Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1426 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 12.3K Views

عورت کا انتقال ہوا اس نے شوہر بیٹی اور چچا کو چھوڑا

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

عورت کا انتقال ہوا اس نے شوہر بیٹی اور چچا کو چھوڑا

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

عورت کا انتقال ہوا اس نے شوہر بیٹی اور چچا کو چھوڑا

الجواب بعون الملک الوھاب بعد تقدیم ما یقدم علی الإرث و انحصار ورثه فی المذكورين بیٹی کی موجودگی میں شوہر ربع [١/٤] کا مستحق ہے . “فاِنۡ کَانَ لَہُنَّ وَلَدٌ فَلَکُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکۡنَ” (سورہ نساء ، آیت ۱۲) (ترجمہ: پھر اگر ان کی اولاد ہو تو ان کے ترکہ میں سے تمہارے لیے چوتھائی ہے.) بیٹی اکیلی ہونے کی صورت میں نصف کی مستحق ہے. “وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ” (سورہ نساء ، آیت : ۱۱) (ترجمہ : اور اگر ایک لڑکی ہو تو اس کا آدھا ہے) اور چچا عصبہ ہوگا. کل ترکہ کو ٤ حصوں میں تقسیم کریں گے ١ حصہ شوہر کو ، ٢بیٹی کو ، اور باقی ١ چچا کو دیں گے. واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب . کتبہ :کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی

Kutubahu & Verified by:

<h2>عورت کا انتقال ہوا اس نے شوہر بیٹی اور چچا کو چھوڑا</h2> <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong> </span> بعد تقدیم ما یقدم علی الإرث و انحصار ورثه فی المذكورين بیٹی کی موجودگی میں شوہر ربع [١/٤] کا مستحق ہے . <span style="color: #ff0000;"><strong>"فاِنۡ کَانَ لَہُنَّ وَلَدٌ فَلَکُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکۡنَ" (سورہ نساء ، آیت ۱۲) </strong></span> (ترجمہ: پھر اگر ان کی اولاد ہو تو ان کے ترکہ میں سے تمہارے لیے چوتھائی ہے.) بیٹی اکیلی ہونے کی صورت میں نصف کی مستحق ہے. <span style="color: #ff0000;"><strong>"وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ" (سورہ نساء ، آیت : ۱۱) </strong></span> (ترجمہ : اور اگر ایک لڑکی ہو تو اس کا آدھا ہے) اور چچا عصبہ ہوگا. کل ترکہ کو ٤ حصوں میں تقسیم کریں گے ١ حصہ شوہر کو ، ٢بیٹی کو ، اور باقی ١ چچا کو دیں گے. واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب . <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ :کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...