَةَ) وَلَوْ لِجُمُعَةٍ وَعِيدٍ وَوَعْظٍ (مُطْلَقًا) وَلَوْ عَجُوزًا لَيْلًا (عَلَى الْمَذْهَبِ) الْمُفْتَى بِهِ لِفَسَادِ الزَّمَانِ، وَاسْتَثْنَى الْكَمَالُ بَحْثًا الْعَجَائِزَ وَالْمُتَفَانِيَةَ (كَمَا تُكْرَهُ إمَامَةُ الرَّجُلِ لَهُنَّ فِي بَيْتٍ لَيْسَ مَعَهُنَّ رَجُلٌ غَيْرُهُ وَلَا مَحْرَمٌ مِنْهُ) كَأُخْتِهِ (أَوْ زَوْجَتِهِ أَوْ أَمَتِهِ، أَمَّا إذَا كَانَ مَعَهُنَّ وَاحِدٌ مِمَّنْ ذُكِرَ أَوْ أَمَّهُنَّ فِي الْمَسْجِدِ لَا يُكْرَهُ بَحْرٌ۔” (در مختار، کتاب الصلاة، باب الامامة) بہار شریعت میں ہے: “جس گھر میں عورتیں ہی عورتیں ہوں ، اس میں مرد کو ان کی اِمامت ناجائز ہے، ہاں اگر ان عورتوں میں اس کی نسبی محارم ہوں یا بی بی یا وہاں کوئی مرد بھی ہو، تو ناجائز نہیں۔” (بہار شریعت ح٣ص۵٨٨) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ: کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی۔ ١٦ شعبان ١٤٤٣/ ٢٠ مارچ، ٢٠٢٢ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.