Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1521
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
4.1K Views
عورت اپنے گھر میں نماز پڑھے | کیا عورت مسجد میں جاکر نماز پڑھ سکتی ہے ؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
عورت اپنے گھر میں نماز پڑھے | کیا عورت مسجد میں جاکر نماز پڑھ سکتی ہے ؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
عورت اپنے گھر میں نماز پڑھے
السلام علیکم ورحمتہ اللہْ میرا سوال ہے کہ کیا عورتوں کے لیے اگر مسجد میں نماز پڑھنے کا اہتمام کیا گیا ہے اور عورت پردے کے ساتھ جا کر نماز پڑھ سکتی ہے ؟ براۓ اس متعلق مکمل جواب عنایت فرمائیں۔۔۔ محمد ساجد قادری : جموں و کشمیر الجواب بعون الملک الوھاب عورتوں کا مسجد میں جاکر نماز پڑھنا منع ہے،ان کے لئے گھر ہی میں نماز پڑھنے کا حکم ہے،دفعِ فسادِ کے لیے متعدد صحیح حدیثوں سے عورتوں کو مسجد کی حاضری سے ممانعت ثابت ہے، چنانچہ ایک حدیث میں ہے : عن أم حمید امرأۃ أبي حمید الساعدي رضي اللّٰہ عنہا أنہا جاءت إلی النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم فقالت: یا رسول اللّٰہ! إني أحب الصلوۃ معک، فقال: قد علمت إنک تحبین الصلوۃ معي وصلوتک في بیتک خیر من صلوتک في حجرتک، …الخ۔ (مسند أحمد ۶؍۳۷۱، دار الکتب العلمیۃ بیروت) امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : ” صحیح بخاری وصحیح مسلم وسُنن ابی داؤد میں اُم المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کا ارشاد اپنے زمانہ میں تھا: لو ادرک رسول اﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم مااحدث النساء لمنعھن المسجد کما منعت نساء نبی اسرائیل. اگرنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ملاحظہ فرماتے جو باتیں عورتوں نے اب پیدا کی ہیں تو ضرور انھیں مسجد سے منع نہ فرمادیتے جیسے بنی اسرائیل کی عورتیں منع کردی گئیں۔ پھر تابعین ہی کے زمانے سے ائمہ نے ممانعت شروع فرمادی ، پہلے جوان عورتوں کو پھر بوڑھیوں کو بھی، پہلے دن میں پھر رات کو بھی، یہاں تک کہ حکم ممانعت عام ہوگیا، کیااس زمانے کی عورتیں گربے والیوں کی طرح گانے ناچنے والیاں یا فاحشہ دلالہ تھیں اب صالحات ہیں؟ یا جب فاحشات زائد تھیں اب صالحات زیادہ ہیں؟ یا جب فیوض وبرکات نہ تھے اب ہیں ؟ یا جب کم تھے اب زائد ہیں؟ حاشا! بلکہ قطعاً یقینا اب معاملہ بالعکس ہے۔ اب اگر ایک صالحہ ہے تو جب ہزار تھیں، جب اگر ایک فاسقہ تھی اب ہزار ہیں، اب اگر ایک حصہ فیض ہے جب ہزار حصے تھا، رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں : لا یأتی عام الا والذی بعدہ شر منہ. جو سال بھی آئے اس کے بعد والا اس سے بُرا ہی ہوگا۔ بلکہ عنایہ امام اکمل الدین بابرتی میں ہے کہ امیر المومنین فاروق اعظم رضی ﷲ تعالٰی عنہ نے عورتوں کو مسجد سے منع فرمایا، وہ ام المومنین حضرت صدیقہ رضی ﷲ تعالٰی عنہا کے پاس شکایت لے گئیں، فرمایا: اگر زمانہ اقدس میں حالت یہ ہوتی حضور عورتوں کو مسجد میں آنے کی اجازت نہ دیتے۔ حیث قال ولقد نہی عمر رضی ﷲ تعالٰی عنہ النساء عن الخروج الی المساجد فشکون الٰی عائشۃ رضی ﷲ تعالٰی عنہا فقالت لو علم النبی صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم ماعلم عمر ما اذن لکن فی الخروج ۔ وہ فرماتے ہیں: حضرت عمر رضی ﷲ تعالٰی عنہ نے عورتوں کو مسجد جانے سے روک دیا، وہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ تعالٰی عنہا کے پاس شکایت لے کر گئیں، انھوں نے فرمایا: اگر نبی صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم یہ دیکھتے جو حضرت عمر نے دیکھا تو وہ بھی مسجدجانے کی اجازت نہ دیتے ۔ پھر فامایا: فاجتمع بہ علماؤناو منعوا الشواب عن الخروج مطلقا اما العجائز فمنعھن ابوحنیفۃ رضی ﷲ تعالٰی عنہ عن الخروج فی الظھر والعصر دون الفجر والمغرب والعشاء والفتوی الیوم علٰی کراھۃ حضورھن فی الصلوات کلھا لظھور الفساد. اسی سے ہمارے علما نے استدلال کیا، اور جوان عورتوں کو جانے سے مطلقاً منع فرمایا۔ رہ گئیں بوڑھی عورتیں، ان کے لیے امام ابوحنیفہ رضی ﷲ تعالٰی عنہ نے ظہر وعصر میں جانے سے ممانعت اور فجر، مغرب اور عشا میں اجازت رکھی، اور آج فتوٰی اس پر ہے کہ تمام نمازوں میں ان کی بھی حاضری منع ہے اس لیے کہ خرابیاں پیدا ہوچکی ہیں۔ اسی عینی جلد سوم میں آپ کی عبارت منقولہ سے ایک صفحہ پہلے ہے : وقال ابن مسعود رضی ﷲ تعالٰی عنہ المراۃ عورۃ واقرب ماتکون الی ﷲ فی قعربیتھا فاذا خرجت استشرفہا الشیطان وکان ابن عمر رضی ﷲ تعالٰی عنہما یقوم یحصب النساء یوم الجمعۃ یخرجھن من المسجد وکان ابراہیم یمنع نساءہ الجمعۃ والجماعۃ. یعنی حضرت عبدﷲ بن مسعود رضی ﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں عورت سراپا شرم کی چیز ہے۔ سب سے زیادہ ﷲ عزّو جل سے قریب اپنے گھر کی تہ میں ہوتی ہے اور جب باہر نکلے شیطان اس پر نگاہ ڈالتا ہے۔ اور حضرت عبدﷲ بن عمررضی ﷲ تعالٰی عنہما جمعہ کے دن کھڑے ہوکر کنکریاں مارکر عورتوں کو مسجد سے نکالتے۔ اور امام ابراہیم نخعی تابعی استاذ الاستاذ امام اعظم ابو حنیفہ رضی ﷲ تعالٰی عنہ اپنی مستورات کو جمعہ وجماعات میں نہ جانے دیتے۔فتاویٰ رضویہ ج ٩ ص ٥٤٩ – ٥٥٠ – ٥٥١) بہار شریعت میں ہے: “عورتوں کو کسی نماز میں جماعت کی حاضری جائز نہیں ، دن کی نماز ہو یا رات کی، جمعہ ہو یا عیدین، خواہ وہ جوان ہوں یا بوڑھیاں ، یوہیں وعظ کی مجالس میں بھی جانا ناجائز ہے۔” (ح سوم ص ٥٥٨) احسن الفتاوی (فتاوی خلیلیہ) میں ہے: ” حضور اکرم سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ عورت کا دالان میں نماز پڑھنا صحن میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے ۔ اور کوٹھری میں نماز پڑھنا ، دالان میں پڑھنے سے بہتر ہے ۔ (ابوداؤد ) اور یہ اس لئے کہ عورت عورت ہے ۔ یعنی غیروں سے چھپانے اور ان کی نظروں سے بچانے کی چیز ۔ یہی وجہ ہے کہ غیروں کے گھر تو غیروں کے گھر ، خاص اپنے گھروں کے متعلق ارشاد ہوا کہ عورتوں کو بالا خانوں پر نہ رکھو۔ وجہ وہی اڑتی چڑیا کے پر کترنا ہیں ۔ اسی باعث عورتوں کا گھر کے دروازے پر مسجد صالحین میں اداۓ عبادت کیلئے جانا، اور ادائیگی نماز کے بعد دو قدم چل کر گھر میں واپس آ جانا ممنوع و ناجائز ، گناہ و حرام ہے ۔ کہ فتنہ وہی نہیں جو عورت کے دل سے عورت کی طرف سے پیدا ہو ۔ وہ بھی ہے اور اس سے سخت تر ، وہ جو فاسقوں اور فاجروں کی طرف سے اندیشہ ہو تو یہاں عورتوں کی پارسائی کیا کام دے گی اگر چہ وہ کیسی ہی صالحہ پارسا ہو ۔ کتب آثار واحادیث میں مروی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ جمعہ کے روز کھڑے ہوکر ، کنکریاں مار مار کر عورتوں کو مسجدوں سے نکالتے ۔ بلکہ خود حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ عورتوں کو مسجد میں آنے سے منع فرماتے کہ خبر دار عورتیں مسجد میں نماز پڑھنے نہ آئیں ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ اگر زمانہ اقدس میں حالت یہ ہوتی جو آج عورتوں میں پائی جاتی ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کو مسجد میں آنے کی اجازت نہ دیتے ۔ غرض صحابہ و تابعین کے زمانے سے ہی اس کی ممانعت شروع ہو چکی تھی اور جب فساد پھیلتا گیا تو حکم ممانعت بوڑھی ۔جوان سب عورتوں کو عام ہوگیا ظاہر کہ جب عورتوں کو مسجد میں جانے ہی کی اجازت نہیں تو ان کی تنہا جماعت وہ بھی نماز جمعہ کی کیونکر شرعاً بلا دغدغہ روا ہوگی تمام متون و شرح و فتاوی میں مذکور ہے۔کہ عورت کو مطلقاً امام ہونا ہی مکروہ تحریمی ہے ۔ فرائض یوں یا نوافل یہ حکم سب کو شامل ہے تنویر الابصار اور اس کی شرح در مختار میں ہے ویکرہ تحريماً جماعة النساء ولو في التراويح تبین الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے کرہ جماعة النساء وحدھن۔ دونوں عبارتوں کا حاصل وہی کہ عورتوں کی جماعت اگر چہ نماز تراویح میں ہو مکروہ تحریمی ہے یعنی گناہ و حرام ۔ اور وجہ اس کی وہی حدیث کہ ابھی گزری کہ عورت کا دالان میں نماز پڑھنا صحن میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔ اور تہ خانوں یا کوٹھری میں ، دالان سے بہتر ہے “(ج اول کتاب الصلوۃ، ص ٢٤٥) واللہ اعلم بالصواب کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی ٣ شعبان ١٤٤٣ /٧مارچ ٢٠٢٢ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
Kutubahu & Verified by:
<h2>عورت اپنے گھر میں نماز پڑھے</h2> السلام علیکم ورحمتہ اللہْ میرا سوال ہے کہ کیا عورتوں کے لیے اگر مسجد میں نماز پڑھنے کا اہتمام کیا گیا ہے اور عورت پردے کے ساتھ جا کر نماز پڑھ سکتی ہے ؟ براۓ اس متعلق مکمل جواب عنایت فرمائیں۔۔۔ محمد ساجد قادری : جموں و کشمیر <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> عورتوں کا مسجد میں جاکر نماز پڑھنا منع ہے،ان کے لئے گھر ہی میں نماز پڑھنے کا حکم ہے،دفعِ فسادِ کے لیے متعدد صحیح حدیثوں سے عورتوں کو مسجد کی حاضری سے ممانعت ثابت ہے، چنانچہ ایک حدیث میں ہے : عن أم حمید امرأۃ أبي حمید الساعدي رضي اللّٰہ عنہا أنہا جاءت إلی النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم فقالت: یا رسول اللّٰہ! إني أحب الصلوۃ معک، فقال: قد علمت إنک تحبین الصلوۃ معي وصلوتک في بیتک خیر من صلوتک في حجرتک، …الخ۔ (مسند أحمد ۶؍۳۷۱، دار الکتب العلمیۃ بیروت) امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : " صحیح بخاری وصحیح مسلم وسُنن ابی داؤد میں اُم المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کا ارشاد اپنے زمانہ میں تھا: لو ادرک رسول اﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم مااحدث النساء لمنعھن المسجد کما منعت نساء نبی اسرائیل. اگرنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ملاحظہ فرماتے جو باتیں عورتوں نے اب پیدا کی ہیں تو ضرور انھیں مسجد سے منع نہ فرمادیتے جیسے بنی اسرائیل کی عورتیں منع کردی گئیں۔ پھر تابعین ہی کے زمانے سے ائمہ نے ممانعت شروع فرمادی ، پہلے جوان عورتوں کو پھر بوڑھیوں کو بھی، پہلے دن میں پھر رات کو بھی، یہاں تک کہ حکم ممانعت عام ہوگیا، کیااس زمانے کی عورتیں گربے والیوں کی طرح گانے ناچنے والیاں یا فاحشہ دلالہ تھیں اب صالحات ہیں؟ یا جب فاحشات زائد تھیں اب صالحات زیادہ ہیں؟ یا جب فیوض وبرکات نہ تھے اب ہیں ؟ یا جب کم تھے اب زائد ہیں؟ حاشا! بلکہ قطعاً یقینا اب معاملہ بالعکس ہے۔ اب اگر ایک صالحہ ہے تو جب ہزار تھیں، جب اگر ایک فاسقہ تھی اب ہزار ہیں، اب اگر ایک حصہ فیض ہے جب ہزار حصے تھا، رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں : لا یأتی عام الا والذی بعدہ شر منہ. جو سال بھی آئے اس کے بعد والا اس سے بُرا ہی ہوگا۔ بلکہ عنایہ امام اکمل الدین بابرتی میں ہے کہ امیر المومنین فاروق اعظم رضی ﷲ تعالٰی عنہ نے عورتوں کو مسجد سے منع فرمایا، وہ ام المومنین حضرت صدیقہ رضی ﷲ تعالٰی عنہا کے پاس شکایت لے گئیں، فرمایا: اگر زمانہ اقدس میں حالت یہ ہوتی حضور عورتوں کو مسجد میں آنے کی اجازت نہ دیتے۔ حیث قال ولقد نہی عمر رضی ﷲ تعالٰی عنہ النساء عن الخروج الی المساجد فشکون الٰی عائشۃ رضی ﷲ تعالٰی عنہا فقالت لو علم النبی صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم ماعلم عمر ما اذن لکن فی الخروج ۔ وہ فرماتے ہیں: حضرت عمر رضی ﷲ تعالٰی عنہ نے عورتوں کو مسجد جانے سے روک دیا، وہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ تعالٰی عنہا کے پاس شکایت لے کر گئیں، انھوں نے فرمایا: اگر نبی صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم یہ دیکھتے جو حضرت عمر نے دیکھا تو وہ بھی مسجدجانے کی اجازت نہ دیتے ۔ پھر فامایا: فاجتمع بہ علماؤناو منعوا الشواب عن الخروج مطلقا اما العجائز فمنعھن ابوحنیفۃ رضی ﷲ تعالٰی عنہ عن الخروج فی الظھر والعصر دون الفجر والمغرب والعشاء والفتوی الیوم علٰی کراھۃ حضورھن فی الصلوات کلھا لظھور الفساد. اسی سے ہمارے علما نے استدلال کیا، اور جوان عورتوں کو جانے سے مطلقاً منع فرمایا۔ رہ گئیں بوڑھی عورتیں، ان کے لیے امام ابوحنیفہ رضی ﷲ تعالٰی عنہ نے ظہر وعصر میں جانے سے ممانعت اور فجر، مغرب اور عشا میں اجازت رکھی، اور آج فتوٰی اس پر ہے کہ تمام نمازوں میں ان کی بھی حاضری منع ہے اس لیے کہ خرابیاں پیدا ہوچکی ہیں۔ اسی عینی جلد سوم میں آپ کی عبارت منقولہ سے ایک صفحہ پہلے ہے : وقال ابن مسعود رضی ﷲ تعالٰی عنہ المراۃ عورۃ واقرب ماتکون الی ﷲ فی قعربیتھا فاذا خرجت استشرفہا الشیطان وکان ابن عمر رضی ﷲ تعالٰی عنہما یقوم یحصب النساء یوم الجمعۃ یخرجھن من المسجد وکان ابراہیم یمنع نساءہ الجمعۃ والجماعۃ. یعنی حضرت عبدﷲ بن مسعود رضی ﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں عورت سراپا شرم کی چیز ہے۔ سب سے زیادہ ﷲ عزّو جل سے قریب اپنے گھر کی تہ میں ہوتی ہے اور جب باہر نکلے شیطان اس پر نگاہ ڈالتا ہے۔ اور حضرت عبدﷲ بن عمررضی ﷲ تعالٰی عنہما جمعہ کے دن کھڑے ہوکر کنکریاں مارکر عورتوں کو مسجد سے نکالتے۔ اور امام ابراہیم نخعی تابعی استاذ الاستاذ امام اعظم ابو حنیفہ رضی ﷲ تعالٰی عنہ اپنی مستورات کو جمعہ وجماعات میں نہ جانے دیتے۔فتاویٰ رضویہ ج ٩ ص ٥٤٩ - ٥٥٠ - ٥٥١) بہار شریعت میں ہے: "عورتوں کو کسی نماز میں جماعت کی حاضری جائز نہیں ، دن کی نماز ہو یا رات کی، جمعہ ہو یا عیدین، خواہ وہ جوان ہوں یا بوڑھیاں ، یوہیں وعظ کی مجالس میں بھی جانا ناجائز ہے۔" (ح سوم ص ٥٥٨) احسن الفتاوی (فتاوی خلیلیہ) میں ہے: " حضور اکرم سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ عورت کا دالان میں نماز پڑھنا صحن میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے ۔ اور کوٹھری میں نماز پڑھنا ، دالان میں پڑھنے سے بہتر ہے ۔ (ابوداؤد ) اور یہ اس لئے کہ عورت عورت ہے ۔ یعنی غیروں سے چھپانے اور ان کی نظروں سے بچانے کی چیز ۔ یہی وجہ ہے کہ غیروں کے گھر تو غیروں کے گھر ، خاص اپنے گھروں کے متعلق ارشاد ہوا کہ عورتوں کو بالا خانوں پر نہ رکھو۔ وجہ وہی اڑتی چڑیا کے پر کترنا ہیں ۔ اسی باعث عورتوں کا گھر کے دروازے پر مسجد صالحین میں اداۓ عبادت کیلئے جانا، اور ادائیگی نماز کے بعد دو قدم چل کر گھر میں واپس آ جانا ممنوع و ناجائز ، گناہ و حرام ہے ۔ کہ فتنہ وہی نہیں جو عورت کے دل سے عورت کی طرف سے پیدا ہو ۔ وہ بھی ہے اور اس سے سخت تر ، وہ جو فاسقوں اور فاجروں کی طرف سے اندیشہ ہو تو یہاں عورتوں کی پارسائی کیا کام دے گی اگر چہ وہ کیسی ہی صالحہ پارسا ہو ۔ کتب آثار واحادیث میں مروی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ جمعہ کے روز کھڑے ہوکر ، کنکریاں مار مار کر عورتوں کو مسجدوں سے نکالتے ۔ بلکہ خود حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ عورتوں کو مسجد میں آنے سے منع فرماتے کہ خبر دار عورتیں مسجد میں نماز پڑھنے نہ آئیں ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ اگر زمانہ اقدس میں حالت یہ ہوتی جو آج عورتوں میں پائی جاتی ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کو مسجد میں آنے کی اجازت نہ دیتے ۔ غرض صحابہ و تابعین کے زمانے سے ہی اس کی ممانعت شروع ہو چکی تھی اور جب فساد پھیلتا گیا تو حکم ممانعت بوڑھی ۔جوان سب عورتوں کو عام ہوگیا ظاہر کہ جب عورتوں کو مسجد میں جانے ہی کی اجازت نہیں تو ان کی تنہا جماعت وہ بھی نماز جمعہ کی کیونکر شرعاً بلا دغدغہ روا ہوگی تمام متون و شرح و فتاوی میں مذکور ہے۔کہ عورت کو مطلقاً امام ہونا ہی مکروہ تحریمی ہے ۔ فرائض یوں یا نوافل یہ حکم سب کو شامل ہے تنویر الابصار اور اس کی شرح در مختار میں ہے ویکرہ تحريماً جماعة النساء ولو في التراويح تبین الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے کرہ جماعة النساء وحدھن۔ دونوں عبارتوں کا حاصل وہی کہ عورتوں کی جماعت اگر چہ نماز تراویح میں ہو مکروہ تحریمی ہے یعنی گناہ و حرام ۔ اور وجہ اس کی وہی حدیث کہ ابھی گزری کہ عورت کا دالان میں نماز پڑھنا صحن میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔ اور تہ خانوں یا کوٹھری میں ، دالان سے بہتر ہے "(ج اول کتاب الصلوۃ، ص ٢٤٥) واللہ اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>٣ شعبان ١٤٤٣ /٧مارچ ٢٠٢٢</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...