Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #734 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 10.5K Views

عورت اپنی شادی میں کتنے مہر کا مطالبہ کر سکتی ہے؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

عورت اپنی شادی میں کتنے مہر کا مطالبہ کر سکتی ہے؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

عورت اپنی شادی میں کتنے مہر کا مطالبہ کر سکتی ہے؟

الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــ مہر عورت کا حق ہے، وہ اپنی شادی میں جتنا چاہے مہر مانگ سکتی ہے وہ چاہے تو مہر فاطمی کا مطالبہ کرے ۔ مگر اس کے لیے شوہر کی رضا مندی ضروری ہے ،اسے جو بھی مانگنا ہے مانگ سکتی ہے ، لیکن جتنے پر میاں بیوی کا اتفاق ہو جائے اتنا ہی مقرر کیا جائے ۔ مہر زیادہ سے زیادہ مقرر کرنا چاہیے۔ قرآن مجید میں مہر کے لیے” قنطار” کا لفظ آیا ہے یعنی “مال کثیر” خود ازواج مطہرات کے مہر اچھی مقدار میں تھے۔ حضرت سیدتنا فاطمہ الزہرارضی اللہ تعالی عنہا کا جو مہر مقرر ہوا تھا وہ ایک کلو آٹھ سو چھیاسٹھ گرام ، دو سو چالیس ملی گرام (1866,240g) چاندی تھا۔ لیکن آج کے زمانے میں مہر کی حیثیت گھٹا دی گئی ہے اور لوگ مہر کے تعلق سے بخل سے کام لے رہے ہیں اس لیے عورتوں کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ مہر کا مطالبہ کریں کریں ۔ والله تعالى اعلم بالصواب کتبـــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور 

Kutubahu & Verified by:

<h2>عورت اپنی شادی میں کتنے مہر کا مطالبہ کر سکتی ہے؟</h2> <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> مہر عورت کا حق ہے، وہ اپنی شادی میں جتنا چاہے مہر مانگ سکتی ہے وہ چاہے تو مہر فاطمی کا مطالبہ کرے ۔ مگر اس کے لیے شوہر کی رضا مندی ضروری ہے ،اسے جو بھی مانگنا ہے مانگ سکتی ہے ، لیکن جتنے پر میاں بیوی کا اتفاق ہو جائے اتنا ہی مقرر کیا جائے ۔ مہر زیادہ سے زیادہ مقرر کرنا چاہیے۔ قرآن مجید میں مہر کے لیے" قنطار" کا لفظ آیا ہے یعنی "مال کثیر" خود ازواج مطہرات کے مہر اچھی مقدار میں تھے۔ حضرت سیدتنا فاطمہ الزہرارضی اللہ تعالی عنہا کا جو مہر مقرر ہوا تھا وہ ایک کلو آٹھ سو چھیاسٹھ گرام ، دو سو چالیس ملی گرام (1866,240g) چاندی تھا۔ لیکن آج کے زمانے میں مہر کی حیثیت گھٹا دی گئی ہے اور لوگ مہر کے تعلق سے بخل سے کام لے رہے ہیں اس لیے عورتوں کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ مہر کا مطالبہ کریں کریں ۔ والله تعالى اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبـــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور </strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...